آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر20؍ شوال المکرم 1440 ھ 24؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) رواں مالی سال کے اول 9 ماہ میں قرضوں کی ادائیگی میں 14 کھرب 59 ارب 21 کروڑ اور دفاعی اخراجات کی مد میں 774 ارب 70 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہوگئے۔ اس عرصہ میں بجٹ خسارہ 5 فیصد 19 کھرب 22 ارب روپے رہا۔ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت اخراجات 578 ارب 45 کروڑ 70 لاکھ روپے رہے۔ وفاقی مالیات سے صوبوں کو17 کھرب 79 ارب 14 کرڑو 20 لاکھ روپے دیئے گئے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں پنجاب کو 866.567 ارب، سندھ کو 441.902 ارب، خیبر پختون خواہ کو 290.416 ارب اور بلوچستان کو 180.902 ارب روپے دیئے گئے۔ مذکورہ عرصہ میں ایف بی آر نے 35 کھرب 83 ارب روپے ادا کئے جبکہ اخراجات 55 کھرب روپے کے ہوئے۔ پلوامہ واقعہ اور افغان سرحد پر جھڑپوں کے نتیجے میں دفاعی بجٹ میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ حکومت نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے 19 کھرب 22 ارب روپے سے زائد کے قرضے لئے۔ فسکل آپریشن سمری کے مطابق 35 کھرب 83 ارب روپے سے زائد کی مجموعی مالیات میں ٹیکس وصولیوں کا حجم 31 کھرب 62 ارب روپے رہا۔ تاہم جی ڈی پی 38 کھرب 38 ارب 80 کروڑ روپے طے کی گئی۔ خدمات پر سیلز ٹیکس

کی مد میں 142 ارب 33 کروڑ 90 لاکھ، 50 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے اسٹیمپ ڈیوٹیز، 19 ارب 63 کروڑ موٹر وہیکل ٹیکس، 17 ارب 66 کروڑ روپے جی آئی ڈی سی، 4 ارب 80 کروڑ گیس سرچارج، 141 ارب 36 کروڑ 90 لاکھ روپے پیٹرولیم لیوی اور 66 ارب 84 کروڑ روپے دیگر ٹیکسوں کی مد میں وصول کئے گئے۔ 421 ارب 60 کروڑ روپے نان ٹیکس ریونیو رہا۔ 138 ارب 20 کروڑ روپے اسٹیٹ بینک کا اضافی منافع رہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں