آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ راؤ انوار پولیس افسر ہیں بیرونِ ملک کیوں جانا چاہتے ہیں، کیا ان کا بیرون ملک کاروبار ہے؟

سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی درخواست عدالتی فیصلے کے ساتھ دوبارہ دائرکرنے کا حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے وکیل نے دوران سماعت کہا کہ کورٹ نے نقیب اللہ کے قتل کا نوٹس لیا تھا، راؤ انوار عدالت میں پیش ہوئے تھے، عدالت نے انہیں ضمانت دی تھی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کا ایک طریقہ ہے،آپ کہتے ہیں کہ ضمانت پرہیں تو نام ای سی ایل سے بھی نکالا جائے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ راؤ انوار پولیس افسر ہیں تو بیرون ملک کیوں جانا چاہتے ہیں، کیا بیرون ملک ان کا کاروبار ہے؟

راؤ انوار کے وکیل نے جواب دیا کہ راؤ انوار کو فیملی سے ملنے کے لیے جانا ہے، اس ضمن میں پرویز مشرف کیس کی مثال آپ کے سامنے ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا راؤ انوار کے خلاف کوئی اور ایف آئی آر ہے یا انکوائری چل رہی ہے؟

وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ 444 لوگوں کے قتل کے حوالے سے بہت سے چیزیں چل رہی ہیں،راؤ انوار کے خلاف نیب میں اثاثوں سے متعلق انکوائری ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید