آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مظفر الحق

جب بھی پاکستان کے کامیاب ترین اسٹیج ڈراموں کی تاریخ لکھی جائے گی تو بے سروسامانی کے دورِ تخلیق اور پیشکش کے باوجود بے مثال مقبولیت اور بے پناہ کامیابی حاصل کرنے والے کھیلوں میں خواجہ معین الدین کے ڈرامے تعلیم بالغان، مرزا غالب بندر روڈ پہ اور لال قلعے سے لالوکھیت سرفہرست لکھے جائیں گے۔ لالوکھیت (جو اب لیاقت آباد سے موسوم ہے، اب بھی ذہنوں میں لالوکھیت ہی کے نام سے رچابسا ہے۔ اس کی حثیت سماجی، سیاسی اور ادبی لحاظ سے کراچی میں منفرد اور اہم رہی ہے۔ ابراہیم جلیس نے اس پر اپنا مشہور کالم ”ہم بھی لالوکھیت میں اور تم بھی لالوکھیت میں“ لکھا تو کہا کہ کراچی میں فی مربع گز شاعر و ادیب سب سے زیادہ لالوکھیت میں رہتے ہیں۔ مزاحیہ اداکار عمرشریف نے لال قلعے کی رانی اور لالوکھیت کا راجہ نامی ڈرامہ تخلیق کیا، اور ویسے بھی ان کے اکثر ڈراموں اور مکالموں میں کہیں نہ کہیں کودتا پھاندتا، پتھراو ٔکرتا لالوکھیت گھس ہی آتا ہی، کیوں کہ ان کی پرورش بھی اسی علاقے میں ہوئی ہے۔ کبھی کراچی کے مضافات اور اب پھلتے پھولتے اور پھیلتے ہوئے شہر کے قلب میں آجانے والی یہ آبادی جو درمیانی، نچلے درمیانی اور غریبوں پہ مشتمل ہے، شہر کی علمی، ادبی، سیاسی اور کھیلوں میں نمایاں اور ممتاز نظر آنے والی شخصیات کی رہائش اور پرورش گاہ تھی۔ اس بستی کے جنوب اور مشرق میں گھومتی بل کھاتی لیاری ندی قدرتی حد بناتے ہوئے اسے پیرالٰہی بخش کالونی، نشتر روڈ اور گلشن اقبال سے جدا کرتی ہے، تو مغرب کی جانب گجر نالہ اسے ناظم آباد سے علیحدہ کرتا ہے، شمال میں سڑک پار کرتے ہی فیڈرل بی ایریا شروع ہوجاتا ہے ۔

تین ہٹی کے پل سے آنے والی سڑک اسے شرقاً غرباً دو برابر کے حصوں میں تقسیم کرتی ہے تو ناظم آباد سے گجرو نالہ کے اوپر سے آتی ہوئی شارع اسے شمالی جنوبی دو حصوں میں بانٹتی ہوئی گزرتی ہے۔ شمالی حصہ جو ناظم آباد ختم ہوتے ہی گجرنالہ سے شروع ہوتا ہے تو لیاری ندی تک گلشن اقبال کی حدوں کو چھوتا ہے، اس کے آغاز ہی میں گورنمنٹ سیکنڈری اسکول ہے جو کسی زمانے میں یہاں کا اکلوتا گورنمنٹ سیکنڈری اسکول تھا۔ اسی علاقے میں قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اصلاح الدین جو اولمپین بنے تھے انہوں نےاسی اسکول کی ہاکی ٹیم سے قومی ٹیم تک کا سفر طے کیا۔ یہاں سے ذرا آگے ہی عالمی شہرت یافتہ قوال حاجی غلام فرید صابری مرحوم ان کے بیٹے امجد صابری مرحوم ک کی رہائش گاہ ہے۔

ایک اسکول کے ساتھ مسجد کے ساتھ سے جو سڑک مرکزی امام بارگاہ، ایرانی ریسٹورنٹ اور فرنیچر مارکیٹ کی طرف رخ کیے ہوئے ہے، اسی سڑک پہ ذرا اور آگے بڑھ جائیں تو شاہجہاں پوریوں کا محلہ ہے۔یہاں سے قدم بہ قدم چلتے جائیں تو مسجد بلال ہے ،جس کے ساتھ والی گلی میں کبھی وفاقی شرعی عدالت کے جج مفتی شجاعت علی قادری اور مولانا سعادت علی قادری کا قیام ہوا کرتا تھا اور ساتھ ہی ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق بھی رہتے تھے۔ یہیں مرکزی امام بارگاہ سے متصل اس زمانے کا لالوکھیت کا ایک ہی سلیقے کا ریستوران کیفے دولت تھا، جہاں عام دنوں میں ادبی اور سیاسی شخصیات چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتی تھیں۔ لالوکھیت کے اسی حصے میں سپر مارکیٹ ہے ۔

اسی سپر مارکیٹ کے پیچھے کالم نگار، عالم اور حافظ بشیر احمد غازی آبادی کا مسکن، ساتھ میں سید علی کوثر کی عوامی بیٹھک اور ایوب خان کی مسلم لیگ کا دفتر تھا، جہاں رات گئے تک محفل جمتی تھی۔ سپر مارکیٹ کے سامنے سے سڑک پار کرتے ہی پیٹرول پمپ ہے۔ یہاں سے سیدھے چلیں المعروف مٹکے والے قوال اور سامنے کے حصے میں قوس بناتی ہوئی گلی میں اصلاح الدین اور ہاکی کے ایک دوسرے اولمپک کھلاڑی عارف بھوپالی کا گھر تھا۔

وہیں طیبہ مسجد کے سامنے تاریخ سندھ کے مصنف نادرِ روزگار شخصیت اعجازالحق قدوسی نے اپنی تحقیقی اورعلمی زندگی گزاری اور وہیں آخری سانس لے کر رخصت ہوگئے۔ روزانہ شام ڈھلے جب پشت پہ ہاتھ باندھے سفید کرتے پاجامے میں ملبوس یہ باریش عالم ٹہلتا تھا تو کوئی اسے ذرا بھی اہمیت نہ دیتا، لیکن یہ وہ لوگ تھے جو مقصد کی دھن میں مگن اپنے کام میں لگے رہتے۔ ”نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا۔

وہیں ذرا آگے نرسری کے سامنے بہار کوٹی کی محفلِ شعر و سخن روز کا معمول تھا۔ شام ہوتے ہی کھلے قطعہ میں چھڑکاؤ کے بعد کرسیاں لگ جاتیں اور شعرا ءکی آمد شروع ہوجاتی ۔اسی راستے پہ چلتے جائیں تو اس کے ایک جانب ہاکی کے اولمپک کھلاڑی سید شاہد علی اور پروفیسر نثار، غزل کے گلوکار سید آصف علی، کے مکانات تھے۔ آگے وہ محلہ ہے جس میں مشہور شاعر جاذب قریشی، جاسوسی ناول نگار ایچ اقبال اور عمرشریف کی رہائش گاہ تھی۔

یہیں قمر بھائی لائبریری تھی،جس پر​سید شاہد علی اولمپین، غزل سنگر آصف علی اور کتنے ہی لوگوں سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ لیاقت آباد یا لالوکھیت جو کبھی کراچی کی سیاسی زندگی کا اعصابی مرکز ہوا کرتا تھا وہ آج بھی کسی ہنگامہ آرائی میں ”وحشت نہ گئی اپنے جنوں کی“ کی تصویر بن جاتا ہے۔

ڈاک خانہ اور لیاقت آباد تھانہ سے لے کر الاعظم اسکوائر کی حد تک اس کی کپڑا مارکیٹ اور خور ونوش کی اشیاءکی تھوک مارکیٹ بہت بڑا تجارتی اور کاروباری مرکز ہے، وہیں ڈاک خانہ کی چورنگی کے اطراف کباب اور نہاری سے لے کر مچھلی اور ربڑی تک لذتِ کام و دہن کے لیے سب کچھ دستیاب ہے۔ غروب آفتاب کے بعد یہاں کبابوں کی خوشبو اور کٹاکٹ کا شور نہ چاہتے ہوئے بھی قدموں کو روک لیتا ہے۔ یہیں نایاب جامع مسجد کے پہلو میں وہ ریسٹورنٹ ہے، جس کی ایک میز کے ساتھ دیوار پر چھوٹے صالح محمد قوال اور دوسری پر حاجی غلام فرید صابری کے وہاں ملنے اور سریرآرائے محفل ہونے کے اوقات درج تھے۔ اس بستی کا نصف ثانی یا جنوبی حصہ فردوس کالونی کے پار سے شروع ہوتا ہے ،جہاں لیاقت آباد کا وہ شہر خموشاں ہے ،جس میں جانے کتنے گنج ہائے گراں مایہ آسودہ خاک ہیں اور جہاں کی بے ترتیب قبروں کی آغوش میں کتنے ہی نامور نام و نمود سے بے نیاز ابدی نیند سورہے ہیں۔

اثناءعشری مسجد کے مقابل دوسری جانب استاد قمر جلالوی کا مسکن تھا، جن کے بغیر شہر کی ہر محفلِ مشاعرہ پھیکی سی لگتی تھی۔ لالوکھیت تھانے کی طرف چلیں تو آخری کونے کے سرے پر کیفے حیات تھا جو اپنی وسعت کے لحاظ سے منفرد تھا اور جس کے طویل ہال میں غروب آفتاب کے بعد سے پو پھٹے تک شاعروں اور صحافیوں کے آنے جانے اور بحث و تکرار کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ جناب سرور سنبھلی کی میز سب سے زیادہ آباد رہتی جہاں محمد نیاز، کرّار نوری، انوار عزم، نازش حیدری، عارف سنبھلی، نقاش کاظمی، عشرت انجم اور اشرف شاد نظر آتے تھے۔ ان دنوں دو آنے کی چائے ملتی تھی اور سرور سنبھلی ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر، زیادہ تر یہ بوجھ ان ہی کی جیب ہلکی کرتا تھا۔ یہ بے فکروں کی محفل تھی۔

یہاں سے مزید آگے سندھی ہوٹل کی طرف چلیں تو بلوچوں کی مختصر سی بستی ناگمان ولیج کے ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کے قریب ہاکی کے اولمپین کھلاڑی حنیف خان کا گھر تھا ۔

وہیں حکیم شہزاد احمد کا مطب تھا جو شاید سن پچاس کی دہائی سے قائم و دائم رہا۔ طویل قامت، جناح کیپ لگائے اور گھنی مونچھوں کے نیچے دلکش مسکراہٹ حکیم صاحب کی شناخت تھی۔ اسی لالوکھیت میں کراچی کی مزدور انجمنوں کے بیشتر رہنما رہائش پذیر تھے اور شہر کی سیاسی و سماجی زندگی میں ہلچل یہیں سے شروع ہوتی تھی۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم کہا کرتے تھے: تعلیم بڑھ رہی ہے، علم گھٹ رہا ہے۔ سو لالوکھیت کی آبادی بڑھ گئی، پھیلاو ٔزیادہ ہوگیا، مگر وہ لوگ نہ رہے جو اس کی شان اور پہچان تھی، کچھ مرگئے کچھ وہاں سے نکل گئے، لیکن جو وہاں سے نکل گئے لالوکھیت ان میں سے نہیں نکل سکا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں