آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہیں بھی جائیں لوگ نیب کی وجہ سے کام کرنے سے ڈرتے ہیں، علی زیدی

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سینئر صحافی جاوید چوہدری نے کہا ہےکہ چیئرمین نیب نے مجھے کوئی انٹرویو نہیں دیا البتہ ان سے ملاقات ہوئی تھی ، چیئرمین نیب نے ملاقات کیلئے مجھے خود بلوایا تھا یہ ملاقات نیب ہیڈکواٹر میں ہوئی، چیئرمین نیب کے اسٹاف نے رابطہ کر کے دوسرا کالم روکنے کیلئے کہا، میرے انکار پر کچھ ترامیم کیلئے کہا جس پر میں نے دوسرے کالم میں ترامیم کیں، چیئرمین نیب کے انٹرویو پر قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے، چیئرمین نیب کو ہٹایا جاتا ہے تو ڈپٹی چیئرمین نیب ٹیک اوور کرسکتے ہیں،چیئرمین نیب نے ملاقات میں جہاں آف دا ریکارڈ گفتگو کی وہ آج بھی آف دا ریکارڈ ہے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی اور ن لیگ کے رہنما محسن شاہنواز رانجھابھی شریک تھے۔وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ نیب کے خوف سے وزارت بحری امور کے افسران کام نہیں کرتے ہیں، کہیں بھی چلے جائیں لوگ نیب کی وجہ سے کام کرنے سے ڈرتے ہیں، اپوزیشن کو چیئرمین نیب سے

متعلق شکایت ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل چلی جائے، بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت ملنی چاہئے۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ نیب کے چیئرمین کو بہت محتاط رہ کر گفتگو کرنی چاہئے، چیئرمین نیب اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کررہے ہیں، وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کیس کی انکوائری بند نہیں ہوئی تو چیئرمین نیب گھر چلے جائیں گے لیکن انہوں نے انکوائری بند کی تو اپوزیشن انہیں بیٹھنے نہیں دے گی۔سینئر صحافی جاوید چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب نے مجھے کوئی انٹرویو نہیں دیا البتہ ان سے ملاقات ہوئی تھی ، میں نے اپنے کالموں میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ چیئرمین نیب کا انٹرویو تھا، میرے کالموں کا ٹائٹل ہی یہ ہے کہ ”چیئرمین نیب کے ساتھ ایک ملاقات“۔چیئرمین نیب سے ملاقات نیب ہیڈ کوارٹر میں ہوئی، چیئرمین نیب نے ملاقات کیلئے مجھے خود بلوایا تھا، ان کے اسٹاف نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا کہ صبح باس ملنا چاہتے ہیں اور 12بج کر 45منٹ پر ملاقات ہوگی، چیئرمین نیب سے ملاقات میں صرف میں اور وہ موجود تھے، میں واپس جارہا تھا تو ان کے سیکیورٹی چیف مجھے نیچے تک چھوڑنے آئے تھے، چند ماہ پہلے دو مرتبہ ملاقات طے ہوئی تھی لیکن ہونہ سکی تھیں۔ جاوید چوہدری نے بتایا کہ چیئرمین نیب نے خود گفتگو شروع کی اور بہت سی چیزیں بتائیں، چیئرمین نیب نے گفتگو کے دوران جہاں آف دا ریکارڈ کہا وہ آج بھی آف دا ریکارڈ ہے، وہ باتیں میں نے نہ کسی جگہ لکھی ہے نہ لکھوں گا، چیئرمین نیب نے منسٹر کالونی کے بنگلہ نمبر 29سے کچھ اہم فائلیں چوری ہونے کی بات آن دا ریکارڈ کہی تھی ،انہوں نے کچھ باتیں مزید بتائیں تھیں کہ چوری ہونے والی فائلیں کون سی تھیں لیکن ساتھ ہی کہا کہ یہ آپ نے بیان نہیں کرنا ہے جس کا میں نے اپنے کالم میں ذکر بھی نہیں کیا، چیئرمین نیب نے کہا کہ پرویز خٹک کیخلاف ریفرنس تگڑا ہے مگر مجھے ان کی صحت کی بڑی فکر ہوتی ہے۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب نے آصف زرداری کا مذاق نہیں اڑایا تھا، صرف یہ کہا تھا کہ آصف زرداری بیمار ہیں ان کی ٹانگیں لرزتی ہے اور ہاتھ بھی کانپتا ہے، میرے کالم میں جو حقائق ہیں نیب انہیں چیلنج کرنا چاہے تو میں ثابت کرنے کیلئے تیار ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں