آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں شاپنگ مال تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی، قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے پر برہمی کا اظہاربھی کیا۔

دورانِ سماعت سی ڈی اے نے تجاوزات ہٹانے سے متعلق اپنی رپورٹ جمع کرا دی۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شاپنگ مال کے قریب سروس روڈ کو عوام کے لیے جلد کھولا جائے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ مارگلہ روڈ پر لوگوں کے گھروں کے باہر تجاوزات ہیں، خود دیکھ کر آیا ہوں،جو کام ریاست کے کرنے کا ہے وہ ریاست کی ذمے داری ہے، قانون کے مطابق جو قدغن ہوگی وہ ہو گی۔

عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے پر اظہار برہمی کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ آنکھیں بند کر کے شہر چلا رہے ہیں؟

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ لگتا ہے کہ شہر میں جو آپ کا دل کرے گا وہ کریں گے، لگتا ہے کہ کوئی آپ کو کہتا ہے کہ کام نہ کریں، اسلام آباد دارالحکومت ہے، چھوٹا شہر ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور موڑ پر اسلام آباد کا بورڈ لگایا گیا ہے تاکہ زمین کی قیمت بڑھ جائے، برما میں کیپٹل سٹی چھوٹا سا ہے، شاپنگ مال والے سرکاری روڈ پرگیٹ کیسے لگا سکتے ہیں،سارے روڈ پر بیریئر لگائے ہوئے تھے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد کے جی سیکٹرز اور بھارہ کہو میں تجاوزات ہیں، مری کی طرف جانے کا راستہ ہی نہیں ہے، اسلام آباد میں کہیں پبلک ٹرانسپورٹ نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ یہ نا قابل قبول ہے کہ بس ایک جنگلہ بس بنادی گئی ہے، انڈر پاس اور کوئی ٹرین ہونی چاہیے تھی، سارا دن لوگ کام کرنے کے بعد شام کو پیدل چل کر جا رہے ہوتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد کا مزید کہنا ہے کہ اسکول جانے کے لیے بچے بسوں میں لٹکے ہوئے ہوتے ہیں، سی ڈی اے جتنے بھی پلان منظور کررہا ہے 10 فٹ سے زیادہ کشادہ روڈ ہوتا ہی نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نجی سوسائٹیاں تنگ تنگ گلیاں بنا دیتی ہیں جو کہ سی ڈی اے سے منظور شدہ ہوتی ہیں، کم از کم 40 فٹ کی سڑک ہونی چاہیے۔

عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اگلی سماعت پر شاپنگ مال کی تجاوزات گرانے کی ویڈیو دکھائی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں