آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسلاموفوبیا کی نئی تشریح انسداد دہشتگردی قوانین کمزور کرسکتی ہے، پولیس چیف

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ کے ایک انتہائی سینئر پولیس افسر نے متنبہ کیا ہے کہ اسلامو فوبیا کی نئی تشریح انسداد دہشت گردی قوانین کو کمزور کرسکتی ہے۔ نیشنل پولیس چیفس کونسل کے چیئرمین مارٹن ہیوٹ کا کہنا ہے کہ جو اصطلاح زیر غور ہے، وہ افسران کے درمیان کنفیوژن پیدا کرے گی جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ برٹش مسلمانوں پر آل پارٹی پارلیمانی گروپ (اے پی پی جی) کی مجوزہ تشریح کے مطابق ’’اسلاموفوبیا‘‘ نسل پرستی کی جڑ ہے اور اس طرز کی نسل پرستی ہے جو مسلمانیت کے اظہار یا مسلمانیت کے طرز فکر کو ہدف بناتی ہے‘‘۔ اے پی پی جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تشریح بڑے پیمانے پر ماہرین تعلیم، وکلا، مقامی اور قومی سطح کے منتخب حکام، مسلم تنظیموں، کارکنوں، کمپینرز اور مقامی مسلم کمیونٹیز سے مشاورت کے بعد بیان کی گئی ہے۔ مسٹر ہیوٹ نے کہا کہ ہم نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرم کی تمام رپورٹس کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان کی اچھی طرح تحقیقات کریں گے مگر ہمیں برٹش مسلمانوں پر آل

پارٹی پارلیمانی گروپ (اے پی پی جی) کی اسلاموفوبیا پر کی گئی مجوزہ تشریح پر کچھ خدشات ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ تشریح کافی وسیع ہے جبکہ موجودہ مسودہ اس پر عمل میں ہمارے افسران میں کنفیوژن کا باعث ہوگا اور اسے اسلامک سٹیٹس کے تاریخی اور دینی اقدامات پرجائز آزادی اظہار کو چیلنج کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ خدشہ بھی ہے کہ اس سے انسداد دہشتگردی کے اختیارات بھی کمزور ہو سکتے ہیں جس کے تحت انتہاپسندی اور دیشتگردی کا خاتمہ مقصود ہوتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ مسلم مخالف دشمنی کی کسی تشریح پر بڑے پیمانے پر مشاورت کی گئی اور جس کو پوری مسلم کمیونٹی کی جانب سے سپورٹ کیا گیا۔اے پی پی جی کی ٹریژریر بیرونس وارثی نے دہشتگردی کے دعویٰ کو ’’ غیر معمولی اور پریشان کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تشریح اسلام پر تنقید نہیں روک سکتی۔ٹائمز اخبار نے ایک افشا ہونے والا خط شائع کیا ہے جس میں مسٹر ہیوٹ نے وزیراعظم سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔بیرونس وارثی نے ٹیوٹر پر کہا ہے کہ انہوں نے کیبنٹ سیکریٹری مارک سیڈول کو خط افشا ہونے کے بارے میں لکھا ہے کیونکہ یہ ایک ’’ قومی سلامتی کا ایشو ہے‘‘۔ نیشنل سیکولر سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو سٹیفن ایوانز نے کہا ہے کہ کئی سیاسی پارٹیوں ،کونسلز اور پبلک باڈیز نے نتائج پر احتیاط سے غور کئے بغیر برٹش مسلمانوں پر آل پارٹی پارلیمانی گروپ کو ہوا میں اڑا دیا اور اسے اسلاموفوبیا کی مبہم اور ناقابل عمل تشریح قرار دیا ہے۔ ’’ اگر حکومت نے یہ تشریح تسلیم کی تو اہم بحث پر پابندی ہوگی کیونکہ سنیئر افسران کی تنقید لوگوں کو محفوظ رکھنے میں پولیس کی اہلیت کمزور ظاہر کرتی ہے۔ہم حکومت اور پبلک باڈیز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تشریح کو تسلیم کرنے میں جلدی نہ کی جائے۔ ہمیں بعض مسلم کمیونٹی رہنمائوں کی عیب جوئی اور خبطی پن کے پیچھے جانے، آزادی اظہار کے خوف اور سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرکے مسلم مخالف دشمنی کا جواب دینے کی درخواست کی مزاحمت کرنی چاہئے۔

یورپ سے سے مزید