آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وبائی بیماریوں میں مبتلا افراد حج و عمرہ کا سفر ملتوی رکھیں،علماء

لندن(پ ر)برطانیہ میں عازمین حج و عمرہ کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل قومی فلاحی تنظیم ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے کہ جس میں انہوں نے عازمین حج و عمرہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کسی قسم کی ایسی وبائی بیماری میں مبتلاء ہوں کہ دوسروں تک پھیل کر ان کو نقصان پہنچا سکتی ہو تو ایسے افراد کا حرمین شریفین، مساجد یا ایسی جگہ جہاں لوگوں کا بڑا اجتماع ہو، جانا حرام ہے۔ ایسے افراد اپنی مکمل صحت یابی تک حج و عمرہ کی ادائیگی کو ملتوی رکھیں۔ ایسوسی ایشن آف برٹش حجاج کے ہیلتھ ایکسپرٹس نے کہا ہے کہ حج کے دوران وبائی بیماریاں ہجوم میں کھانسنے، چھینکنے، مریض کے استعمال کے برتن اور تولیہ وغیرہ شیئر کرنے سے پھیلتی ہیں اور بالخصوص ہائی رسک کٹیگری یعنی شوگر،ہائی بلڈ پریشر، کڈنی، دل کے مریض جسم میں قوت مدافعت کمزور ہونے کی وجہ سے وبائی بیماریوں کے جلد شکارہوسکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ بیس لاکھ سے زائد انسانوں کے عظیم اجتماع میں مناسک حج کی ادائیگی دشوار اور مشکل کام ہے۔ اس لئے جسمانی طور پرمعذور افراد کو بھی زمینی حقائق سے اچھی طرح روشناس ہوکر ہی حج پر جانے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ وگرنہ انہیں اتنے بڑے اجتماع میں مناسک کی ادائیگی، مکہ سے منیٰ،عرفات اور مذدلفہ کے

درمیان نقل و حمل، ٹرانسپورٹ، خیموں میں رہائش اور روزمرہ کی دیگر سہولیات کی کمی کی وجہ سے بے پناہ مشکلات و مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے احباب کے لئے عمرہ کے فریضہ کی ادائیگی زیادہ بہتر اور مناسب متبادل ہے کیونکہ عمرہ کے مناسک کی ادائیگی صرف حرم کعبہ میں ہی ہوتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں