آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (حنیف خالد) کیکڑا ون کنسورشیم نے DRILL STEM TESTING ڈرل سٹیم ٹیسٹنگ کی تیاری شروع کر دی ہے جو تین سے پانچ روز جاری رہے گی۔ ایگزان موبائل (امریکہ) ‘ای این آئی (اٹلی)‘ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ‘ آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ماہرین ڈرلنگ شپ پر ہی یہ ٹیسٹنگ شروع کرا رہے ہیں جس سے یہ پتہ چلے گا کہ 5470میٹر کی ٹارگیٹڈ (TARGETED)ڈرلنگ سے جو مڈ اور ملبہ تین مختلف ہائیڈرو کاربن زونوں سے نکلا ہے ان میں کتنی گیس اور کتنا تیل کا ذخیرہ ہے‘ اسکے علاوہ ٹیسٹنگ کے دوران کوالٹی آف گیس اور کوالٹی آف آئل کا بھی تخمینہ لگے گا۔ اس ڈرل سٹیم ٹیسٹنگ سے یہ نتیجہ بھی سامنے آئے گا کہ آیا کیکڑا ون ریزرو وائر سے کم و بیش 10ارب ڈالر کا ذخیرہ موجود ہے کہ نہیں۔ اگر موجود ہے تو پھر کنسورشیم 233کلومیٹر چار یا چھ انچ قطر کی پائپ لائن ڈالے گا جس کی لاگت کا تخمینہ 2ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ گیس یا آئل پائپ لائن بچھانے میں پانچ سال سے زیادہ عرصہ لگے گا۔ اس طرح ماہرین کے مطابق کیکڑا ون میں دریافت ہونے والے ہائیڈرو کاربن ریزروائر کو ڈیویلپ کرنے میں 8سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس فیلڈ کو ڈیویلپ اسی صورت میں کیا جائیگا کہ اس سے پاکستان کا آئل اینڈ گیس امپورٹ بل خاطر خواہ کم ہو۔ پاکستان کا پٹرولیم امپورٹ بل 6ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان میں 1961ء سے اب تک 17آف شور آزمائشی کنوئیں کھودے گئے ہیں مگر یہ تمام کے تمام ڈرائی نکلے ہیں۔ البتہ ایک آف شور کنوئیں شارک ون اور دوسرے فش ایکس ون سے جو گیس و تیل کا ذخیرہ حاصل ہوا وہ اقتصادی لحاظ سے اس قابل نہیں تھا کہ اسے ڈیویلپ کرنے کیلئے مزید کروڑوں ڈالر خرچ کئے جائیں کیونکہ اس کی پیداواری لاگت تیل و گیس کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہوتی۔ کنسورشیم کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کیکڑا ون کی ڈرلنگ وغیرہ پر 2کروڑ ڈالر مزید خرچہ آیا ہے۔ کیونکہ 48سو میٹر کی گہرائی میں انتہائی سخت ترین چٹان آ گئی اور کنسورشیم کو 48سو میٹر نئی سائیڈ ٹریک ڈرلنگ کرنا پڑی جس سے کاسٹ میں 2کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس طرح کنسورشیم کی چاروں پارٹنر کمپنیوں نے 2کی بجائے اڑھائی اڑھائی کروڑ ڈالر کا بوجھ اٹھایا ہے۔ کنسورشیم کے ذرائع کے مطابق اگلے دس دن میں اس بات کی تصدیق ہو جائیگی کہ کیکڑا ون کنوئیں کے ہائیڈرو کاربن ریزروائر میں تیل اور گیس کا کتنے ارب ڈالر کا ذخیرہ موجود ہے اور کیا یہ (Collercially Feasible)کمرشلی فیزایبل ہے بھی یا کہ نہیں۔ 10دن بعد کنسورشیم کے ماہرین ڈرلنگ شپ پر ابتدائی ٹیسٹنگ کے بعد وزیراعظم عمران خان کو کیکڑا ون ہائیڈرو کاربن ریزروائر کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں ہونگے لیکن اسکی مزید ٹیسٹنگ کم و بیش دسمبر 2019ء تک مکمل ہو سکے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں