آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت شعیب علیہ السّلام کی بعثت’’ مدین‘‘ میں ہوئی۔ مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اُسی قبیلے کے سبب بستی کا یہ نام مشہور ہوگیا۔ دراصل، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا اور اُن کی نسل کو’’ اہلِ مدین‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی تیسری بیوی، قطورا کے بطن سے تھے اور اسی لیے یہ خاندان ’’بنی قطورا‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے، مدین اپنے اہل وعیّال کے ساتھ اپنے سوتیلے بھائی، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے قریب ہی حجاز میں آباد ہوگئے تھے۔ یہ جگہ بحیرۂ قلزم کے مشرقی کنارے اور عرب کے شمال مغرب میں شام سے متصل حجاز کے آخری حصّے میں واقع تھی۔ حجاز سے شام، فلسطین اور مِصر کے سفر کے دَوران قبیلہ مدین کی اِس بستی کے کھنڈرات دِکھائی دیتے ہیں، جب کہ مدین نام کا ایک شہر آج بھی شرقی اُردن کی بندرگاہ، معان کے قریب موجود ہے۔

قرآنِ کریم میں تذکرہ

قرآنِ کریم میں حضرت شعیبؑ اور اُن کی قوم کا تذکرہ گیارہ مقامات پر آیا ہے۔ سورۃ الاعراف، سورۂ ھود، سورۃ الحجر، سورۂ الشعراء اور سورۂ عنکبوت میں آپؑ کا ذکر موجود ہے۔ حضرت شعیبؑ جس قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے، قرآنِ کریم میں اُسے’’ اہلِ مدین‘‘،’’ اصحابِ مدین‘‘ اور ’’اصحابِ ایکہ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔اصحابِ مدین اور اصحابِ ایکہ ایک ہی قبیلے کے دو نام ہیں یا یہ دونوں الگ الگ قبائل ہیں؟ اس بارے میں مفسرّین کی مختلف آرا ہیں۔ کچھ کی رائے ہے کہ یہ دونوں علیٰحدہ علیٰحدہ قومیں تھیں، ایک قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیبؑ دوسری قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔ بعض نے لکھا کہ مدین اور اصحابِ ایکہ( جُھنڈوالے) ایک ہی قبیلے کے دو نام ہیں، ان دونوں کی رہائش مختلف جگہوں پر تھی۔ اصحابِ مدین تہذیب وتمدّن سے آشنا شہری قبیلہ تھا، یہ لوگ جس بڑی شاہ راہ پر رہتے تھے، وہ شام سے فلسطین، یمن اور مِصر سے ہوتی ہوئی بحرقلزم کے مشرقی کنارے سے گزرتی ہے اور حجاز کے تجارتی قافلے اسی راستے سے سفر کیا کرتے تھے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں’’اور یہ دونوں بستیاں (حضرت لوطؑ کی قوم اور مدین) بڑی شاہ راہ پر آباد تھیں۔‘‘ ( سورۃ الحجر 79)اصحابِ ایکہ ایک بدوی قبیلہ تھا۔ عربی میں’’ ایکہ‘‘ اُن سرسبز وشاداب جھاڑیوں کو کہتے ہیں، جو ہرے بھرے درختوں پر مشتمل گھنے جنگلوں میں جُھنڈ کی شکل میں بہ کثرت ہوتی ہیں۔ علّامہ ابنِ کثیرؒ کے مطابق’’ ایکہ‘‘ ایک درخت کا نام تھا،جس کی قبیلے کے لوگ پوجا کرتے تھے، چناں چہ اس نسبت سے اہلِ مدین ہی کو اصحابِ ایکہ کہا گیا۔بہرحال، اکثریت کی رائے یہی ہے کہ یہ دونوں قومیں ایک ہی قبیلے اور نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور قومِ شعیبؑ کہلاتی تھیں۔ بڑی شاہ راہ پر آباد قبیلے کے لوگوں کو والد کی نسبت سے مدین کہا جانے لگا، جب کہ سر سبز علاقے میں رہنے والے ’’ اصحابِ ایکہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

قومِ شعیبؑ کے عیوب

دنیا میں جتنے بھی انبیائے کرامؑ مبعوث فرمائے گئے، اُن کی دعوت کا مشترکہ مقصد حقوق کی بہ احسن طریقے سے ادائی کی تعلیم عام کرنا تھا۔ حقوق دو قسم کے ہیں، ایک حقوق اللہ یعنی اللہ کی عبادت اور اُس کی ہدایات پر عمل اور دوسرا حقوق العباد، جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ دنیا میں قومِ لوطؑ کے بعد قومِ شعیبؑ وہ قوم تھی، جو دونوں حقوق پامال کررہی تھی۔ ایک طرف وہ اللہ اور اُس کے رسولؑ پر ایمان نہ لاکر حقوق اللہ کی خلاف ورزی کر رہی تھی، تو دوسری طرف، ناپ تول میں کمی،لُوٹ مار، رہزنی، ڈرانا دھمکانا، زمین پر فساد جیسے گھناؤنے جرائم کی مرتکب ہوکر حقوق العباد کی دھجیاں بکھیر رہی تھی۔قرآنِ کریم میں قومِ شعیبؑ کے تین طرح کے عیوب کا تذکرہ ملتا ہے۔

1۔ وہ لوگ کفروشرک میں مبتلا تھے اور درختوں کی پوجا کرتے تھے۔

2۔ بیوپار میں بے ایمانی اور ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔

3۔راستوں میں بیٹھ کر لُوٹ مار کرتے، لوگوں کے اموال چھینتے اور غنڈا ٹیکس وصول کرتے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں غنڈا ٹیکس کی بنیاد قومِ شعیبؑ ہی نے رکھی، تو بے جا نہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی اصلاح اور توحید کی دعوت کے لیے اُن ہی کی قوم کے ایک نیک اور سچّے انسان، حضرت شعیب علیہ السّلام کو مبعوث فرمایا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اور ہم نے مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب ؑکوبھیجا۔‘‘(سورۃ الاعراف85)

توحید کی دعوت

پچھلی قوموں کی طرح قومِ شعیبؑ میں بھی مشرکانہ رسم وعقائد کا دَور دورہ تھا۔حضرت شعیبؑ نے پہلے اُنہیں توحید کی دعوت دی، پھر اُن کی حرکتوں پر اُنہیں متنبّہ کیا ’’ اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سِوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچُکی ہے، تو تم ناپ تول پوری طرح کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحبِ ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو، جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے، اُسے تم ڈراتے اور راہِ حق سے روکتے ہو اور اس میں کبھی ( عیب) ڈھونڈتے ہو ۔ اور یاد کرو! جب کہ تم بہت تھوڑے تھے، پھر اللہ نے تم کو کثیر کردیا اور دیکھو! کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا۔‘‘ (سورۃ الاعراف 86,85)

متکبّر سرداروں کی دھمکی

حضرت شعیبؑ کی توحید کی دعوت سُن کر قوم کے متکبّر سردار چراغ پا ہوگئے اور اُنہوں نے حضرت شعیبؑ کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اُن کی قوم کے متکبّر سرداروں نے کہا’’ اے شعیبؑ! ہم تم کو اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے باہر نکال دیں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے مذہب پر واپس آنا پڑے گا۔‘‘ (سورۃ الاعراف88) اس کے ساتھ ہی اُن کی قوم کے وہ سردار، جو کافر تھے (وہ قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے،’’ اگر تم شعیبؑ کے پیچھے چلے، تو یاد رکھو! اس صُورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘ (سورۃ الاعراف90)

قوم کے سرداروں سے مکالمہ

حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم کے سرداروں سے فرمایا ’’تمہارے باطل مذہب سے اللہ تعالیٰ نے نجات دے دی ہے، اس کے بعد اگر ہم تمہارے مذہب میں واپس آجائیں، تو یہ ہماری طرف سے اللہ تعالیٰ پر سخت بہتان ہوگا اور ہمیں شایان نہیں کہ اس میں لَوٹ جائیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف89) حضرت شعیبؑ اپنی قوم کی بداعمالیوں پر سخت رنجیدہ رہتے اور اُنہیں بار بار وعظ ونصیحت کرتے۔ اُنہوں نے قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے متنبّہ فرمایا’’ اے قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سِوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کرو، مَیں تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لائو گے) تو مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے، جو تم کو گھیر رہے گا۔‘‘ (سورۂ ھود 84)اُنہوں نے کہا’’ شعیبؑ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سِکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں، ہم اُن کو تَرک کردیں یا اپنے مال میں تصرّف کرنا چاہیں تو نہ کریں؟ تم تو بڑے نرم دِل اور راست باز ہو۔‘‘(سورۂ ھود 87) حضرت شعیبؑ نے جواب دیا’’ اے قوم! دیکھو تو اگر مَیں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور مَیں نہیں چاہتا کہ جس اَمر سے مَیں تمہیں منع کروں، خود اُس کو کرنے لگوں۔ مَیں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے(تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں۔ اور مجھے توفیق ملنا اللہ ہی (کے فضل سے)ہے، مَیں اُس پر بھروسا رکھتا ہوں اور اُسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کروادے کہ جیسی مصیبت نوحؑ کی قوم یا ھودؑ کی قوم یا صالح ؑ کی قوم پر واقع ہوئی تھی، ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو اور لوطؑ کی قوم کا (زمانہ تو) تم سے کچھ دُور نہیں، اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اُس کے آگے توبہ کرو۔ بے شک میرا پروردگار رحم والا اور محبّت کرنے والا ہے۔‘‘ (سورۂ ھود 90-88)روایت میں آتا ہے کہ حضرت شعیبؑ نابینا تھے یا اُن کی بصارت بہت کم تھی، چناں چہ حضرت شعیبؑ کے وعظ و نصیحت کے جواب میں یہ سردارطعنہ زنی کرتے ہوئے اُنہیں سنگسار کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’اُنہوں نے کہا’’ شعیبؑ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کم زور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے، تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی ) غالب نہیں ہو۔‘‘(سورۂ ھود91)اس پر حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم سے فرمایا’’ اے قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دبائو تم پر اللہ سے زیادہ ہے؟ اور اُس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے؟ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے اور بردارانِ ملّت! تم اپنی جگہ کام کیے جائو، مَیں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عَن قریب معلوم ہوجائے گا کہ رُسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے؟ اور تم بھی انتظار کرو، مَیں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘(سورۂ ھود 92-93)

حضرت شعیبؑ کی دُعا

قوم کے متکبّر سرداروں کی جارحانہ گفتگو کے بعد حضرت شعیبؑ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے دِلوں پر مُہر لگ چُکی ہے اور اُن پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا، لہٰذا اُنہوں نے اپنے ربّ سے دُعا کی’’ اے پروردگار! ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف89) درحقیقت ان الفاظ کے ساتھ حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم میں سے جو کفّار تھے، اُن کی ہلاکت کی دُعا کی تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا۔

عذابِ الٰہی کا نزول

قوم شعیبؑ تین طرح کےعیوب میں مبتلا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُسے تین طرح کے عذاب سے نیست و نابود کیا۔ قرآنِ کریم میں تین طرح کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو قومِ شعیبؑ پر آیا۔(1) زمینی بھونچال یا زلزلہ( 2) چنگھاڑ( 3) آگ کے بادل۔ سورۂ الاعراف میں ہے کہ’’ اُن کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ اُنہوں نے ان (شعیبؑ) کو جھوٹا سمجھا، سو اُن کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ سورۂ ھود میں چنگھاڑ کے ذریعے عذاب کا ذکر آیا، کیوں کہ یہ لوگ اپنے نبی کا مذاق اور تمسخر اڑایا کرتے، پھبتیاں کستے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کے ذریعے اس قوم پر ایک چیخ لگوائی، جس سے اُن کے کلیجے پھٹ گئے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور جو ظالم تھے، اُن کو چنگھاڑ نے آ دبوچا، تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (سورۂ ھود 94)سورۂ الشعراء میں بادل کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو اُن کی اپنی خواہش کا نتیجہ تھا۔ اُنہوں نےکہا تھا کہ’’ تم اُن میں سے ہو، جن پر جادو کردیا جاتا ہے اور تم تو صرف ہماری طرح کے آدمی ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اگر تم سچّے ہو، تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گرائو۔‘‘(سورۃ الشعراء 187-185) چوں کہ’’ اُنہوں نے جھٹلایا تھا، تو اُنہیں بادل والے دن کےعذاب نے پکڑ لیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔‘‘ ( سورۃ الشعراء 189)علّامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے تو سخت گرمی مسلّط فرمائی اور سات دن مسلسل اُن پر ہَوا بند رکھی، جس کی وجہ سے پانی اور سایہ بھی اُن کی گرمی نہ کم کر سکا اور نہ ہی درختوں کے جُھنڈ کام آئے، چناں چہ اس مصیبت سے گھبرا کر بستی سے جنگل کی طرف بھاگے، وہاں اُن پر بادلوں نے سایہ کرلیا۔ سب گرمی اور دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لیے اُس سائے تلے جمع ہوگئے اور سُکون کا سانس لیا۔ لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرزنے لگی اور پھر آسمان سے ایک سخت چنگھاڑ آئی، تو اُس نے اُن کی روحوں کو نکال دیا (کلیجے پھٹ گئے) اور جسموں کو تباہ و برباد کردیا اور سب اوندھے گرے پڑے رہ گئے۔‘‘

حضرت شعیبؑ کی مکّہ مکرّمہ ہجرت

قوم پر عذاب آتا دیکھ کر حضرت شعیب علیہ السّلام اور اُن کے ساتھی یہاں سے چل دیئے۔ جمہور مفسرّین نے فرمایا ہے کہ آپؑ مکّہ معظّمہ آگئے اور آخر تک یہیں قیام رہا۔ قوم کی انتہائی سرکشی اور نافرمانی سے مایوس ہو کر حضرت شعیب علیہ السّلام نے بددُعا تو کردی، مگر جب قوم پر عذاب آیا، تو پیغمبرانہ شفقت و رحمت کے سبب دِل دُکھا، تو اپنے دِل کو تسلّی دینے کے لیے قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ’’ مَیں نے تو تم کو تمہارے ربّ کے احکام پہنچادیئے تھے اور تمہاری خیرخواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا، مگر مَیں کافر قوم کا کہاں تک غم کروں۔‘‘(معارف القرآن ج3ص 631)

خطیب الانبیاء

حضرت شعیبؑ کو’’ خطیب الانبیاء‘‘ یعنی’’ نبیوں کا خطیب‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ آپؑ فصاحت و بلاغت اور زورِ بیان میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ جب حضرت شعیبؑ کا ذکر فرماتے تو فرماتے’’ یہ انبیاءؑ میں خطیب ہیں۔‘‘

وفات اور قبرِ مبارک

حضرت شعیبؑ نے طویل عُمر پائی۔ روایت کے مطابق، انتقال کے وقت آپؑ کی عُمر چار سو سال تھی۔ اُردن کے شہر’’ السلط‘‘ کے قریب وادیٔ شعیبؑ میں آپؑ سے منسوب ایک مزار ہے، جس پر حکومت نے شان دار مقبرہ اور اس سے متصل مسجد بھی تعمیر کروائی ہے۔ روایت یہ بھی ہے کہ اپنی قوم کی تباہی کے بعد حضرت شعیبؑ ،حضرِموت کے مشہور شہر’’شیون‘‘ چلے گئے تھے۔ اُس کے مغربی جانب’’ شبام‘‘ نامی مقام پر آپؑ نے انتقال فرمایا اور وہیں آپؑ کی قبر ہے۔تاہم، تفسیر ابنِ کثیر میں وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ حضرت شعیبؑ اور اُن کے ساتھیوں نے مکّہ مکرّمہ میں وفات پائی اور آپؑ کی قبر، کعبہ شریف کی غربی جانب ہے۔(واللہ اعلم) بعض مفسرّین کے مطابق، آپؑ کو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے سُسر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں