آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کشمیر کونسل یورپ (ای یو) نے مسئلہ کشمیرپر اپنی ایک ملین دستخطی مہم کے سلسلے میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا  میں جمعرات کو ایک روزہ کیمپ لگایا۔

دارالحکومت کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک اس مہم کے دوران خراب موسم کے باوجود بڑی تعداد میں پولش باشندوں نے دستخط کرکے مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی ظاہر کی۔

وارسا میں ایک روزہ دستخطی مہم کے دوران چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید کو تحریک کشمیر پولینڈ کے صدر سجاد علی خان اور سینئر عہدیدار محمد عدنان صفدر اور دیگر شخصیات کی معاونت حاصل تھی۔

یورپ میں کشمیرکونسل ای یوکی طرف سے ایک ملین دستخطی مہم ایک عرصے سے جاری ہے۔ ابتک اس مہم کے دوران جس کا آغاز چند سال قبل بلجیم سے ہوا تھا، یورپ کے متعدد ممالک میں لوگوں سے کشمیریوں کی حمایت میں دستخط لئے جاچکے ہیں۔ اس مہم کو یورپی ممالک میں متعدد مقامی این جی اوز اور سماجی کارکنوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔    

چیئرمین کشمیرکونسل ای یوعلی رضاسید جو مہم کے منتظم بھی ہیں، نے وارسا میں ایک روزہ کیمپ کے اختتام پربتایاکہ آج کی مہم کے دوران لوگوں کا ردعمل بہت سے حوصلہ افزا تھا۔ بہت سے لوگوں نے کشمیر کے بارے میں کافی دلچسپی ظاہر کی۔ کئی ایسے تھے جو تنازعہ کشمیر کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور کچھ ایسے تھے جو صرف جنوبی ایشیاء بشمول کشمیر کے بارے میں تھوڑا بہت آگاہ تھے۔

علی رضا سید نے کہا کہ یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایک ملین دستخط مکمل نہیں ہوجاتے۔ انہوں نے بتایاکہ اس سے قبل یورپ میں جہاں جہاں بھی کیمپ لگائے گئے ، لوگوں نے کافی دلچسپی ظاہرکی اور ہمیں بہت پذیرائی ملی۔ 

یادرہے کہ اس ایک ملین دستخطی مہم کا مقصد یورپی ممالک سے دس لاکھ دستخط جمع کرکے مسئلہ کشمیرخصوصاً مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے معاملے کو یورپی پارلیمنٹ کے اندر پیش کرناہے تاکہ اس تنازعے کو زیادہ سے زیادہ اجاگرکیاجاسکے اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارتی مظالم کو روکاجاسکے۔ 

چیئرمین کشمیرکونسل یورپ علی رضاسید نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے حالیہ بھارتی انتخابات کو ایک بار پھرسختی سے رد کیا ہے۔ مظلوم کشمیری عوام کا ردعمل یہ بتاتا ہے کہ وہ رائے شماری کے بغیر کوئی دوسرا حل نہیں چاہتے۔ طاقت کے زور پر بھارت نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بھی کشمیری بھارتی انتخابات کو قبول کرلیں لیکن کشمیریوں نے ان انتخابات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ وہ صرف اپنا حق خودارادیت چاہتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ وادی میں بے گناہ لوگوں کاماورائے عدالت قتل عام، نوجوانوں اور سیاسی رہنماؤوں کی بلاوجہ گرفتاریاں اوربے جا گھرگھرتلاشی جیسے بہیمانہ اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے درخواست کی کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوائیں اورمسئلہ کشمیرکے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پرامن حل کے لیے اقدامات کریں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید