آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قائم علی شاہ صاحب نے ایک دفعہ کہاتھا کہ تھرکی عورتیں گھونگھٹ ہی نہیں اٹھاتی ہیں اس لیے پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ عورت جوان ہے کہ بوڑھی۔ مجھے انکی بات سن کر افسوس بھی ہوا کہ جدی پشتی سندھی ہونے کے باوجود وہ ناآشنا تھے کہ تھری عورتیں جھالر لگا دوپٹہ اوڑھے اور گھونگھٹ نکالے اس وقت بھی رہتی ہیں جب صرف عورتیں کمرے میں ہوں۔ میں نے اسکا سبب پوچھا تو کچھ نے بتایا کہ الٹے ہاتھ بڑی بھابھی کھڑی ہے اور سیدھے ہاتھ بڑی نند، انکے سامنے گھونگھٹ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ مردوں سے پردہ تو سب خواتین کرتی ہیں، سوائے بوڑھی مائوں کے، سب انکا احترام کرتے ہیں۔ اب تو وہ گھونگھٹ والی سو عورتیں، مٹھی میں ٹرک چلارہی ہیں۔

گھونگھٹ ہماری پرانی روایت کا حصہ ہے۔ شوہر کو بھی بیاہ کے وقت آئینے کے ذریعہ آدھا چہرہ دکھایا جاتا تھا۔ اب زمانے نے ایسی کروٹ بدلی ہے کہ پرانے لوگوں کے الفاظ میں دلہنیں اپنا طباق جیسا چہرہ سب کے سامنے کھلا رکھتی اور خوب چٹر پٹر باتیں کرتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ کوئی عیب نہیں۔ پڑھی لکھی باشعور لڑکیاں، خاص کر شہروں میں رہنے والی تو اکثر پسند کی شادی یا پسند سے شادی کرتی ہیں۔ ویسے بھی گھونگھٹ میں ٹیکہ اور جھومر چھپ جاتے ہیں۔

ابھی بھی ہمارے دیہات میں نئی دلہنیں، سسر اور جیٹھ کے سامنے گھونگھٹ نکالتی ہیں۔ جو عمر کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ ہماری اماں اپنے جیٹھ اور بہنوئی تک سے گھونگھٹ نکالتی تھیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس شفون کے دوپٹے میں آنکھیں ملاکر خوب باتیں بھی کرتی تھیں۔ خیر وہ زمانے توشاید زبیدہ خاتون کے ناولوں میں ملیں گے۔

دوپٹہ سر پہ لینے کی روایت تقریباً تمام مسلمان ملکوں میں یکساں ہے۔ افریقی خواتین جس کپڑے کا لباس پہنتی ہیں۔ وہ اسی کپڑے سے سر کے لئے کبھی ٹوپی تو کبھی رومال بنالیتی ہیں۔ ہمارے دیہات میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے، سب عورتوں کے سر پر دوپٹہ ہوتا ہے، جسے وہ کبھی سر کے پیچھے چٹیا کی طرح لپیٹ لیتی ہیں۔ کہ دونوں ہاتھ مٹر چننے، مرچیں توڑنے، گوبھی اور آلو گویا ہر قسم کی سبزیاں نکالنے کے علاوہ گندم کی طرح کی تمام فصلوں کی کٹائی میں ہاتھ بٹاتی ہیں۔ چاول کی پنیری تو تپش میں کمر دہری کرکے زمین میں لگاتی ہیں اور زمین سے نکلنے والی گیسیں، انکی صحت پر برا اثر ڈالتی ہیں۔ جس پر بہت تحقیق ہورہی ہے۔ گائوں میں بزرگ عورتیں سر پر دوپٹہ، جسم پر ململ کا کرتہ اور کالی دھوتی باندھے اعتماد کے ساتھ چلتی پھرتی نظر آئینگی۔

فیشن اور دوسرے ملکوں کی روایتیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً عرب ممالک میں عبایا پہنا جاتا تھا۔ پاکستان اور انڈیا کی جو خواتین خلیجی ملکوں کی جانب گئیں وہاں سے لشک لشک کرتے عبائے پاکستان لائیں۔ اب وہ فیشن بھی ہے اور سعودی طرز کا پردہ بھی۔اب ہماری لڑکیوں نے پاکستانی لباس کے ساتھ جینز اور شارٹ شرٹس اختیار کیں مگر سعودی طرز پر سروں پر دوپٹوں کی پگڑیاں بنانی شروع کردیں۔ اسکوحجاب کانام دیدیا گیا۔اب چاہے سیلز گرل ہوکہ یونیورسٹی کی بچی، تنگ لباس اور حجاب مقبول ترین فیشن ہے۔

جب سے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے سوگ میں سر پہ دوپٹہ لیا۔ بہت سے علاقوں میں بالکل اس طرح فیشن بن گیا جیساکہ بی بی بے نظیر کے سرپر دوپٹہ لینے کے باعث، میں نے پورے یورپ کواس دوپٹے کی تعریف کرتے اور کچھ کو اسکارف اوڑھتے دیکھا۔ اب زیادہ تر یورپی خواتین ہر طرح کے لباس کے ساتھ اسکارف استعمال کرتی ہیں۔

یہاں مجھے یاد آیا کہ وہ لڑکیاں جنہوں نے سلوگن بنائے تھے ’میں آوارہ، میں بدچلن یا میرا بدن، میری مرضی وغیرہ وغیرہ ان سے میرا بالمشافہ مکالمہ ہوا۔ میں نے چونکہ بے ہودگی اور بدتہذیبی جیسے لفظ استعمال کیے تھے۔ جس پر وہ سخت سیخ پا ہوئی تھیں اب جو سامنے بیٹھیں توپھٹ پڑیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم جو بھی کام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسکو گھر والوں سے لیکر معاشرے تک، سب لوگ پہلے انگلیاں اٹھاتے تھے، اب تو باقاعدہ وہ لفظ استعمال کرتے ہیں، جو ہم نے جل کر سلوگن میں لکھے ہیں۔ میں نے جب بتایا کہ زمانے کے رویے، ترقی اور تبدیلی کے باوجود، یکساں رہتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں بھی مردوں کے درمیان تقریر کرنے، شعر پڑھنے،مباحثے کرنے پہ، یہی القابات دئیے جاتے تھے۔ ہم زبانی کچھ نہیں کہتے تھے، نثر اور شعرمیں اشارتاً بات کردیتے تھے۔ اب تو بچیاں اور بھی برس پڑیں ’’ آپ بزدل تھیں، آپ نے برداشت کرلیا، کبھی لکھ دیا۔ہمیں روز یہ طعنے ملتے ہیں۔ ہم کام کرنے نکلتی ہیں۔ ہم دوپٹہ اوڑھیں یا نہ اوڑھیں، ہماری اور ہمارے گھر والوں کی مرضی، یہ اخلاقی تھانیدار کون ہوتے ہیں‘‘۔ انکی معصومیت پر ہنسی بھی آئی اور انہیں سمجھایا کہ اس ملک میں اشاروں کنایوں میں بات بھی کم ہی برداشت ہوتی ہے۔ اس لئے تیز مت دوڑو۔ اپنے نقطہ نظر پہ قائم رہو اور اتنے غصے میں مت آیاکرو۔ وہ یہ باتیں سن کر میرے گلے لگیں، تصویریں بنوائیں اور آخر میں کہا آپ جیسے استاد اوردفتروں میں کولیگ کیوں نہیں ملتے۔ہماری آستینوں پر آپس میں مل کر مذاق اڑاتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں برداشت کی تباہی۔

مجھے چونکہ دفترمیں کام کا38سالہ تجربہ تھا۔ میں نے نہیں بتایا کہ سننا ہمیں بھی پڑتا تھا۔ بے ہودہ رویے ہمارے ساتھ بھی ہوتے تھے۔ بلکہ آج تک، غیر ملکی خواتین کا ہمارے بے وقوف نوجوان پیچھا کرتے ہیں۔انہیں تو نئے پاکستان کی ہی لاج رکھ لینی چاہیے پرہم دیکھتے ہیں کہ چاہے کوہ پیما خواتین ہوں کہ موٹر سائیکل پر چلتی لڑکیاں، ان پہ آوازےکسنا، پیچھا کرنا، اب تک ہمارے نوجوانوں کی روایت سمجھی جاتی ہے۔ وہ تو آزادی کے دن بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ لڑکیاں اور لڑکے پاکستان کی تہذیب کا خیال رکھیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں