آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان کے موبائل سروس کی پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ سروسز پر سندھ سیلز ٹیکس (ایس ایس ٹی) ختم کرنے سے صوبائی حکومت کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا۔یہ بات چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) خالد محمود نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس کو بتائی جوکہ پیر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہوا۔

چیئرمین ایس آر بی نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ موبائل سروس پر ٹیکس کے خاتمہ سے اب تک تقریباً 10 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ رواں مالی سال کے دوران ابتر معاشی حالات کے باعث کارپوریٹ اور سرکاری تشہیر میں کمی سے صوبائی حکومت کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ ملک کی مالی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں، لہٰذہ ایس آر بی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں بہت مطمئن ہوں کہ ایس آر بی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ اجلاس میں ایس آر بی، محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن ، بورڈ آف ریونیو، محکمہ توانائی اور محکمہ مائینز اینڈ منرل کی وصولیوں کا مجموعی جائزہ لیاگیا۔ تمام محکموں نے تقریباً اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک وہ کامیابی سے اسے مکمل کرلیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 19-2018 کے دوران سخت معاشی حالات میں کاروباری اداروں کوپنپنے کا موقع دینے کے لیے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیاگیا، اس حقیقت کے باوجود ایس آر بی آمدن کے مجموعی اہداف کے حصول کو مکمل کرنے جارہا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ ، خالد محمود نے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو 18-2017 کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 18-2017 کئی حوالے سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔اس برس ایس آر بی نے 100 ارب روپے کا ہدف عبور کیا، اس سال میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس میں سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ کمپنیز کے منافع (ورکرز کی شراکت داری) کے فنڈ کے لئے 8 ارب روپے کا مجموعہ شامل ہے کہ ایس آر بی کو حکم دیا گیا ہے کہ صوبے کے لئے لازمی جمع کرنا ہے۔

اس رپورٹ میں چیئرمین ایس آر بی کا کہنا ہے کہ سال کے دوران سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 13 فیصد رہی جوکہ ملک میں کسی بھی ٹیکس ڈومین سے کم ہے، چاہیے وفاقی ہو یا پھر صوبائی۔ کلیکشن کی کاوشوں نے سستی کے حامل اقتصادی بحالی سے چیلجنز کو پورا کیا ہے ، سال کے آخری سہ ماہی میں سیاسی منتقلی کے اثرات سے نمٹنے کے قابل ہیں۔ سندھ حکومت کی مسلسل سپورٹ اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد نے 27 فیصد کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

سالانہ رپورٹ کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن، بندرگاہوں اور آپریٹرز، بینکوں، انشورنس ادارے اور فرنچائیز سروسز اہم شراکت دار رہے۔ بزنس سپورٹ اور لیبر و افرادی قوت سمیت دیگر سروسز کی طرف سے خاصہ وسیع اضافہ کیا گیا ۔ گزشتہ برس میں 63 فیصد کے مقابلے میں کل دس شعبوں نے مجموعی طور پر 57 فیصد حصہ لیا۔ سروسز کے اب تک نافذ کرنے سے بچنے کے لئے مسلسل کوشش کی ضرورت ہے۔دستاویزی شدہ ٹرانزایکشن پر قومی اور صوبائی ٹیکس کے ڈومینز کے ذریعہ دوبارہ تجدید سے

کام کو بڑھانےکے امکانات ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے پالیسی ساز فیصلہ کیا ہے کہ نہ ہی نیا ٹیکس نافذ کریں گے اور نہ ہی 19-2018 کے لئے موجودہ سخت معاشی حالات میں، اسکی وجہ کاروباری اداروں کو ایک جگہ فراہم کرنا ہے۔ اس فیصلہ کا ایک الگ خاکہ ہے ، سال 19-2018 کے لئے 120 بلین روپے کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر چیلنج میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثناء، وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی حکومت کی مالیاتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک محکمہ خزانہ کے اجلاس کی صدارت کی۔صوبائی محکمہ خزانہ کے بجٹ تخمینہ کے مطابق وفاقی حکومت کوموجودہ مالی سال کے دوران 605.3 ارب روپے کی منتقلی کی ہے۔ دس ماہ کے تخمینہ میں 504.4 ارب روپے کی آمدنی ہوئی لیکن انھوں نے سندھ حکومت کو صرف 380 ارب روپے منتقل کیے ہیں اور اس طرح 123.5 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سست روی کا شکار جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کیلیے غیر ترقیاتی اخراجات اور محور ریلیز کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انھوں نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ضوری سروسز پر بجٹ جاری کریں۔

قومی خبریں سے مزید