آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں 2 ملین سے زائد سمارٹ میٹرز کام نہیں کررہے، ریسرچ

لندن ( نیوز ڈیسک ) برطانیہ میں2ملین سے زائد سمارٹ میٹرز کام نہیں کر رہے جبکہ ریسرچ کے مطابق انرجی کسٹمرز نے ان کی تنصیب کے لئے مسلسل دبائو محسوس کیا تھا۔ٹیلی گراف کے مطابق سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2018کے اختتام تک تقریباً 15 ملین ڈیوائسز نصب کی گئی تھیں جبکہ اس میں سے صرف 12.5ملین آپریشنل ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسٹمرز کے لیئے نصب کی گئی 2.3 ملین ڈیوائسز کام نہیں کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ سمارٹ میٹرز گیس اور بجلی کے متبادل میٹرز کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں اور اس کی ڈیزائننگ میں یہ مقصد سامنے رکھا گیا تھا کہ انرجی کے استعمال کو آسان بنا کر کنٹرول کیا جا سکے۔ان میٹرز میں سکرین پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ رقم کی اصطلاح میں کسٹمرز کتنی بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ بجلی کے استعمال کی معلومات براہ راست انرجی سپلائرز کو مل جاتی ہیں جس کے باعث مینول میٹر ریڈنگ کی ضرورت نہیں پڑتی حکومت کی جانب سے 2016میں 11ارب پونڈز لاگت کے ایک منصوبہ کا آغاز کیا گیا تھا جس کے تحت 2020تک گیس اور بجلی کے موجودہ میٹروں کی جگہ 53 ملین سمارٹ میٹروں کی تنصیب ہونی ہے۔ ستمبر2018 تک انرجی سپلائرز نے برطانیہ میں گھروں میں 13.65 ملین سمارٹ میٹر نصب کئے تھے۔ تا ہم وچ ؟ کی جانب سے کی گئی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ سمارٹ میٹروں کی تنصیب اتنی سست

رفتاری سے کی جا رہی ہے کہ 2020 میں مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کلائمیٹ چینج کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے سمارٹ میٹرز کی تنصیب ایک اہم قدم ہے مگر ٹیکنالوجی تکینکی گتھیاں نہیں سلجھا سکی۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں