آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھنے میں پولیس کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، جس معاشرے میں پولیس اپنے فرائض بہتر انداز سے انجام دیتی ہے وہاں پر جرائم کی وارداتیں تقریباً نہ ہونے کے برابر رہتی ہیں۔ جدت و ٹیکنالوجی کے اس دور میں پولیس کی جانب سے بھی ڈاکوئوں، جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کو یقینی بناکر معاشرے میں امن و امان کی فضاء قائم رکھنے اور ضٗلع کو جرائم فری زون بانے کے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے، سکھر پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ سکھر پولیس نے 57 مقابلوں کے دوران 16 بدنام زمانہ ڈاکوئوں کو زخمی حالت جبکہ اغوا برائے تاوان سمیت جرائم کی دیگر سنگین وارداتوں میں مطلوب 33 خطرناک ڈاکوئوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کارروائیوں میں ایک دہشت گرد بھی پکڑا گیا، 450 سے زائد روپوش و اشتہاری ملزمان، 118 منشیات فروش اور598جواری بھی پکڑے گئے،۔ملزمان کے قبضے سے 3کلاشنکوف، 3 تھری جی رائفل، 6 بندوقیں، 2 ریوالور، 77 پستول، 2رائفل، 112 کلو گرام چرس، 272 کلو گرام بھنگ، 189 لیٹر شراب، 8 ہزار مضر صحت نشہ آور اشیاء کے پیکٹس برآمد کئے گئے جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مدد سے پولیس نے چوری ہونے والی 10 کاریں، 2مسروقہ ٹریکٹر، 131موٹر سائیکلیں برآمد کرکے اصل مالکان کے حوالے کردیں۔

ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں کے مطابق ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، ڈاکوئوں، جرائم پیشہ، سماج دشمن عناصر، روپوش و اشتہاری ملزمان کی 100فیصد گرفتاری یقینی بنانے کے لئے جاری آپریشن تیز کیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جو حکمت عملی مرتب کی گئی ہے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور ضلع بھر کے تمام علاقوں میں جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کسی علاقے میں جرم کی کوئی واردات رونما بھی ہوتی ہے تو پولیس فوری طور پر حرکت میں آکر ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بناتی ہے۔ سکھر میں امن وامان کی فضا کو کسی صورت خراب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ڈاکوئوں، جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، فحاشی، جوے کے اڈوں کے خلاف کریک ڈائون جاری رہے گا۔ پولیس نے گزشتہ 5ماہ کے دوران ضلع بھر کے تمام تھانوں میں جو کارروائیاں کی ہیں ان میں پولیس کو بڑی حد تک کامیابیاں ملی ہیں۔

ضلع بھر میں 57 سے زائد پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 16ڈاکوئوں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ مقابلے کے دوران مختلف سنگین نوعیت کے کئی مقدمات میں مطلوب 33خطرناک ڈاکو اور دہشت گردی کی واردات میں ملوث ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا جس کے قبضہ سے دستی بم، ڈیٹونیٹر و دیگر بارودی مواد برآمد کیا گیا۔ مختلف جرائم (ڈکیتی، چوری، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں) میں ملوث 9 ڈاکوؤں کے گروہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ ملزمان سے بڑی تعداد میں اسلحہ سمیت چوری شدہ مال برآمدہواجو اصل مالکان کے حوالے کیا گیا۔ مختلف مقدمات میں مطلوب 198سے زائد اشتہاری ملزمان گرفتار ہوئے اور انہیں عدالتی کارروائی کے بعد جیل بھیج دیا گیا جب کہ275 روپوش ملزمان بھی گرفتار ہوئے جو سکھر پولیس کو قتل، ارادہ قتل، ڈکیتی، چوری، نقب زنی، سمیت دیگر وارداتوں میں مطلوب تھے اور 23 سہولت کاروں کو بھی گرفتارکیاگیا۔ ملزمان کے قبضے سے 3کلاشنکوف، 3تھری جی رائفل، 6بندوقیں، 2ریوالور، 77پستول، 2رائفل، 311گولیاں، 29کارتوس برآمد کئے گئے۔ پولیس کی جانب سے سکھر ضلع میں ڈاکوئوں، جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ منشیات فروشوں، جوے اور فحاشی کے اڈوں، گٹکا ، پان پراگ فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی بھرپور کریک ڈائون کیا جارہا ہے۔ مختلف کارروائیوں کے دوران 598 جواریوں، 118منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے 112کلو گرام سے زائد چرس، 272 کلو گرام بھنگ، 189 لیٹر شراب 678 شراب کی بوتلوں سمیت مضر صحت نشہ آور پان پراگ ودیگر ممنوعہ اشیاء کے 8203 پیکٹس برآمد کئے گئے۔ ضلع کے مختلف تھانوں کی حدود سے چوری کی گئی 15 بکریاں، 17گائیں، 16بھینسیں بھی برآمد کرکے اصل مالکان کے حوالے کی گئیں، 2مسروقہ ٹریکٹر، 10کاریں، 131موٹر سائیکلیں بھی اصل مالکان کے حوالے کی گئیں۔ گھریلو چوری کی وارداتوں میں ملوث 8مرد و خواتین کے گروہوں کو پکڑا گیا، جن سے بھاری تعداد میں مسروقہ مال برآمد کیا گیا۔ تشدد کے مختلف واقعات کا شکار 16 خواتین کو بازیاب کروا کر قانونی تحفظ فراہم کیا گیا، 34 خواتین تحفظ کے لیے ویمن تھانے آئیں، جنہیں عدالتی کارروائی کے بعد دارالامان منتقل کردیا گیا۔

ایس ایس پی سکھر عرفان علی سموں نے ’’جنگ ‘‘کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث چوری ہونیوالے موبائل فونز اور موٹر سائیکلوں کی برآمدگی کو یقینی بنانے میں بڑی مدد مل رہی ہے۔ پولیس نے شہریوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے چوری یا چھینے گئے موبائل فون او ر موٹر سائیکلوں کی برآمدگی کو یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے۔ موبائل فون گم یا چوری ہونے کی صورت میں اس کا ای ایم آئی نمبر نوٹ کیا جاتا ہے اور پھر موبائل فون کو ٹریس کیا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت پولیس مذکورہ موبائل فون کی لوکیشن معلوم کرتی ہے اور پھر موبائل فون کو برآمد کرکے اصل مالک کے حوالے کردیا جاتا ہے، اسی طرح موٹر سائیکل کی برآمدگی کو یقینی بنانے کے لئے پولیس کی جانب سے بروقت اور فوری کارروائیاں کی جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ کے دوران 20سے زائد چوری ہونے والے موبائل فونز اور 45سے زائد چوری ہونے والی موٹر سائیکلیں برآمد کرکے ان کے اصل مالکان کے حوالے کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سکھر پولیس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کررہی ہے ، تمام افسران، تھانہ انچارجز، پولیس فورس کو اس حوالے سے خصوصی طور پر ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، جوا و فحاشی کے اڈے چلانے والوں پر کڑی نگاہ رکھے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں