آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


کراچی میں جوہرآباد پولیس فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں گھر کے باہر کھڑی گاڑی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے والے موٹرسائیکل سوار ایک ملزم کو سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے جو سوا 2 ماہ قبل 4 سیکنڈ کی واردات میں خود بھی جھلسنے کے باوجود فرار ہوگیا تھا۔

پولیس کے مطابق فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں گاڑی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی واردات 22 اور 23 مارچ 2019 کی درمیانی شب 2 بج کر 19 منٹ پر ہوئی تھی جس کے بارے میں کسی نے پولیس کو رپورٹ کی اور نہ کوئی قانونی کارروائی کی گئی، تاہم پولیس نے گزشتہ رات ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ رات ایف آئی آر درج کی ہے۔

ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم راؤ کے مطابق گزشتہ رات ایک سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار ایک ملزم ہاتھ میں بوتل لئے فیڈرل بی ایریا بلاک 14 کی ایک گلی میں داخل ہوتا ہے ۔

موٹر سائیکل سوار بوتل سے کار پر پیٹرول چھڑکتا ہے اور لائٹر جلا کر گاڑی کو نذر آتش کر دیتا ہے، محض 4 سیکنڈ کے اندر اندر کارروائی مکمل کرکے ملزم فرار ہوجاتا ہے۔

اس کارروائی کے دوران ملزم انتہائی غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے اور اتنے قریب سے آگ لگانے کے دوران شعلہ بھڑکنے کی وجہ سے خود بھی جھلس جاتا ہے، اس مقام پر دوسرے کیمرے کی فوٹیج میں ملزم کو فرار ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

جوہر آباد تھانے کے ایس ایچ او اطہر ملک نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس نے اپنی کوششوں سے جائے وقوعہ کا سراغ لگالیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ فیڈرل بی ایریا بلاک 14 کے مکان نمبر 1574 کے باہر پیش آیا۔ گاڑی کے مالک محمد اقبال کو تلاش کرکے پولیس نے نامعلوم ملزموں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 19/100 درج کرلی ہے۔

ایک بینکویٹ میں کام کرنے والے کار کے مالک محمد اقبال کے مطابق ان کی کسی سے دشمنی نہیں اور نہ ہی انہیں گاڑی کو آگ لگانے والے ملزم کے بارے میں کوئی شبہ ہے۔

پولیس کے مطابق ویڈیو میں واردات کی ہولناکی دیکھی جاسکتی ہے لیکن ملزم کے فرار کے بعد پیٹرول کو لگنے والی آگ خود ہی بجھ گئی گاڑی کے رنگ کو نقصان پہنچا تاہم گاڑی مکمل جلنے سے بچ گئی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں