آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منگل کے روز وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی کابینہ نے معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے طویل مدتی پالیسی کی جو اہمیت اجاگر کی اور عوام کی طاقت سے پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے جس عزم کا اعادہ کیا، اسے موجودہ حکومت کے وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کے بیان سے ملاکر دیکھا جائے تو وطن عزیز ایک ایسے اتفاق رائے کی طرف بڑھتا محسوس ہوتا ہے جس میں ملکی معیشت کو حکومتوں کی تبدیلی اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے برسر اقتدار آنے کے باوجود ایک خاص رخ پر متعین ٹائم فریم کے ذریعے آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھا جا سکے گا۔ وزیر منصوبہ بندی کا ’’جیو‘‘ چینل کے ایک پروگرام میں کہنا تھا کہ میثاق معیشت سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان کے لئے کیا جانا چاہئے، اس کے لئے سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا۔ اسی پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنی پہلی تقریر میں میثاقِ معیشت کی پیشکش کی تھی، یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ لیا جائے یا تنہا ہی چلا جائے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لئے طویل مدتی پالیسی کی ضرورت اجاگر کی گئی جس کے لئے مشیرِ خزانہ ہفتے کے روز جامع اقتصادی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ مذکورہ اجلاس

میں اگرچہ تعلیمی پالیسی اور کامیاب نوجوان پروگرام پر ڈھائی گھنٹے سیر حاصل بحث کے بعد اس کی باقاعدہ منظوری دی گئی، تاہم عوام کو درپیش مشکلات، اپوزیشن کی بے چینی، ڈالر کی قیمت میں اضافے، روپے کی بے قدری سمیت جن امور پر غور کیا گیا، ان کی تفصیلات پوری طرح سامنے نہ آنے کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام حلقوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا اور باہم مشاورت کرنا موجودہ ملکی حالات اور چیلنجوں کا تقاضا ہے۔ جہاں تک میثاقِ معیشت کا تعلق ہے اس کی ضرورت برسوں بلکہ عشروں سے ماہرین اقتصادیات اجاگر کرتے رہے ہیں کیونکہ ملکی دفاع و سلامتی کے تقاضوں سمیت ہر معاملے میں معیشت کا کردار بہت ہی اہم ہے۔ اس وقت میثاقِ معیشت کی ضرورت کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی کے بیان کی صورت میں پی ٹی آئی حکومت کی سوچ کا جو رُخ سامنے آیا ہے وہ اگر پہلے سامنے آجاتا تو ایک قومی اتفاق رائے کی صورت میں مشکل فیصلوں کو رو بہ عمل لانے کی شاید کوئی کم مشکل صورت نکل آتی۔ میثاقِ معیشت، بلاشبہ قومی مفاد کا تقاضا ہے اور توقع یہی کی جاتی ہے کہ بعض خاص حوالوں سے سیاسی شرائط منوانے پر زور دیئے بغیر مخلصانہ کوششوں سے ایسا قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی نو ماہ کی حکومت کے دوران اگرچہ شیلٹر ہومز کی فراہمی، ای او بی آئی پنشن بڑھنے، قومی بچت اسکیم کے منافع میں اضافے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار علاج معالجے کیلئے خطیر رقوم کی ضمانت کے ساتھ ہیلتھ کارڈ اسکیم کی صورت میں عام لوگوں کو بعض سہولتیں میسر آئیں، تاہم مہنگائی اور آئی ایم ایف کی شرائط سمیت جو بحرانی کیفیت نظر آرہی ہے اس میں میثاقِ معیشت پر فوری توجہ نہ دی گئی تو تشویش کے پہلو بڑھتے رہیں گے۔ پاکستانی قوم دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ایکشن پلان اور آئینی اصلاحات کے امور پر اتفاق رائے کے ذریعے جس طرح سرخروئی حاصل کر چکی ہے اسی طرح معیشت پر بھی اتفاق رائے ممکن ہے۔ جاپانی سیاستدانوں نے ایسے حالات میں، کہ حکومت کی آئے روز تبدیلی وہاں کی معیشت کو دگرگوں کر رہی تھی، متفقہ فریم ورک تشکیل دے کر اس بات کو یقینی بنا لیا حکمرانوں کی تبدیلیوں کے باوجود ٹوکیو ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اب جبکہ پاکستان میں میثاق معیشت کے حوالے سے مل بیٹھنے کے اشارے سامنے آئے ہیں تو ہمارے اربابِ سیاست کو اس باب میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے۔ ملکی مفادات ذاتی انائوں کے متحمل نہیں ہوتے، ملکی مفاد کے لئے تمام پارٹیوں کے رہنمائوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر میثاقِ معیشت کی طرف آنا ہوگا جس میں پہل کاری حکومت کی طرف سے بلاتاخیر کی جانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں