آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا … راجہ اکبردادخان
پاکستان ضرور معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملک جلد ان مشکلات سے نہیں نکل پائے گا اور بقول چند اپنے ہی بوجھ تلے دب کر کسی مارشل لاء کی لپیٹ میں آجائیگا۔ ایشیائی سیاست میں کیونکہ تمام سیاستدانوں کیلئے ہموار سطح نہیں بن پاتی۔ اسلئے اپنی جماعتوں کیلئے وسائل کی تقسیم میں جگہ بنانے کیلئے جماعتی قائدین کا انفلیکٹڈ کنورسیشن کرتے پایا جانا سیاسی حکمت عملی سمجھی جانی چاہئے۔ حالیہ قومی انتخابات کو منعقد ہوئے ابھی 10ماہ ہی ہوئے ہیں اور ایک سابق وزیراعظم کی ایسی ہیجانی گفتگو جس نے ملکی استحکام کو نقصان پہنچایا ہے کو غیرذمہ دارانہ کہے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ آج کے ماحول میں ایسی ہلکی گفتگو کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی تعجب یہ ہے کہ ایک سابق وزیراعظم ایسی کمزور گفتگو کررہے ہیں۔ دونوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے کئی اہم رہنما نیب کو مختلف حوالوں سے مطلوب ہیں۔ ان جماعتوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان تمام معاملات میں کیا رویے اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ اگر وہ تعاون نہیں کرنا چاہتے تو یہ آپشن بھی انکے پاس موجود ہے۔ نیب درمیانی مدت کا ایک آئینی ادارہ ہے۔ جسکے پاس اسکے اپنے وکلاء ایف آئی اے کے تفتیش کار اور اس ادارہ کو فعال بنائے رکھنے کیلئے دیگر عملہ موجود ہے۔

اسکا چیئرمین ایک ریٹائر جج ہے جسے ان دو جماعتوں نے اتفاق سے تعین کیا۔ اگست 2019ء کے بعد سے ایک حکومت بھی موجود ہے اگر ریاست کے تمام حصوں نے کام کرنا ہے تو حکومتی احکامات سے تعاون کرنا ہوگا یہ ریاستی نظام کے رواں دواں رہنے کیلئے ضروری ہے۔ یہ واضح ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی جماعت کو یہ الیکشن ہار جانے کا سب سے زیادہ دکھ ہے۔ پچھلی پانچ دہائیوں میں سب سے زیادہ حکومت بھی ان کی جماعت ہی نے کی ہے اور اگر وہ اقتدار میں نہیں رہے تب بھی فوجی حکمران حکومتوں اور پی پی کے ساتھ مک مکا کی بنیاد پر پارٹی کی ایلیٹ ہمیشہ اقتداری اشرافیہ کا حصہ رہی ہے۔ اب اس نیب زدہ ایلیٹ نے اگر پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی اور نہ چاہتے ہوئے بھی سچ بات کرنی ہے تو وہ تسلیم کریں کہ نیب میں جتنے بھی کیس کھلے ہوئے ہیں تحریک انصاف کو نصف درجن سے زیادہ کیلئے الزام نہیں دیا جاسکتا۔ آپ میں ہمت ہونی چاہئے کہ جس دور میں بھی آپکے خلاف کیس بنے ان کا الزام عمران خان کو نہیں بلکہ انہیں دیں جنہوں نے بنائے۔ دوغلا پن یہ ہے کہ دونوں جماعتیں شیروشکر ہیں، دونوں جماعتوں اور مولانا فضل الرحمٰن نے انتخابات کو مسترد کردیا تھا، بالکل موقف درست ہوتا اگر عمران خان کو 2013ء کی طرح دو تہائی اکثریت مل جاتی یا دلوادی جاتی۔ جس سے غیرجانبداری کی عینک سے دیکھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ گزشتہ الیکشن ایک منصفانہ ماحول میں مکمل ہوئے اور اگر آپ مارشل لاء ادوار کی پروردہ ٹیم ان انتخابات کو انجینئرڈ سمجھتی ہے تو مت احسان کیجئے ملک پہ یا کسی فرد پر بلکہ اپنے جائز حق کیلئے احتجاج اس وقت تک جاری رکھئے جب تک کہ نئے انتخابات کیلئے آپکے مطالبات تسلیم نہیں ہوجاتے۔ ورنہ بحیثیت ارکان قومی اسمبلی اور جماعتی قائدین اپنی آئینی اور اخلاقی حیثیت کا خیال کرتے ہوئے حکومت وقت کو نہ تو مارشل لاء سے ڈرائیں نہ ہی ایسے غیرحقیقی بیانوں سے پاکستانی عوام کی دل آزاری کریں۔ پچھلے چھ سالوں کے دوران کئی ایسے مواقع آئے کہ اگر فوجی ایسٹبلشمنٹ چاہتی تو مارشل لاء لگ سکتا تھا مگر فوج نے زبان دانتوں تلے دبا کر آپ (ن) کی حکومت کو اپنے پانچ سال پورے کرنے دیئے۔ کیونکہ فوج طویل عرصہ سے ’’جمہوریت سپورٹنگ مولڈ‘‘ میں ڈھل چکی ہے اور جس طرح وہ پس پردہ رہ کر جمہوریت کی پشت پناہی کررہی ہے۔ وہ عین ملکی مفاد میں ہے۔ اگر ان جماعتوں کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ جس طرح عمران خان کی احتجاجی تحریک بہت تھوڑے عرصہ میں ملک گیر حیثیت اختیار کرگئی تو آج اور اس وقت کے حالات میں فرق ہے۔ یہاں نہ ہی دھاندلی موجود ہے اور نہ ہی آپ میں سے کوئی عمران خان ہے کہ اصولی موقف پر ڈٹ کر میدان مارلےگا۔ الحمدللہ اعلیٰ عدلیہ بھی ماضی سے مختلف ہے، قانون اور انصاف کی بنیاد پر فیصلے ہورہے۔ ججوں پر ماضی کی طرح کا کوئی دبائو نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کو انتظامیہ کی مضبوط گرپ سے نکالنا بھی آسان نہ تھا۔ مگر پاکستان نے پچھلے پانچ سالوں میں جوڈیشل ایکٹوازم اور عدالتی خود مختاری کی بنیاد پر عدلیہ کے کئی تاریخی فیصلے اور اقدامات دیکھے ہیں۔ سیاسی طور پر یہ ایک نئی جماعت نے مرکزی اور کئی صوبوں میں شراکت سے حکومت بنائی۔ احتجاجی تحریکیں چلانے والوں کے پیٹ میں زیادہ مروڑ اس لئے اٹھ رہے ہیں کہ انکا طویل اقتدار چھن گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں یہ بہت حد تک ثابت ہوگیا تھا کہ 2013ء کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور اسی تکلیف دہ حقیقت نے چند ماہ کے اندر تحریک انصاف کے ساتھ لوگوں کا ایک سمندر جوڑ دیا جسکے نتائج ہم سب پر واضح ہوچکے ہیں۔ ایک ذمہ دار اپوزیشن کیلئے حکومتی اقدامات کو اسمبلی کے اندر اور باہر تنقید کا نشانہ بنانا انکی قومی ذمہ داری ہے۔ اپوزیشن اپنے ٹیسٹ کروانے لندن میں تشریف فرما ہے۔ صوبائی سطح کی اپوزیشن کمپرومائزڈ قومی اسمبلی کے اندر سپیکر کے گھیرائو کے علاوہ اس احتجاجی تنظیم کو کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اپوزیشن (ن) بالخصوص ان آٹھ ماہ میں ایک بڑا جلسہ بھی نہیں کرسکی جماعت کے ایک سے زیادہ بیانیے چل رہے ہیں۔ ان حالات میں اپوزیشن کیلئے نہ تو کوئی جواز ہے کہ کسی معاملہ پر سڑکوں پر نکلا جائے اور نہ ہی انکے پاس سٹریٹ پاور ہے۔ بغض معاویہ ان جماعتوں کو بیان بازی کیلئے ایک جگہ جمع تو کرسکتا ہے مگر اندرونی اختلافات اتنے بڑے ہیں کہ مکمل طور پر انہیں کلوز کرنا ممکن نہیں۔ معاشی معاملات کی تکلیف دہ صورتحال ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس سے ہر کسی کو نمٹنا ہوگا۔ یہ حکومت ہو یا کوئی اور اپوزیشن کے پاس عوامی خیرسگالی کا بہت کم سٹاک موجود ہے کیونکہ عوام کی بھاری اکثریت ملکی سیاست کے حوالہ سے ان کے کردار سے اچھی طرح  واقف ہے۔ عوام کی بھاری اکثریت صورتحال کو سمجھتے ہوئے آنیوالی مہنگائی سے نمٹنے کیلئے چاہتے نہ چاہتے تیار ہے۔ آج ملک جس معاشی بدنظمی کا شکار ہے اسکی ذمہ دار پرانی اقتداری اشرافیہ اور بہت حد تک ٹیکس چور طبقات ہیں۔ جب تک ہم اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کرتے رہیں گے، جب تک گیس اور بجلی کے پورے بل ادا نہیں کرینگے جب تک ہم اپنی درآمدات کم نہیں کریں گے اور برآمدات نہیں بڑھائیں گے، جب تک ہم مالی اوراخلاقی کرپشن سے باہر نہیں آئیں گے اس وقت ہم مشکلات میں رہیں گے۔ ایک جامع قومی پراسس کی بنیادیں رکھی جارہی ہیں۔ نہ مارشل لاء لگے گا اور نہ ہی حکومت غیرمستحکم ہوگی کیونکہ دونوں پاکستان کے مفاد میں نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں