آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ21؍محرم الحرام 1441ھ 21؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈیٹ لائن لندن … آصف ڈار
کہا یہ جارہا ہے کہ پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے بہت اچھے مواقع موجود ہیں مگر ان مواقعوں کی تفصیل نہیں بتائی جاتی اور نہ ہی یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ کب دستیاب ہوں گے۔ موجودہ حکومت کو اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں سے بہت سی ’’توقعات‘‘ وابستہ تھیں مگر نہ حکومت نے اس معاملے پر کوئی خاص توجہ دی اور نہ ہی اوورسیز پاکستانیوں کے کانوں پر کوئی جوں رینگی، بلکہ میری ملاقات ایسے برٹش پاکستانیوں سے بھی ہوئی ہے جن میں سے بعض اچھے مستقبل کی خاطر سہانے خواب لے کر برطانیہ سے سب کچھ بیچ کر پاکستان چلے گئے تھے مگر چند ہی برس میں سب کچھ لٹ لٹا کر واپس آگئے اور نئے سرے سے ’’اچھے بچوں‘‘ کی طرح زندگی شروع کردی۔ ان میں سے بعض کو تو اپنے ہی رشتہ داروں نے مختلف جھانسے دے کر لوٹ لیا۔ بعض کو قبضہ مافیانے آن دبوچا اور یوں بھی ہوا کہ عدالتوں میں کیس سالہا سال چلتے رہے، ایسے میں تو قارون کا خزانہ بھی خالی ہوجاتا ہے تو پھر یہ بیچارے کہاں کی مولی تھے؟ بس جان بچاکر واپس بھاگے، بعض تو اس کم بخت جان کو بھی نہ بچا سکے! حال ہی میں میری ایک برٹش پاکستانی سے ملاقات ہوئی، جس نے مجھے بتایا کہ وہ چند برس قبل سرمایہ کاری کی غرض سے پاکستان گیا تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں پراپرٹی کے بزنس میں بہت

فائدہ ہوتا ہے اور اسے ابتدائی چند ماہ کے دوران فائدہ ہوا بھی! وہ بہت خوش تھا کہ برطانوی پونجی کاپاکستان کے اندر خوب استعمال ہوگا۔ اس سے نہ صرف اسے فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان کے اندر کاروباری سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔ اسے معلوم ہی نہ تھا کہ اس کے آس پاس رہنے والے کس درک پر ہیں؟ انہوں نے اسے اس طرح مایا جال میں پھانسا کر اس کی ساری دولت دائو پر لگ گئی۔ جو زمین یا مکان اس نے خریدے تھے ان میں سے بعض کے پہلے ہی جھگڑے چل رہے تھے۔ معاملات عدالتوں میں تھے، بعض پر اپنے ہی عزیز و اقارب نے قبضہ کرلیا اور یہ کیس بھی عدالتوں میں لگ گئے۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا کہ جو سالہا سال تک چلتا رہا۔ بعض جگہوں پر سمجھوتہ کرکے بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق کچھ رقم لی اور بینک میں رکھوا دی بعض چلتے ہوئے کیسوں والی جائیدادوں کو اونے پونے ’’کیس مافیا‘‘ کے ہی ہاتھوں فروخت کرنا پڑا اور پیسے بینک میں رکھ کر واپس برطانیہ آنے کی تیاری کی مگر اس پر ایک ستم اور ہوگیا کہ راتوں رات روپے کی قیمت گر گئی، ڈالر 140روپے سے تجاوز کرگیا۔ 179/180روپے کا پونڈ ہوگیا۔ بچی ہوئی پونجی مزید سمٹ گئی۔ بینک میں رکھی گئی رقم کی ’’اوقات‘‘ راتوں کو بدل کر 50/60 فی صد رہ گئی! عدالتوں میں کیس تھے تو کسی حکومتی کارندے یا لیڈر نے یہ کہہ کر مدد نہیں کی کہ معاملہ عدالت میں ہے، کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برٹش پاکستانیوں کو پاکستان آنے کی دعوتیں دیتے ہوئے نہیں تھکتے تھے! چنانچہ مافیا سے بچی ہوئی پونجی ’’ڈالر مافیا‘‘ کے ہاتھوں ضائع ہوگئی! تو پھر اوورسیز پاکستانی اب کس طرح پاکستان جاکر سرمایہ کاری کریں گے؟ ان کے اعتماد کو بار بار ٹھیس پہنچائی گئی ہے! حکومت کی پالیسی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے نہ ہی وہ ڈالر کو قابو میں رکھنے کے لئے کوئی اقدامات کررہی ہے ان حالات میں اوورسیز پاکستانی وطن عزیز میں جاکر پونڈ یا ڈالر کے بدلے میں روپیہ کیوں خریدیں گے کہ جب انہیں یہ معلوم ہوگا کہ ان کےپیسے کی ویلیو راتوں رات ختم ہوسکتی ہے۔ تاہم اس صورتحال میں ساری ذمہ داری حکومت پر بھی عائد نہیں کیونکہ ملک کے چالاک کاروباری طبقے نے بھی اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ان لوگوں نے ڈالر مہنگے داموں خریدکر روپے کی قدر میں کمی اور اسے نیچا دکھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت نے ان ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے خلاف اب تک کوئی قدم بھی نہیں اٹھایا؟ ان حالات میں پاکستان کے اندر بیرونی سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد کس طرح بحال ہوگا؟

یورپ سے سے مزید