آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا، وزیر صحت، چیئرمین کے ٹی ایچ اور پروفیسر کے ایک دوسرے پر الزامات

پشاور (نمائندہ جنگ) خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاورمیں اجلاس کے دوران تلخ کلامی کے بعد مشتعل ڈاکٹر نے وزیراعظم کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی پر انڈے پھینک دیئے جس پر ہسپتال میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا،صوبائی وزیرصحت ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان کے گارڈز نے ڈاکٹرپر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کرکے اسے لہولہان کردیا،وزیرصحت نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹرنے ان پر بھی حملے کی کوشش کی ہے، واقعہ کے خلاف ڈاکٹروں نے احتجاجا ایمرجنسی سمیت تمام سروسز سے بائیکاٹ کیا، واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اعلامیہ جاری کرکے اسسٹنٹ پروفیسرسرجری ڈاکٹر ضیاءالدین آفریدی کا خیبرمیڈیکل کالج میں داخلہ بھی بند کردیا گیا تھا، ڈاکٹر نوشیروان برکی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں شرکت کیلئے خیبرٹیچنگ ہسپتال پہنچنے جہاں ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسرسرجری ڈاکٹر ضیاءالدین بھی پہلے سے موجود تھے۔واقعہ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر ضیا ءالدین نے کہا کہ ڈاکٹر نوشیروان برکی سے ملاقات کیلئے انہوں نے دوگھنٹے تک انتظار کیاجبکہ اس سے قبل بھی

انہوں نے کئی بار ان سے ملاقات کرنے کی کوشش کی تاہم گزشتہ روز کانفرنس روم میں انہوں نے ڈاکٹرنوشیروان سے احترام سے بات کی کہ انہیں وقت دیا جائے لیکن ڈاکٹر نوشیرواں نے کہا کہ میرے پاس ٹائم نہیں جس پر وہ سخت افسردہ ہوئے اور کینٹین سے چھ انڈے خرید کر ڈاکٹر نوشیروان برکی پر دے مارے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بعد میں وہ کام ختم کرکے نکلے تو وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان ، مشیرصحت ڈاکٹر جواد واصف نے سکیورٹی گارڈزاورپولیس سمیت اچانک پہنچ گئے اور بات شروع کیے بغیر انہیں گالیاں دینا شروع کی اورتشدد کا نشانہ بناکر انہیں لہولہان کردیاجس سے ان کے سراوردیگر ہاتھوں پر چوٹیں آئیں۔ ادھر وزیرصحت ڈاکٹر انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ کے ٹی ایچ میں اجلاس کے اختتام پر متعلقہ ڈاکٹر نے ڈاکٹر نوشیروان برکی پر حملہ کردیا۔واقعہ کے بعد ڈاکٹر تنظیموں کے نمائندے بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچنا شروع ہوئے جہاں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے واقعہ کے خلاف احتجاجاایمرجنسی سمیت تمام سروسزبند کردی،انہوں نے وزیرصحت سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نوشیرواں برکی اوروزیرصحت کیخلاف ایف آئی آر درج کرکے محکمانہ کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وزیرصحت استعفیٰ نہیں دینگے تو احتجاج جاری رہے گا۔تشددسے زخمی ہونے والے ڈاکٹرضیاءالدین کی ایمرجنسی میں مرہم پٹی کی گئی ہسپتال پولیس کیجانب سے واقعہ کی رپورٹ درج کرلی گئی.خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ ، ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ڈاکٹر نوشیروان برکی اور ہسپتال کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر نے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے الزامات عائد کر دیئے۔

اہم خبریں سے مزید