آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں شہباز شریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی کے کیس میں نیب نے تحریری جواب جمع کرا دیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ شواہد موجود ہیں کہ شہباز شریف اور فواد حسن فواد نے کرپشن کی، شہباز شریف اور فواد حسن فواد نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں اختیارات کا غلط استعمال کیا، شہباز شریف کا پنجاب لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

نیب نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ کمپنی کے بورڈ ممبران کی نامزدگی کر سکتے تھے، کسی شکایت کے بغیر پہلی کمپنی کا آشیانہ کا ٹھیکہ منسوخ کیا گیا، ٹھیکہ منسوخی کے لیے فواد حسن فواد نے لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی پر دباؤ ڈالا، شہبازشریف نے لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کی میٹنگ کی صدارت کی۔

نیب کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے احد چیمہ کو منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کرنے اور پیراگون سے 100 کنال زمین خریدنے کا حکم بھی دیا، فواد حسن فواد نے کامران کیانی سے بذریعہ بینک 55 ملین روپے لیے، شہبازشریف نے کسی شکایت کے بغیردوسری کمپنی کا ٹھیکہ بھی منسوخ کیا۔

نیب کی جانب سے اپنے جواب میں کہا گیا ہے کہ ناقابل تردید کڑیاں موجود ہیں کہ شہبازشریف، فواد حسن فواد اور احد چیمہ نے کرپشن کی،کرپشن کے دستاویزی اور زبانی شواہد موجود ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں