آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چیئرمین نیب کا انٹرویو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،جسٹس رشیدرضوی

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون سپریم کورٹ بار کے سابق صدر جسٹس (ر)رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کو بھی زیرسماعت کیسوں پر رائے دینے کا اختیار نہیں ہے اس لحاظ سے چیئرمین نیب کا انٹرویو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے ،نیب کی موجودہ ٹیم کے ساتھ خودمختار احتساب نہیں ہوسکتا ہے،چیئرمین نیب کا انٹرویو عدالت میں جاری کیسوں پر اثر انداز ہوگا، نیب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے،وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسف زئی نے کہا کہ مالم جبہ کیس میں کرپشن ہوئی تو نیب اب تک خاموش کیوں رہا، اپوزیشن کے کیسوں کی برابری کرنے کیلئے پرویز خٹک کو رگڑا دینا سمجھ سے بالاتر ہے،ماہر بین الاقوامی امور عادل نجم نے کہا کہ امریکا اور ایران جنگ نہیں چاہتے لیکن امریکا ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے، اگر جنگ نہیں بھی ہوئی تو ایک غیرمستحکم خطہ مزید غیرمستحکم ہوگیا ہے۔ماہر قانون جسٹس (ر) رشید اے رضوی نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں

چیئرمین نیب کے مس کنڈکٹ کو واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے، چیئرمین کے تقرر کی شق میں ہی اس کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی دیا گیا ہے، جس گراؤنڈ پر سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاسکتا ہے اسی پر چیئرمین نیب کو بھی ہٹایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ کے جج کو بھی زیرسماعت کیسوں پر رائے دینے کا اختیار نہیں ہے اس لحاظ سے چیئرمین نیب کا انٹرویو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایک خاص اخبار کے رپورٹر کو انٹرویو دیا اور اسے نشر کروایا جو معنی خیز بات ہے، چیئرمین نیب کا انٹرویو عدالت میں جاری کیسوں پر اثر انداز ہوگا، نیب میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے، نیب میں بہت زیادہ قابل اور اہل تحقیقاتی افسران اور ڈائریکٹرز نہیں ہیں، ایف آئی اے اور پولیس کے تحقیقات کار ان سے بہت آگے ہوتے ہیں، نیب کی موجودہ ٹیم کے ساتھ خودمختار احتساب نہیں ہوسکتا ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسف زئی نے کہا کہ مالم جبہ کیس میں کرپشن ہوئی تو نیب اب تک خاموش کیوں رہا، اپوزیشن کے کیسوں کی برابری کرنے کیلئے پرویز خٹک کو رگڑا دینا سمجھ نہیں آتا ہے، مالم جبہ کیس میں نہ زمین گئی نہ حکومت کا نقصان ہوا تو نیب کا یہاں کیا ہے، اگر کسی نے غلط کام کیا ہے تو نیب کو میرٹ کے مطابق کارروائی کرنا چاہئے، وزیراعظم عمران خان کی پوری سیاست کرپشن کیخلاف ہے، عمران خان حکومت قائم رکھنے کیلئے کبھی کرپشن کرنے والے کو نہیں بچائیں گے۔ شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ کے پی احتساب کمیشن پر کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن وہ کسی کام کا نہیں تھا، صوبائی احتساب کمیشن کو ختم کرنے کا فیصلہ اچھا تھا، ملک میں اداروں کو چلانے کیلئے لوگوں کی ضرورت ہے، پرویز خٹک وہ شخص ہیں جن پر آج بھی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی ہے، پرویز خٹک نے ایمانداری سے اپنا دورِ وزارت اعلیٰ گزارا ہے، پرویز خٹک بہادری کے ساتھ ٹھیک کام کرتے ہیں اور اسٹینڈ لیتے ہیں، پرویز خٹک نے مالاکنڈ میں سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کیے،اس وقت مالاکنڈ میں دہشتگردی تھی کوئی ایک روپیہ وہاں لگانے کو تیار نہیں تھا، مالم جبہ کیس میں ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ کو زمین ٹرانسفر ہورہی تھی، نیب کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو میڈیا کے سامنے لائے، نیب کو ان معاملات پر فوکس کرنا چاہئے جہاں قومی خزانے کو نقصان پہنچا ہو، نیب کو اپنی تحقیقات کا طریقہ کار درست کرنا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید