آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایڈورڈز کالج سےمتعلق کوششیں قائداعظم کے تصور کے منافی ہیں، ڈاکٹر شیرا

لندن (جنگ نیوز) کونسلر ڈاکٹر جیمز شیرا ستارہ پاکستان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی مدد سے ایڈورڈز کالج کا انتظام سنبھالنے کی گورنر خیبر پختونخوا کی غیرقانونی کوششیں قائداعظم کے تصوراور وزیراعظم کے مساوات اور سب لوگوں کے لئے انصاف کے عزم کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسیحی پہلے ہی 70کے عشرے میں اپنے اداروں کو قومیائے جانے سے سماجی و اقتصادی نقصان اٹھا چکے ہیں کیونکہ اس سے ان کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے ایڈوارڈز کالج کا انتظام سنبھالنے کی حالیہ کوششیں اسی طرح کی کوشش سے کم نہیں، ایڈورڈز کالج 1900ء سے چرچ کا ادارہ رہا ہے اور اسے چرچ سے لینے کی کوئی بھی غیرقانونی کوشش اقلیتی دوست ملک ہونے کی پاکستان کی شہرت کو بھاری نقصان پہنچائیں گی اور نرمی اور رواداری والے پاکستان کی ساکھ کے لئے مددگار نہیں ہونگیں اس سے تعلیم کو فروغ دینے کے وزیراعظم کے ایجنڈے پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔ غیرمسلم پاکستانیوں میں عموماً اور مسیحیوں میں خاص طور پر عدم تحفظ کی علامت کے طور پر دیکھا جانے والا غیرقانونی اقدام پاکستان کے تعلیمی شعبے میں مسیحیوں کی عظیم خدمت کو نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور عدلیہ واقعہ کا فوری نوٹس لیں جو توہین عدالت کے مترادف ہے کیونکہ ہائی کورٹ پشاور واضح طور پر

کالج کو پشاور کے بشپ، چرچ آف پاکستان کا ادارہ قرار دے چکی ہے۔ ڈاکٹر شیرا نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسیحی سخت تشویش کا شکار ہیں اور اپنا احتجاج برطانیہ اور پاکستان کی تمام سطحوں پر رجسٹر کرائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں