آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیدہ شاہینہ شاہین

امی جان ! ’’کل پہلا روزہ ہے ، کتنے بجے کا الارم لگائوں سحری میں اٹھنے کے لئے ؟ فرحان نے پوچھا ’’ بیٹا میں لگا لوں گی الارم ، آپ نے کون سا روزہ رکھنا ہے جو الارم لگانے کی ضرورت پڑ گئی ‘‘ امی جان نے ہنس کر کہا ’’ میں روزہ ضرور رکھوں گا، اگر آپ نہیں مانیں تو دادا جان سے کہوں گا ان کے کہنے پر تو روزہ رکھوانا پڑے گا مجھے ‘‘۔فرحان نے دھمکی دی تو امی جان بے اختیار ہنس پڑیں۔

فرحان دوسری کلاس میں پڑھتا تھا ، ذہین مگر ضدی ، اپنی بات منوانے والا، اکلوتا ہونے کی وجہ سے سب اس کی بات مانتے تھے خصوصاً دادا جان۔ اس وجہ سے وہ زیادہ ہی بگڑگیا تھا۔ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی اس نے روزہ رکھنےکی ضد شروع کردی تھی۔

’’ دادا جان ! آپ کل روزہ رکھیں گے ؟‘‘ دادا جان جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے فرحان بھاگ کر ان کے پاس جاکر پوچھنے لگا ‘‘۔ ’’ فرحان بیٹا دادا جان کو پانی تو پینے دو‘‘۔ امی جان نے دادا جان کے ہاتھ سے تسبیح اور ٹوپی پکڑتے ہوئے کہا ۔ ’’ ہاں بیٹا ! انشاء اللہ ضرور رکھوں گا، میں کیا گھر کے سب بڑے روزہ رکھیں گے ، دادا جان نے جواب دیا۔ ’’ بالکل ٹھیک کہا آپ نے، سب روزہ رکھیں گے، لیکن امی جان نے مجھے روزہ رکھنے سے منع کردیا ہے ‘‘۔ فرحان نے منہ بسورا۔ ’’ امی ٹھیک کہہ رہی ہیں بیٹا، ابھی آپ چھوٹے ہیں جب بڑے ہوجائیں گے تب رکھنا، ‘‘۔ دادا جان نے امی کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑتے ہوئے کہا۔

’’ دادا جان آپ تو ہمیشہ میری بات مانتے ہیں، آج امی کی کیوں مان رہے ہیں ؟ ‘‘ فرحان نے شکوہ کیا۔’’آپ کو پتہ ہے روزہ کیسے رکھا جاتا ہے ؟ ‘‘

دادا جان نے پوچھا ۔ ’’ جی ہاں مجھے پتہ ہے روزہ کی حالت میں کھانا نہیں کھاتے اور پانی بھی نہیں پیتے ‘‘۔ فرحان نے جلدی سے جواب دیا۔ شاباش ! آپ کو تو پتا ہے روزے کے بارے میں، لیکن بیٹا امی جان آپ کو اس لئے روزہ نہیں رکھنے دے رہیںکیون کہ گرمی زیادہ ہے آپ کو دن بھر پیاس لگ سکتی ہے ، دن کافی لمبا ہوتا ہے ، بھوک بھی لگ سکتی ہے ، روزہ کی حالت میں تو کچھ کھا پی بھی نہیں سکتے تو کیا کریں گے، اگر بھوک پیاس لگی تو ؟ ‘‘ دادا جان نے پوچھا۔ ’’ اگر آپ کو بھوک پیاس نہیں لگتی تو مجھے کیوں لگے گی ؟ ‘‘ فرحان نے جواب میں سوال کیا۔ ’’ وہ اس لئے کہ ہم سب بڑے ہیں اور بڑے بھوک پیاس برداشت کرسکتے ہیں ‘‘۔ دادا جان نے جواب دیا۔ ’’ تو پھر مجھے روزے کا ثواب کیسے ملے گا ؟ ‘‘ فرحان نے افسردگی سے کہا۔ ’’ ہاں یہ ہے پوچھنے والا سوال، تو بیٹا آپ کو بھی ثواب ملے گا، آپ کو گرمی کی چھٹیاں ہیں ، گھر میں امی کا ہاتھ بٹا کراور گھر کے دوسرے کاموں میں ، روزے دار کی مدد کرنے سے بھی روزے جتنا ثواب ملتا ہے چھوٹے بچوں کو ‘‘۔ دادا جان نے کہا۔ ’’ کیا واقعی ایسا ہے ؟ ‘‘ فرحان نے خوش ہوکر پوچھا۔ ’’ بالکل ! اور بڑے کے روزے سے بھی حصہ ملتا ہے بچوں کو ، ہمارے روزے کا تھوڑا تھوڑا حصہ ملے گا آپ کو اور آپ کا روزہ پورا ہوجائے گا‘‘۔ دادا جان نے فرحان کو پیار کرتے ہوئے کہا۔ ’’ پھر ٹھیک ہے میں روزہ رکھنے کی ضد نہیں کروں گا دادا جان۔ آپ میری بات مانتے ہیں تو میں بھی آپ کی بات مان لیتا ہوں ‘‘۔ فرحان نے کہا تو امی اور دادا جان مسکرا دیے۔