آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
برلن (اے پی پی) جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے ایک یورپی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ ہیکوماس نے کہا ہے کہ یورپی یونین ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کی خواہاں ہے اور ہم چاہتے کہ تہران بھی بقول ان کے جارحانہ رویہ اختیار نہ کرے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یورپی یونین اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو آگے بڑھانے میں پوری دلچسپی رکھتی ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایوے لئے دریان نے بھی ایران کے جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کو برا ردعمل قرار دیتے ہوئے تہران سے اپیل کی کہ وہ سیاسی بلوغت کا مظاہر کرتے ہوئے جامع ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری رکھے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے میں شریک تمام فریقوں سے بھی اپیل کہ وہ بھی ایٹمی معاہدے پر عمل کریں حتی امریکہ بھی اس پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے امریکی علیحدگی کی بابت صدر ٹرمپ پر نکتہ چینی کی۔جان ایوے لیے دریان نے کہا کہ بعض لوگ اس سوچ کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملکوں کے تعلقات تعاون کی بنیاد سے عاری ہو جائیں اور ان

کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو جائے اور یہ سوچ پورے عالمی نظام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ایٹمی معاہدے کی اہمیت کے بارے میں جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی ٹرائیکا یعنی جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے تاحال اس بین الاقوامی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے کوئی بھی عملی اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں