آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
تحریر:شمع ناز …کراچی
زندہ کر ضمیر کجھ سوچ سرائیکستان دا
بہوں کھٹیاکھا گھدے تیڈی گنگی زبان دا
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر عاشق صادقانی کے یہ اشعار اس وقت پورے سرائیکی وسیب کی آواز بن گئے ہیں۔ سرائیکی صوبے کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سرائیکی قوم اپنی ایک الگ شناخت، الگ زبان، الگ تہذیبی اور ادبی ورثے کی مالک ہے جہاں تک سرائیکی ادب کا تعلق ہے تو صدیوں پہلے حضرت بابا فرید گنجِ شکر(1188-1266) سے لے کر سلطان باہو، حضرت سچل سرمست اور خواجہ غلام فرید (پیدائش25: نومبر 1845ء — وفات24: جولائی 1901ء) تک اور ان کے بعد موجودہ دور کے شعرا تک سرائیکی کلام، سرائیکی ادب اور شاعری کی قدامت کی دلیل ہے۔ (واضح رہے کہ اردو زبان کو بھی کم و بیش اتنا ہی عرصہ ہوا ہے۔)
سرائیکی صوبے کی اپنی پہچان کے حوالے سے سرائیکی قوم کافی عرصے سے کوشش کر رہی ہے۔ اس حوالے سے مرحوم تاج محمد لنگاہ کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے 1989سے سرائیکی صوبے کے لئے کام شروع کیا اور مرتے دم تک اس کے لئے کام کرتے رہے۔ سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے اہم پیش رفت صدر آصف علی زرداری کے دورِ صدارت میں ہوئی۔ ان کے دور میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا باقاعدہ مطالبہ پیش کیا گیا۔2 مئی2012 کو قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد کو کثرتِ رائے سے

منظور کیا۔7 مارچ2013 کو سینیٹ میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے24ویں ترمیم کا بل منظور کیا گیا۔ اگرچہ ان کے دور میں صوبہ تو نہ بن سکا لیکن یہی بڑی بات تھی کہ کم از کم پارلیمنٹ اور سینیٹ کی سطح پر اس پر بات کی گئی اور اس مطالبے کو ایک ٹھوس شکل دی گئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد ن لیگ برسرِ اقتدار آئی۔ انہوں نے سرائیکی صوبے کے ساتھ ساتھ ایک نئی پخ بہاول پور صوبے کی بحالی کی لگا دی۔ بعد ازاں انہوں نے جنوبی پنجاب صوبے کو بہاول پور صوبے کی بحالی سے مشروط کر کے اس پورے معاملے کو لٹکا دیا۔ دراصل مسلم لیگ ن صوبے کی تقسیم سے خائف رہی ہے جبکہ سرائیکی قوم پرستوں کا یہ ماننا ہے کہ سرائیکی وسیب کا لاہور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اساں تخت لاہور اچ ایندے نی
ساڈی اپنی ہک پہچان ہووے
ہووے دیس ڈیروار سندھ ستلج ساڈا
ذاتی تھل دا مان ہووے
نہ در در دھکے روزدے کھاؤں
ملتان اچ خود ایوان ہووے
دواناظر ہک ہک بال آکھے
ساڈا صوبہ سرائیکستان ہووے
(ناظر جلالپوری)
ن لیگ کو یہ فکر بھی دامن گیر ہے کہ اگر پنجاب کے دو حصے ہوگئے تو پاکستان کے دیگر صوبوں پر پنجاب کی جو ایک برتری قائم ہے، وہ ختم ہوجائے گی۔ اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کو غیر موثر کرنے کے لئے بہاول پور صوبے کی قرارداد پیش کر کےاس پورے معاملے کو متنازع بنا دیا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ریاست بہاول پور کے حوالے سے بات کرتے چلیں کہ قیام پاکستان کے وقت بہاول پور ایک الگ ریاست تھی۔ 1955تک اس کی یہی حیثیت برقرار تھی۔1955میں ون یونٹ کے قیام کے وقت ریاست بہاول پور کی حیثیت اس وعدے پر ختم کی گئی کہ جیسے ہی ون یونٹ ختم ہوگا، بہاول پور کی سابقہ حیثیت بحال کردی جائے گی۔ 1970میں ون یونٹ ختم کردیا گیا لیکن بہاول پور ریاست کی بحالی کا وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ اب سوال یہ ہے کہ ن لیگ نے بہاول پور کی بحالی کا مطالبہ کیوں کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے مجوزہ22اضلاع میں بہاول نگر، بہاول پو، رحیم یار خان شامل ہیں جبکہ صوبہ بہاول پور کی بحالی کی صورت میں یہ تینوں اضلاع اس میں شامل ہوجائیں گے۔ ن لیگ کو پتہ تھا کہ اول تو قوم پرست اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے، اگر وہ کسی طور مان بھی جائیں تو پھر جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبے کے لئے ایک بار پھر نئے سرے سے ساری تیاری کرنی پڑے گی۔ اس طرح انہیں مزید وقت مل جائے گا۔ سرائیکی بیلٹ کے پنجاب میں ضم ہونے سے یہ ہورہا ہے کہ سارے ترقیاتی کام صرف لاہور وغیرہ میں  ہورہے ہیں جبکہ سرائیکی بیلٹ پر ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ ان خطوں میں غربت کی سطح بھی بڑھی ہے۔ سرائیکی بیلٹ میں روزگار کے مواقع بھی کم ہیں اور یہاں کے نوجوان روزگار کی تلاش میں کراچی، حیدرآباد، لاہور اور ملک کے دیگر شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔
لفظیں دے شہر والو! چپ دی وبا کوں روکو
نتاں ایہ ڈین وستیاں اجاڑ ڈیسی
یہاں یہ تاریخی حقیقت بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ ’’صوبہ پنجاب‘‘ کے نام سے برصغیر کا کبھی کوئی صوبہ نہیں رہا۔ لاہور شہر کا ذکر تاریخ میں ضرور ملتا ہے۔ اور لاہور شہر افغانستان کا دارالحکومت بھی رہا ہے۔ محمود غزنوی کے دور میں یہ افغانستان کا حصہ رہا ہے۔ اس کو پہلی بار پنجاب کا نام سکھا شاہی دور میں دیا گیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس کو پنجابی زبان کی نسبت سے پنجاب کا نام دیا اور اس کے بعد سے ہی یہ نام مشہور ہوا ہے۔ وگرنہ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ250 سال قبل پنجاب نام کا کوئی صوبہ یا خطہ موجود نہیں تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ہی اپنے توسیع پسندانہ مزاج کے تحت 1809کے بعد ملتان اور دیگر سرائیکی خطوں کو بھی جبراً پنجاب کا حصہ بنا دیا جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ سرائیکی پٹی سندھ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ قدیم سندھ کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قدیم سندھ کی سرحدیں ملتان تک تھیں۔ اس ساری تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ سرائیکی بیلٹ پنجاب کا حصہ کبھی نہیں رہی، اس کو صوبہ پنجاب سے جوڑنا قطعا ً غلط ہے۔
تحریک انصاف نے برسرِاقتدار آنے سے پہلے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے نام پر سرائیکی قوم پرستوں کی حمایت حاصل کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اس وقت ’’جنوبی صوبہ محاذ‘‘ کو اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں ضم کرتے ہوئے مئی 2018 میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے 100دن کے اندر اندر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا ابتدائی کام کر لیں گے۔ گویا کہ جنوبی پنجاب میں ان کی کامیابی میں ایک بہت بڑا ہاتھ ان قوم پرستوں کا ہے، جنہوں نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے وعدے پر پی ٹی آئی کی حمایت کی ہے اور اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
پیر13مئی کو قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کیلئے پی ٹی آئی کے تین ارکان قومی اسمبلی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی، سردار نصر اللہ دریشک اور پیر ظہور قریشی کی طرف سے پارلیمان کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کیلئے پیش کی گئی تحریک منظور کر لی گئی ہے جبکہ تحریک پیش کی گئی تو ن لیگ نے اس کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ مسلم لیگ نواز دو صوبوں کا بل پہلے ہی اسمبلی میں پیش کر چکی ہے اور وہ کمیٹی کو بھیجا جا چکا ہے۔ لہذا اب اس نئے بل کا کوئی جواز نہیں۔ مسلم لیگ نواز کو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بہاولپور کی بات بھی سنی جائے اور بے شک وہاں ریفرنڈم کرا لیا جائے اور لوگوں کی رائے لی جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔‘‘سیاست اپنی جگہ لیکن بہرحال ایک الگ صوبہ سرائیکیوں کا حق ہے جبکہ انتظامی اور جغرافیائی طور پر اس میں کوئی مشکل بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے سامنے بھارت کی مثال موجود ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بھارت کے 17صوبے تھے، اس وقت بھارت کی29ریاستیں یا صوبے ہیں جبکہ ان کے علاوہ7ایسے علاقے ہیں جو انڈیا کے زیر انتظام ہیں۔ جب وہاں70برسوں میں17سے29صوبے ہوسکتے ہیں تو یہاں انتظامی سطح پر مزید صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ اس لئے اس معاملے کو لٹکانا یا تعطل کاشکار کرنا بہتر نہیںہےقوم پرستوں کو صرف ایک بات پر اعتراض  ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کی بجائے سرائیکی صوبہ بنایا جائے کیوں کہ سرائیکی صوبے کے بغیر الگ صوبے کا قیام بے معنی ہوگا۔ قوم پرستوں کی خدمت میں ہم اپنی یہ ناچیز رائے پیش کرتے ہیں کہ نام تو بعد میں تبدیل کیا جاسکتاہے، جیسا کہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا کیا گیا ہے۔ جب ایک صوبے کا نام تبدیل کیا گیا ہے تو اس کا مطلب کہ اب قانونی طور پر ایک نظیر موجود ہے اور اس کی بنیاد پر دیگر صوبوں کا نام بھی تبدیل ہوسکتا ہے اس لئے پہلے صوبے کے قیام پر توجہ دی جائے اور نام کا معاملہ تو بعد میں بھی حل ہوسکتا ہے۔

یورپ سے سے مزید