آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی احتساب بیورو (نیب) ماضی میں بھی عوامی عہدوں پر فائز صاحبان اختیار اور ان کے ہمدرد حلقوں کی جانب سے بے رحمانہ تنقید کی زد میں رہا ہے جنہیں اختیارات کے غیر قانونی استعمال اور بے قاعدگیوں کے الزامات میں باز پرس کے عمل سے گزرنے کے لئے کہا گیا۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور نیب کے اقدامات پر شدید اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مثلاً کہا جا رہا ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ کاروباری برادری کو بلاوجہ خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ نیب پولیٹکل انجینئرنگ کا ذریعہ ہے۔ اسے اپوزیشن کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، کرپشن کے الزامات لگا کر لوگوں کو گرفتار پہلے کیا جاتا ہے اور ثبوت بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں۔ نیب کی سختیوں کی وجہ سے بیورو کریسی نے کام کی رفتار سست کر دی ہے۔ اس طرح کے الزامات اور اعتراضات کے حوالے سے اپنے ادارے کے بھرپور دفاع کے لئے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اتوار کو اسلام آباد میں پہلی مرتبہ میڈیا کے نمائندوں سے مکالمہ کیا اور ایک گھنٹے کی پریس کانفرنس میں نیب پر لگائے جانے والے الزامات اور شکوک و شبہات کو دو ٹوک انداز میں خلاف حقیقت قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر کاروباری برادری اور بیورو کریسی کے مبینہ تحفظات کے

معاملے پر کھل کر بات کی اور نیب پر الزام تراشی کے سلسلے میں حکومتی اور اپوزیشن لیڈروں پر یکساں تنقید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف ٹھوس ثبوت پر نیب کسی کو گرفتار کرتا ہے۔ جہاں تک کاروباری طبقے اور بیورو کریسی کو خائف کرنے کا تعلق ہے تو وہ خود چل کر ان حضرات کے پاس گئے۔ پھر شکایات درج کرنے کے لئے باقاعدہ سیل قائم کئے گئے ۔ آج تک بزنس مینوں یا بیورو کریسی کی جانب سے ہراساں کرنے کی ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ کسی تاجر بیورو کریٹ یا خاتون کو نیب آفس میں طلب نہیں کیا جائے گا، اس کی بجائے متعلقہ افراد کو سوالنامہ بھیجا جائے گا پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔ معیشت، مہنگائی اور ڈالر کے نرخ بڑھنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاشی زبوں حالی گیس و بجلی کے نرخوں میں اضافے پانی کی قلت، امن و امان وغیرہ کی ذمہ دار نیب نہیں۔ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور چلتے رہیں گے البتہ کرپشن اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔عوامی عہدوں پر فائز شخصیات سے ہم نے مالی بے قاعدگیوں کے بارے میں پوچھ لیا تو کیا جرم کیا؟ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ نیب کسی صوبے سے امتیازی سلوک کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی سب کے لئے یکساں ہے انہوں نے حکومت سے کہا کہ جن لوگوں کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں انہیں عہدے نہ دیئے جائیں۔ چیئرمین نیب نے اپنی پریس کانفرنس میں نیب کے بارے میں شکوک و شبہات دور کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ نیب جیسے ادارے دنیا بھر میں موجود ہیں جو مملکت کے قومی اور مالی مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کا سختی سے احتساب کرتے ہیں مگر ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ تاکہ ان کے فیصلوں پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے فیصلوں کو مان بھی لیتے ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ عمومی تاثر ہے کہ یہاں احتساب کم اور انتقام زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ سے نیب کی ساکھ اتنی اچھی نہیں جتنی ہونا چاہئے۔ اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انصاف کے عالمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب قوانین میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔ حکومتی اور اپوزیشن حلقے بھی اس معاملے میں بڑی حد تک متفق ہیں خود نیب کے چیئرمین نے بھی نیب قوانین کو موثر بنانے کے لئے ترامیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ریاست کے معاملات میں شفافیت لانے اور معاشرے سے ناانصافیوں کے خاتمے کے لئے نیب کا کردار بہت اہم ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اسے متنازع بنانے کی بجائے حکومتی و سیاسی سطح پر باہمی مشاورت سے مزید موثر بنایا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں