آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سمیت کئی ممالک میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیمز سےاربوں ڈالرجمع ہوئے

لاہور(صابرشاہ) 40ماہ کےدوران ایک سٹرکچرل ریفارم ایجنڈانافذ کرنےکیلئےوزیراعظم عمران خان کی زیرِقیادت حکومت کےانٹرنیشنل مانیٹری فنڈکےساتھ معاہدہ طےپانےکےچنددن بعد وفاقی کابینہ نےایک ٹیکس ایمنسٹی سکیم،جواثاثےظاہرکرنےکی سکیم ہے،کی منظوری دے دی ہے،اگرچہ سرکاری عہدوں پربیٹھےافسران کو اس سکیم سےفائدہ اٹھانےکی اجازت نہیں ہوگی یہ قابلِ افسوس ہے کہ سوئس بینکوں اور دیگر چھ جگہوں سےلوٹی ہوئی دولت کو واپس لانےکیلئےمضبوط قوانین بنانےکی بجائےحکمران پاکستان تحریک انصاف بھی اپنے اُن پیشروں کے نقشِ قدم پر چل رہی ہےجنھوں نے اس طرح کے اقدامات کیےتھے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ دنیاکےاِس حصےمیں تاریخی طورپراس طرح کےسارےاقدامات ہی ناکام ہوئے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں ٹیکس ایمنسٹی سکیمز سےاربوں ڈالرجمع ہوئےبھارت میں 9.8ارب ڈالر جمع , اٹلی میں80ارب یوروکےاثاثےسامنےآئےاور4ارب یوروکی ٹیکس آمدنی ہوئی پاکستان میں پیسوں کوصاف کرنےکی سکیموں کی ایک مختصرجھلک: پاکستان نے اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایوب خان کےدور میں 1958میں پیش کی تھی، اس کےبعد سے بھی نہ صرف بلیک اکانومی اور ٹیکس نہ دینےکاسلسلہ چھ دہائیوں تک چلتا رہابلکہ لوٹ مار بھی چلتی رہی۔ 1958کےاس اقدام سے تقریباً71ہزارڈیکلیریشن ہوئے اور266183 ٹیکس

پیئرز ٹیکس نیٹ میں داخل ہوئے، اور قومی خزانے کو12ارب روپے حاصل ہوئے۔ اس کے باوجود ٹیکس کلیشن 1958-59میں کل جی ڈی پی کاصرف دس فیصد ہی رہی۔ 1997کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ذریعے14کروڑ 20لاکھ سے زائد روپےجمع کیےگئے۔ سال2000والی ایمنسٹی سکیم جنرل مشرف کی زیرقیادت حکومت میں شروع کی گئی تھی۔ تقریباً 79200ڈیکلیریشن دائر کیے گئے، اورقومی خزانے میں 10ارب روپے جمع ہوئے۔ 2001میں ایک ٹیکس ایمنسٹی سکیم جو’انوسٹمنٹ ٹیکس آن انکم‘ کہلائی، جوانکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 120A کےتحت لائی گئی تھی، اس کے تحت سہولت دی گئی کہ صرف2فیصد اداکرکےاُس رقم اور اثاثوں کوصاف کرلیں جس پرٹیکس کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ یہ کاوش بے کارثابت ہوئی کیونکہ صرف ڈھائی ارب روپے جمع ہوئےتھے۔ 2008کےدوران اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں عہد کیاتھا کہ ’’ٹیکس ایمنسٹی سکیم 2008‘‘ کےبعد کوئی بھی ایمنسٹی سکیم متعارف نہیں کرائی جائےگی، یہ نقادوں کیلئے ایک لالی پاپ تھا۔ تاہم پی پی پی حکومت نے اپریل 2012میں یہ ہی پیش کش سٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کوبھی دے دی تھی اور مئی اور جون2012کےدوران ٹیکس نہ دینےوالوں کو ہر قسم کی رعایت دے دی گئی تاکہ بجٹ کا 1952ارب روپے کا ہدف حاصل کیاجاسکے۔ اگرچہ یہ ہدف پورا نہ ہوسکا اور صرف 70ارب روپے تک ہی جمع ہوئے۔ 2013میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پیسہ صاف کرنے کی سکیم متعارف کرائی، جو صرف ملک کے اندرموجود اثاثوں کیلئے تھی۔ یہ سکیم بنیادی طوپر پر گاڑیاں درآمد کرنے والوں کیلئےتھی جو ٹیکس دیئےبغیر ہی گاڑیاں ملک کے اندرلائےتھے۔ 2016کی سکیم میں صرف 10ہزار ڈیکلیریشن ہی ہوئے اور صرف 85کروڑ روپے ہی حاصل ہوسکے۔ تحقیق سے مزید پتہ لگتاہےکہ نومبر2016میں قومی اسمبلی کے پینل نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیوکی مخالفت کےباجوداُس 7کھرب روپے کی بلیک منی کو صاف کرنے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی منظوری دی جو رئیل اسٹیٹ میں انوسٹ کی گئی تھی۔ اگرچہ اس سکیم کو وزارتِ خزانہ کی ناکامی کےطورپردیکھاگیا، جس نے لوگوں کو جائیدادوں پر ٹیکس اداکرنےپرمجبورکیا، قومی اسمبلی نے یہ سکیم رئیل سٹیٹ سیکٹرکیلئےیکم دسمبر 2016جومنظورکی تھی۔ پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے ٹیکس وصولی کی بجائے صرف تین فیصد ٹیکس اداکرکےبلیک منی کوسفید کرنے کی مںظوری دی تھی۔ اپریل 2018میں اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےٹیکس نہ دینےوالوں کو صاف ہونےکاایک موقع دیاتھااسے ایک انتہائی نرم ٹیکس ایمنسٹی سکیم کہاجاسکتاہے۔ 30جون 2018تک تقریباً5ہزار افرادنے پاکستان میں ریٹرنز فائل کیے اوراپنے غیرملکی اثاثےظاہرکردیئےاور تقریباً80ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع ہوئے۔ یہ سکیم پی ایم ایل(ن) حکومت کی جانب سے شروع کی گئی تھی اور پارلیمنٹ نے مظوری دی تھی اس کا مقصد تھا کہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھایاجائے جو اس وقت 10ارب ڈالر کے قریب تھے جو بمشکل دوماہ کے برآمدات کیلئے ہی کافی تھے۔ جہاں تک 2018کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا تعلق تھا تو’’جنگ گروپ اور جیوٹیلی ویژن نیٹورک‘‘ کی جانب سے کی گئی تحقیق سےپتہ لگتاہےکہ اس سکیم کااشارےنااہل ہونےوالے وزیراعظم نواز شریف نےجنوری 2017میں ایک برآمدات کی تقریب جو فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹرینے منعقد کی تھی۔ نوازشریف نےکراچی میں بڑے صنعتکاروں کویقین دہانی کرائی تھی کہ اپنے وزیرِخزانہ اسحاق ڈار سے ایک ون تائم ایمنسٹی سکیم کےبارے میں بات کریں گے۔تاہم قسمت ایسی تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سےنواز شریف کو28جولائی 2017کونااہل کردیاگیا۔ صرف 12لاکھ فائلرز اور 7لاکھ ٹیکس دینےوالے افراد کے ساتھ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بنیادی طورپر اُن پاکستانی شہریوں کیلئے ایمنسٹی سکیم کااعلان کیاجنھوں نے ٹیکس اتھارٹیز کو اثاثےظاہر نہیں کیےتھے۔ تحقیق سے پتہ لگتاہےکہ بہت سے ممالک نے کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے ایسی سکیمیں شروع کیں اور انھیں کافی فائدے حاصل ہوئے۔ اس حوالے سے یہاں کچھ ایسی مثالیں پیش کی جارہی ہیں: 2اکتوبر 2016کی ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کی رپورٹ میں کہاگیا: بھارت میں ٹیکس نہ دینےوالوں کیلئے ایک چار ماہ کی ایمنسٹی سکیم سےتقریباً10ارب ڈالر مالیت کے پوشیدہ اثاثے ظاہر کیے گئے، حکومت نےکہا کیونکہ یہ غیرقانونی کالے دھن‘‘ پرکریک ڈائون کااپناایک الیکشن مہم کےدوران کیاگیا وعدہ پورا کرنا چاہتی تھی۔ انکم ڈیکلیریشن سکیم جو جون سے ستمبر تک چلی، اس کے تحت شہریوں کوبغیر کسی سزاکےپوشیدہ اثاثے ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے پر 45فیصد چارج کیےگئے، یہ وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے کرپشن پرقابوپانےکی مہم کا ایک متنازع اقدام تھا۔ وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے رپورٹرزکوبتایاکہ سکیم کےتحت 625.5ارب روپے (9.8ارب ڈالر)کےاثاثےظاہرکیےگئے تھے، جس سے سرکاری ریوینیومیں 294ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ایمنسٹی سکیم میں 64275ڈیکلیریشنز ہوئے۔ یہ اقدام میں 1997میں اسی طرح کے اقدام کی پیروی کی گئی تھی جس سے 97.6ارب روپے کاریوینیوحاصل ہوا۔ لیکن جیٹلی نے کہاکہ حالیہ اقدام ٹیکس نہ دینےوالوں کیلئے سخت تھا کیونکہ سابقہ اقدام میں کم مالیت کے اثاثوں پر ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی۔ یہاں یہ امرقابلِ ذکر ہے کہ 1997میں سول سوسائٹی نے اس پر اعتراض کیاتھا اور کویہ تجویز واپس لینےکاکہاتھا۔ تاہم سکیم کو نافذ کردیاگیاتھا۔ بھارت میں اب تک 15ایسی سکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ’’فنانشل ٹائمز‘‘ نے مزید لکھا:’’ایک پراپرٹی ریسرچ کمپنی لیسز فورازنے2014میں تخمینہ لگایا کہ بھارت میں 30سے40فیصد رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز غیرقانونی کیش پیمنٹ سے ہوتی ہیں۔ ٹیکس کی عدم ادائیگی میں کمی لانے پر مودی حکومت کی ساکھ بہتر ہوگی، جس نے 2014کے منشور میں اسے ایک اہم کام کے طورپرشامل کیاتھا۔ امریکاسےکام کرنےوالے گروپ گلوبل فنانشل انٹیگریٹی نے تخمینہ لگایا تھاکہ 2002اور2011کےدرمیان بھارتیوں نے 343ارب ڈالر کے اثاثے باہر منتقل کیےتھے۔کئی امریکی ریاستوں میں ٹیکس ایمنسٹی سکیمیں جاری ہے ، مثال کے طور پر، لاس اینجلس انتظامیہ نے اپنے 2009 کے ٹیکس ایمنسٹی پروگرام میں 86 لاکھ ڈالر جمع کیے اور دعوی کیا کہ رقم توقع سے کہیں زیادہ تھی اور کاروباری اداروں نے 6 کروڑ ڈالر جرمانےدے کر بچایا. لوئسیانا نے اپنے 2009 ٹیکس کے عیسائیت پروگرام سے 45کروڑ ڈالر جمع کیا جو متوقع سے تین گنا زیادہ تھا، 26 جون، 2012 کوامریکا کے انٹرنل ریوینیو سروسز (آئی آر ایس) ٹیکس جمع کرنے والی ایجنسی نے بتایا کہ رضاکارانہ طور پر آف شوراثاثے ظاہر کرنے کے پچھلے دو پروگراموں کے تحت 33000ہزار سے زائد کیسوں میں ٹیکس اور سزاوں میں 5 ارب ڈالر سے زائد جمع کیے گئے ۔ کینیڈا میں، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا نام "رضاکارانہ اثاثے افشاء کرنے والا پروگرام" ہے. کینیڈا ریوینیو ایجنسی نے 10 سالہ مدت کے لئے یہ سہولت دے رکھی ہے۔یہ قانون غیر قانونی ٹیکس کی واپسی اور غیر منقولہ اطلاعات سے متعلق احاطہ کرتا ہے اس طرح کے غیر معمولی اثاثہ شکل کے طور پر بدل جاتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ ٹیکس سے بچنے کے کسی بھی ممکنہ مقدمے سے بچنے سے والے یا مستثنی ٹیکس دہندگان کو مکمل سزا ملتی ہے،بیلجیم میں 2004 کے دوران ایوان نے قانون پاس کیا اور شہریوں کویکم جون 2003 سے غیر ظاہر شدہ اثاثوں کو ٹیکس دیکر ریگولرائز کرانے کی اجازت دی گئی ،2004میں جرمنی نے ٹیکس کی چوری کے مقدمات میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم شروع کی ، 2017 میں سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا نے ایمنسٹی سکیم سے 9.61بلین ڈالر جمع کیے کا،پہلے ملک نے 1964، 1984 اور 2008 میں اس طرح کے پروگرام دیئے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں