آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت نے آئی ایم ایف کے دبائو میں آکر برآمدی صنعتوں کے لئے توانائی کا پیکیج واپس لے لیا۔ اس کے علاوہ برآمدی صنعت سے زیرو ریٹڈ درجہ واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم وفاقی مشیر کے ایک قریبی معاون کے مطابق اس بارے میں حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی ۔ اپٹما کے سرپرست اعلیٰ گوہر اعجازنے اس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اس سے نہ صرف ملکی برآمدات خطرے میں پڑ جائیں گی اور نتیجتاً ملک کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا تین ارب ڈالرز کی برآمدات کم ہو جائیں گی جو 24ارب سے گھٹ کر 21ارب ڈالرز پر آجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں صنعتوں کو گیس 4ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو دستیاب ہے۔ جبکہ پاکستان کی 70فیصد صنعتیں جو پنجاب میں ہیں انہیں قدرتی گیس 12ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر دی جا رہی ہے۔ اس امتیازی سلوک سے پنجاب میں ٹیکسٹائل صنعت ختم ہوجائے گی۔ اس حوالے سے اپٹما کا وفد آج جمعرات کو وزیراعظم کے مشیران عبدالرزاق دائود، ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے ملاقات

کر رہا ہے۔ ملک کے نئے اقتصادی منیجرز نے برآمدی صنعتوں سے 6.5ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو گیس اور 7.5سینٹ فی یونٹ بجلی کا پیکیج واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جو 30جون 2019تک کیلئے دیا گیا تھا۔ وزیراعظم کے مشیر کے ایک قریبی معاون نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مراعات دینے کا گزشتہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں