آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

IMF کیساتھ معاہدہ، ارکان کابینہ تفصیلات سے لا علم

انصار عباسی

اسلام آباد :… کابینہ ارکان آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے لا علم ہیں۔ وزارتی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ وفاقی وزیروں کو آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے متعلق بریفنگ دی گئی ہے اور نہ ہی کابینہ ارکان کو معلوم ہے کہ معاہدے کی شرائط کیا ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں کیا شامل ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ارکان کابینہ کو اس معاہدے کے حوالے سے کوئی بریفنگ دی گئی ہے تو انہوں نے کہا ’’نہیں‘‘۔ وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہیں آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی تفصیلات معلوم ہیں تو انہوں نے کہا ’’نہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس موضوع پر کابینہ ارکان کو بریفنگ نہیں دی گئی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس میں کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے رائے دی کہ وزیروں کو اس معاملے پر بریفنگ ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط نہیں ہوئے اسلئے آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے منظوری ملنے سے قبل وفاقی کابینہ کے ارکان کو اس پر بریف کیا جائے گا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں بالکل بھی نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف ڈیل میں کیا ہے، لیکن اس کے باوجود وزیروں اور ترجمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ میڈیا کے ساتھ بات چیت اور ٹی وی پروگرامز میں ڈیل کا دفاع کریں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وزیروں کو ڈیل کی تفصیلات بتائی گئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے کیونکہ انہوں نے کابینہ کے دو گزشتہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی۔ درانی نے کہا کہ وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر ہی اس صورتحال پر وضاحت دے سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت اپوزیشن جماعتیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ معاہدے کے متعلق تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں اس وقت یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے اعلیٰ فیصلہ ساز حکومتی ادارے سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیلئے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی اسے اعتماد میں لیا گیا اور اب آئی ایم ایف اعلان کر چکا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے۔ 12؍ مئی کو آئی ایم ایف نے اعلان کیا کہ پاکستان کے ساتھ تین سال کیلئے معاشی پالیسیوں پر اسٹاف لیول کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف ٹیم کے درمیان 39؍ ماہ کے توسیعی انتظامات (ایکسٹینڈڈ فنڈ ارینجمنٹ) کے تحت 6؍ ارب ڈالرز کی فراہمی کیلئے اسٹاف لیول معاہدہ ہو چکا ہے۔ اسی دوران سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خزانہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی کا آئندہ اجلاس 22؍ مئی کو طلب کرکے وزارت خزانہ سے 2؍ اہم موضوعات پر بریفنگ طلب کی ہے۔ ان میں سے ایک آئی ایم ایف سے ملنے والا بیل آئوٹ پیکیج ہے جبکہ دوسرا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی تجاویز پر عملدرآمد پر تازہ ترین معلومات۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمانی کمیٹی کا حق ہے اسے آئی ایم ایف کے پروگرام پر بریفنگ دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے یہ ان کا عزم تھا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تفصیلات قائمہ کمیٹی میں پیش کریں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ وزارت خزانہ کمیٹی ارکان کو ایسے موقع پر مطلوبہ تفصیلات فراہم کرے گی یا نہیں جب کابینہ کے وزیروں کو بھی تفصیلات کا علم نہیں۔

اہم خبریں سے مزید