آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:مشتاق ملک…سلاؤ
(پہلی قسط)
آج کے دن تک یہ مانا جاتا ہے کہ 31-10-2019کو برطانیہ یورپین یونین سے الگ ہو جائے گا لیکن زمینی حقائق کچھ اور اشارے کررہے ہیں، ان ہی دنوں میں دوسرے ریفرنڈم کی بات ہورہی ہے اور یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات ہوسکتے ہیں اس سے قبل وزیراعظم تھرسامے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی۔ یہ ساری صورتحال 2016-6-23یں ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں سامنے آئی اسے سمجھنے کے لئے ذرا پیچھے دیکھنا ہو گا 2010کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے جیت کر حکومت بنائی اور وزیراعظم کیمرون صاحب منتخب ہوئے اس وقت تک یوکپ(UKIP) کے سربراہ ناجل فراج صاحب نے خاصی سیاسی حمایت حاصل کرلی تھی جو برطانیہ کو یورپین یونین سے مکمل الگ کرنا چاہتے ہیں یہ جماعت1993 میں وجود میں آئی لیکن اب (2014) وہ انتہائی دائیں بازو کی برٹش نیشنل پارٹی کے نزدیکی لوگوں میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی جو مستقبل میں کنزرویٹو (ٹوری) کے لئے خطرہ بن سکتی تھی اس کے یورپین یونین میں بھی نشستیں جیتی تھی تو ٹوری پارٹی نے یو کپ کو کمزور کرنے کیلئے اپنے بیانیہ میں ان کے پسندیدہ الفاظ کا استعمال شروع کردیا اور 2015 کے انتخابات میں حکومتی پارٹی نے سوشل بینیفٹ کم کرنے امیگریشن روکنے کےساتھ ساتھ یورپین یونین کے معاملہ پر

ریفرنڈم کا نعرہ بھی لگادیا لیبر پارٹی کے اپنے کچھ ایشو تھے ان سب کا فائدہ ٹوری کو ہوا اور وہ جیت گئے، محترم کیمرون صاحب دوبارہ وزیراعظم بن گئے اب ان کے لئے مسئلہ بن گیا کہ عوام سے ریفرنڈم کا وعدہ کیا ہے عوامی اور سیاسی جماعتیں انہیں بار بار وعدہ یاد دلاتی تھیں تو انہوں نے 2016 میں ریفرنڈم کروانے کا اعلان کردیا جس سے سیاسی سرگرمیوں میں شدت آئی یو کپ کا تو پہلے دن سے یہی مطالبہ تھا بلکہ صرف یہی ایجنڈہ تھا وہ پہلے سے زیادہ متحرک ہوگئے نئے لیبر پارٹی کے قائد جیرمی کوربن نے اپنے ووٹروں کو اپنی مرضی کرنے کا مشورہ دے ڈالا دوسری سیاسی جماعتیں بھی حرکت میں  آئیں  گرین پارٹی بھی کمزور رہی لیبر ڈیمو کریٹ ابھی اپنے سابقہ زخموں سے صحت یاب نہ ہوئے تھے چونکہ وہ وزیراعظم کیمرون کی پہلی حکومت میں شریک حکومت تھے 2015کے انتخابات میں عوام نے ان کے اس شراکت کی سزادی اور وہ بھری طرح ہار گئے کیمرون نے ریفرنڈم کروانے کے اعلان کے بعد ایک کھلا خط لاکھوں بلکہ کروڑوں کہوں تو بیجا نہ ہوگا جس میں عوام سے یونین میں رہنے کا ووٹ مانگا چونکہمیرے خیال کے مطابق وہ سمجھتے تھے کہ باہر نکلنا برطانیہ کے مفاد میں نہیں وہ یہ بھی جانتے تھے کہ برطانیہ نے پہلی درخواست 1961 میں یورپین یونین میں شمولیت کیلئے دی تھی جس پر برسوں کام ہوا اور 1969یونین کی جانب سے مثبت اشارے ملے بالآخر1975کے ریفرنڈم کے نتائج تقریباً 67فیصد کے نتیجہ میں انہیں یونین میں  شمولیت ملی جس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے، لیکن ریفرنڈم کا نقارہ بج چک تھا اس میں دورائے تھیں یونین چھوڑنی ہے یا اسکا حصہ رہنا ہے عام لوگ اور وہ جو غیر ملکیوں کےخلاف ہیں کا یہ خیال تھا کہ یونین سے نکلنے کے بعد غیر ملکیوں کو بھی نکالا جانا ممکن ہوگا۔ یہاں یہ نوٹ فرمائیں کہ عوام الناس کو مکمل اگاہی فراہم نہیں کی گئی تھی بس سپنے دیکھائے تھے ادھر ایک وزیر نے بس چلا ڈالی کہ یونین چھوڑنے کے نتیجے میں بچنے والی رقم جو 350 millonپونڈ ہر ہفتے نیشنل ہیلتھ سروس پر خرچ کرینگے جس کی آج کی تاریخ میں تردید کی جارہی ہے یعنی غلط بیانی کی گئی۔ بالاخر وہ دن آگیا اور 23.6.2016کو ریفرنڈم ہوا اور عوام نے 51.9% یونین چھورنے کا فیصلہ کیا چونکہ وزیراعظم نے یونین میں رہنے کا ووٹ مانگا تھا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ میری بات نہیں مانی گئی اخلاقی جواز نہیں رہتا کہ مزید کرسی پر بیٹھوں لہذا انہوں نے اپنی جماعت کو اعتماد میں لیا اور نیا وزیر لانے کے مشورے کے ساتھ ہی استعفی ہی استعفی دیدیا ان کی جگہ مسز تھرسامے نئی وزیراعظم منتخب ہوہیں پھر انہوں نے عوامی رائے کیلئے2017میں عام انتخابات کرائے گئے اور مسزمے عوامی مینڈیٹ لیکر وزیراعظم بنیں گو انہیں آئر لینڈ کے سخت موقف رکھنے والی دائیں بازو کی جماعت کی حمایت لینے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔ یہاں انہوں نے دوبارہ کہا کہ ہم 29.3.2019کو ای یو سے الگ ہوجائیں گے۔ یہاں ایک مسئلہ سکارٹ لینڈ کا بھی ہے جو 2014میں ایک ریفرنڈم کرواچکے ہیں جس میں  عوام سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ہم یو کے سے الگ ہو جائیں 44.7% نے ہاں میں جبکہ 55.3%نے نہیں  میں جواب دیا مطلب دو اب بھی یو کے کا قانونی حصہ ہے، انگلینڈ سکارٹ لینڈ، شمالی آئر لینڈ، ویلز ملکر یو کے بنتا ہے یہاں سے دور بھی یو کے کی قانونی حصے موجود ہیں میں صرف میں لینڈ تک رہوں گا، پھر یو کے کے بریگزٹ ریفرنڈم میں سکاٹ لینڈ نے یونین میں رہنے کو ترجیح دی، جنوبی آئر لینڈ ، یپبلک آئر لینڈ کہلاتا ہے جو باقاعدہ یورپین یونین کا معزز ممبر ہے وہاں یہ ایشو ہے کہ شمالی آئر لینڈ یو کے میں ہے وہاں یو کے سے علیحدگی پسندوں کی ایک تحریک چل رہی تھی جس میں عسکری ونگ(آئی، آر ، اے) بھی تھا اس نے برطانیہ میں بہت دھماکے کیے کہاجاتا ہے کہ August1979لارڈ مونٹ بیٹن صاحب کے بحری بیڑے پر حملہ بھی آئی آر اے نے کیا تھا جس کے نتیجہ میں لارڈ بیٹن صاحب سمیت ان کے دو پوتے یا نواسے اور Baroness Babourneکی بھی قتل ہوئیں ان دونوں آئر لینڈ کے درمیان کنٹرول باڈر نہیں ہے لیبر پارٹی ٹونی بلیئر صاحب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ انہوں نے علیحدگی پسندوں سے گفت وشنید کا راستہ اپنایا اور 1990میں ایک امن معاہدہ ہوا اور معاملات طے کرنے کیلئے میٹنگ شروع ہوئی 1998 میں حتمی دستخط ہوئے اور 1999میں اس پر پوری طرح عمل شروع ہو گیا جس کے بہت اچھے نتائج نکلے اور اسی امن کی وجہ سے 2015میں پرنس چارل اور جیری آدم ( آئرلینڈ کے علیحدگی پسند تنظیم کے سربراہ) کا تاریخی مصافحہ بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ آئریش عوام آئر لینڈ کے درمیان کنٹرول باڈر ماننے کیلئے تیار نہیں دوسری جانب سکاٹ لینڈ کا مطالبہ ہے کہ یو کے بریگزٹ ریفرنڈم میں سکاٹش عوام کی اکثریت نے یونین کا حصہ یو کے کی حکومت کا موقف ہے کہ یہ تمام یو کے کی عوام کا فیصلہ ہے لہٰذا ہم سب اس کے پابند ہیں معاملہ اتنا آسان بھی نہیں لیکن مہذب اور جمہوریت پسند قومیں مشکلات سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈلیتی ہیں۔(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں