آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ21؍محرم الحرام 1441ھ 21؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس جدید دور میں ماہرین تحقیقات کی بناء پر متعدد مسئلوں کاحل نکال رہے ہیں ،حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق نے کئی برس سے زیر بحث مسئلہ کو حل کردیا ہے ۔ماہرین کے مطابق اس تحقیق کے ذریعے ایندھن میں بدلنے والے بیکٹیریاکا اہم راز فاش ہوگیا ہے ۔قدرت کے کار خانے میں ایک خاص قسم کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جنہیں ’’میتھینو نوٹروفک بیکٹیریا‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ان بیکٹیریاکی خوراک میتھن گیس ہےاور یہ اس کے بدلے میتھا نول ایندھن بناتے ہیں ۔نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ایک خاص قسم کا اینزائم تیار کیا ہے جو کہ پورے عمل کو بڑھا کر میتھین کو میتھا نول میں تبدیل کرتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں تانبے (کاپر ) کا ایک آئن استعمال ہوتا ہے ۔ماحولیاتی لحاظ سے یہ اہم ہے ،کیوں کہ اس سے ایسے عمل انگیز بنانا ممکن ہوں گےجو انتہائی ماحول دشمن گیس میتھین کو ہضم کرکے اسے قابل استعمال میتھانول میں بدلیں گےاور اس سے خود ہماری توانائی کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی ۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تانبے کا عمل دخل بھی ہے ،جس سے پتا چلا ہے کہ آخر کس طر ح قدرت میتھین کو میتھانول بناتی ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق میتھینو ٹروفک بیکٹیریا ایک دفعہ میں دوکا م کرتے ہیں ۔ایک جانب تو وہ ماحول دشمن گرین ہائوس گیسوں میں میتھین کو جذب کرتے ہیں اور اسے ماحول دشمن ایندھن میں تبدیل کردیتے ہیں ۔یہ ایک طر یقہ قابل ِعمل ثابت ہوتا ہے تو دنیا کو صاف ایندھن کی تیاری کا ایک اور طر یقہ مل جائے گا ۔صنعتی طر یقوں میں میتھین سے میتھانول بنانے کے لیے 1300 درجے سینٹی گریڈ در جہ حرارت ہوتا ہے ۔سائنس دانوں کاکہنا ہے کہ اگر ہم بیکٹیریا کے نظام بنانے میں کام یاب ہو جاتے ہیں تو ہمارے ہاتھ میں آسان توانائی کا ایک نیا طر یقہ بھی آجائے گا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید