آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭حضرات یا خواتین و حضرات؟

کسی نے بذریعہ برقی ڈاک (یعنی ای میل) سوال کیا ہے کہ اکثر تقاریب میں (اور ذرائع ابلاغ پر بھی) تخاطب کے موقع پر سننے میں آتا ہے ’’خواتین و حضرات !‘‘ ، کیا یہ غلط نہیں ہے؟ اس کا جواب ہے کہ’’خواتین وحضرات ‘‘ کہنا غلط تو نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ’’حضرات ‘‘ کہناکا فی ہے۔

’’ حضرات‘‘جمع ہے’’ حضرت ‘‘ کی اور حضرت کے متعدد معنی ہیں۔حضرت عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مادہ ’’ح ض ر ‘‘ ہے ۔ ’’حضر‘‘ کا مطلب ہے حاضر ہونا ،موجود ہونا۔یہ قربت یا نزدیکی کے معنی میں بھی آتا ہے اور اسی مادّے سے حضور، حاضر، محاضرات ،استحضار اور ماحضرجیسے لفظ بنے ہیں۔’’ماحضر ‘‘ کے لفظی معنی ہیں جو حاضر تھا یا حاضرہو ، جو کچھ تیار ہو۔ اپنے کھانے کو انکسار سے ’’ماحضر ‘‘ یعنی جو کچھ تیار یا حاضر تھا( گویا معمولی کھانا،دال دلیہ) کہتے ہیں، چاہے کتنی ہی شان دار ضیافت ہو اور کتنے ہی پرتکلف کھانے موجود ہوں یہی کہا جاتا ہے کہ ماحضر تناول کیجیے۔ ’’حضر‘‘ کے ایک معنی شہر یا آباد مقام کے بھی ہیں اور یہ مکان یا گھر کے معنی میں بھی مستعمل ہے ۔حضر کے ایک معنی اقامت یاپڑاو یا قیام بھی ہیں،اسی لیے ’’سفر و حضر‘‘ کی ترکیب میں’’ حضر‘‘ سفر کی ضد کے طور پر آتا ہے۔ سفرو حضر کا مطلب ہے سفر ہو یا قیام ، دیس ہو یا پردیس یعنی ہر حالت میں ، ہر وقت۔ جیسے : سفر و حضر میںحضرت کا یہی معمول رہا۔

بہرحال، دیگر معانی سے قطع نظر’’حضرت ‘‘کا ایک مطلب ہے ’’جو حاضر یعنی موجود ہو ‘‘، خاص طور پرکسی معزز شخص کو جو حاضر ہو، مخاطب کرنے کے لیے حضرت کہا جاتا ہے۔کسی محترم شخص کو اس کی غیر حاضری میں بھی حضرت کہتے ہیں۔ تو ’’حضرات ‘‘ کے معنی ہوئے جو لوگ موجودیا حاضر ہیںیعنی حاضرین۔ اس طرح اس کے مفہوم میں خواتین بھی شامل ہو جا تی ہیں اگر وہ محفل میں موجود اور حاضر ہوں ۔ لہٰذا’’ حضرات‘‘ کہناکافی ہوگا اور’’ خواتین و حضرات‘‘ میں خواتین کا لفظ اضافی یا غیر ضروری ٹھہرتا ہے۔اوریہ بات بھی صحیح ہے کہ حضرت کا لفظ احتراماً مرد کے علاوہ خاتون کے لیے بھی درست ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم تعظیماً حضرت مریم ، حضرت بی بی فاطمہ اور حضرت عائشہ جیسی تراکیب عام استعمال کرتے ہیں۔

لیکن عرض یہ ہے کہ زبان میںجو چیزرائج ہوجائے اس کا بدلنا مشکل ہوتاہے اور اب ’’خواتین و حضرات ‘‘اردو میںمکمل طور پر رائج اور مستعمل ہے۔ لہٰذا اسے غلط نہیں کہہ سکتے ۔ہاں یوں کہیے کہ ایسے مواقع پر صرف ’’حضرات‘‘ کہنا بھی کافی ہوگا اور ’’خواتین و حضرات ‘‘ پر ضد نہیں کرنی چاہیے کہ صرف یہی درست ہے۔ اسی طرح صرف ’’حضرت ‘‘ پر بھی اصرار نا مناسب ہے۔ محفل کو مخاطب کرنے کے لیے صرف ’’حضرات‘‘ بھی کہنا درست ہوگا اور ’’خواتین و حضرات ‘‘ بھی۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں