آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے لوگوں کا یہ پسندیدہ پھل ہے۔ اس کے آنےکا انتظار بچے بوڑھے سب ہی بے صبری سے کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں، یہ ذائقے میں لذیذ اور رس دار ہونے کے ساتھ ساتھ صحت پر بھی مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔ماضی میں آم کی کاشت سب سے پہلےجنوبی ایشیا میں دیکھنے میں آئی، تاہم اب دنیا کے تقریباً ہر خطے میں آم پایا جاتاہے۔ پاکستان، بھارت اور فلپائن میں آم کو قومی پھل جبکہ بنگلہ دیش میں قومی درخت کا درجہ حاصل ہے۔ دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر آم کی کاشت کی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق سالانہ تقریباًچار کروڑ 60لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے۔ یہ پھل ذائقے دار تو ہےہی لیکن اس کے بے شمار طبی فوائد بھی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان طبی فوائد سے متعلق جان کر آپ کی آم کے لیے پسندیدگی مزید بڑھ سکتی ہے،تو آئیے جانتے ہیں کہ آم کن خصوصیات سے مالامال ہے۔

آم صحت کیلئے بہترین کیوں ؟

ماہرین کے مطابق آم میں کیلوریز کی تعداد کم اور فائبر کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب آم کو وٹامن اے اور سی کا بہترین ذریعہ بھی کہا جاتا ہے۔ آم کا گودا فولیٹ،B6، آئرن، کم مقدار میں کیلشیم، زنک اور وٹامن ای پر مشتمل ہوتا ہے۔ آم اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات سے بھرپور پھل ہے، جن میں مخصوص فیوٹوکیمیکل مثلاً گیلوٹینس اور میگفرین شامل ہیں۔ یہ تمام خصوصیات طبی طور پر آم کے فائدہ مند ہونے کی توثیق کرتی ہیں۔

165گرام آم کی غذائیت

ایک آم (165گرام) کی قاشیں جو غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں ان میں99کیلوریز، 1.4گرام پروٹین،24.7گرام کاربز، 0.6گرام فیٹ، 2.6گرام ڈائٹری فائبر، روزانہ کاوٹامن سی کا 67فیصد،کاپر 20فیصد، فولیٹ روزانہ کا 18فیصد، 11.6فیصد وٹامن بی6، 10فیصد وٹامن اے،9.7فیصد وٹامن ای، 7فیصد نیاسن، 6.5فیصد وٹامن B5، 6فیصد وٹامن کے،6فیصد پوٹاشیم،4.5فیصد میگنیز، 4فیصدتھیا مائن اور 4فیصد میگنیشیم ہے۔

صحت مند مدافعتی نظام

مدافعتی نظام کی خرابی بہت سی بیماریوں کی جڑ بنتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ماہرین ایک صحت مند انسان کے لیے صحت مند مدافعتی نظام ضروری قرار دیتے ہیں۔ آم چونکہ وٹامن اے ،بی ،سی ، کے اور فولیٹ پر مشتمل ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ذریعےمدافعتی نظام صحت مند رہتا ہے مثلاً وٹامن اے کی موجودگی انسانی جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ چنانچہ روزانہ ایک کپ (165گرام ) آم روزانہ 10فیصد وٹامن اے کی مقدار پوری کرتا ہے۔

وٹامن سی انسان کو بہت سی بیماریوں سے دور رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔وٹامن سی کے ذریعے خون میں سفید خلیات متاثر کن انداز میں کام کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ جِلد کے تحفظ میں بھی مددگار ہوتا ہے، چنانچہ روزانہ 165گرام آم کا استعمال ایک تہائی وٹامن سی کی مقدار پوری کرتا ہے۔

دل کی صحت کیلئے بہترین

آم میگنیشیم، پوٹاشیم اور میگفرین پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ تمام اجزا دل کی صحت کے لیے بہترین قرار دیے جاتے ہیں۔مثا ل کے طور آ م میں موجود پوٹاشیم دل کی رفتار کو معمول پر رکھنے اور خون کی شریانوں کو پرسکون بنانے کے ساتھ امراض قلب سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ دوسری جانب یہ غذائی اجزا خون میں کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ آم میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹ میگفرین سے متعلق جانوروں پر کی گئی ایک تحقیق میںبتایا گیا ہے کہ یہ دل کے خلیوں کو سوزش، تکسید ی کشیدگی اورسکڑنے سے تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

نظام ہاضمہ کیلئے مفید

آم میں ایسی کئی غذائی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو نظام ہاضمہ کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں مثلاًامالائیسز یعنی جسم کے اندر موجود انزائمز کا ایک ایسا گروپ جو صرف نشاستے کو توڑ کر اسے چھوٹے اور سادہ مرکبات میں تبدیل کرتا ہے تاکہ وہ بآسانی جذب ہوتے ہوئے جسم کے استعمال میں آجائیں۔ اس کے علاوہ آم پانی کے ساتھ ڈائٹری فائبر اور ہائیڈروجن بھی فراہم کرتا ہے۔ ہائیڈروجن پانی کی کمی کو دور کرتا ہے جبکہ ڈائٹری فائبر قبض، ڈائریا اور اسہال جیسی بیماریوں کا حل تصور کیا جاتا ہے۔

آنکھوں کیلئے مددگار

آم میں وٹامن اے کے علاوہ دو خاص اینٹی آکسیڈنٹس لیوٹین اور ذیازینتھن پائے جاتے ہیں۔ ذیازینتھن اور لیوٹین اضافی بلیو لائٹ کو ختم کرکے آنکھوں کو خراب ہونے سے محفوظ رکھتا اورسورج کی شعاعوں سے بچاتاہے۔ یہ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں اور جِلد کے داغ دھبوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ جبکہ وٹامن اے کی کمی بینائی کے مسائل پیدا کرتی ہے۔

کینسر کے خطرات میں کمی

آم میں پولی فینول کی زائد مقدار پائی جاتی ہے۔ پولی فینول، آکسیڈیٹو اسٹریس (Oxidative Stress)سے بچاتا ہے، جو کہ انسانی جسم میں کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ دوسری جانب مختلف تحقیق یہ ثابت کرتی ہیں کہ آم میں موجودبیٹا پروٹین کی زائد مقدارچھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو کم کردیتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں