آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (اے ایف پی) پاکستان میں چین کی فنڈنگ سے بڑے پیمانے پر تیار کیا جانے والا انفراسٹرکچر ان دنوں بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں کا ہدف بنتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حملے بیجنگ کے اشتعال کا سبب بن سکتے ہیں۔بلوچ علیحدگی پسندوں کی طرف سے اختتام ہفتہ پر گوادر کے ایک لگژری ہوٹل پر کیا جانے والا حملہ، حالیہ بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا، جس کی کڑی کئی بلین ڈالر مالیت کے حامل چائنہ - پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) سے ملتی ہے۔ ہفتہ 11 مئی کو گوادر کے ہوٹل پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی تھی۔ اس تنظیم کے ایک ترجمان کے مطابق اس حملے کا نشانہ چینی اور پاکستانی سرمایہ کار تھے جو گوادر بندرگاہ پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں