آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیفی اعظمی باکمال شاعر تھے۔ بہت کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ انہوں نے فلموں کے لئے بہت ہی دل کش نغمے لکھے۔ ان نغموں میں، جو اگرچہ گیت کے ڈھنگ پر لکھے جاتے تھے،لیکن کیفی صاحب نے ان میں غزل کی نفاستوں کی ایسی آمیزش کی کہ ہم ہی جانتے ہیں۔ان کے لکھے ہوئے دو فلمی گیت مجھے بہت سرشار کرتے ہیں۔ایک کے بول کچھ یوں ہیں:آج کی کالی گھٹا، مست متوالی گھٹا، مجھ سے کہتی ہے کہ پیاسا ہے کوئی، کون پیاسا ہے، مجھے کیا معلوم۔اور ایک اور نغمہ تو سحر انگیز ہے: کچھ د ل نے کہا، کچھ بھی نہیں، کچھ دل نے سنا، کچھ بھی نہیں، ایسی بھی باتیں ہوتی ہیں، ایسی بھی باتیں ہوتی ہیں۔

اس وقت کچھ ایسی ہی باتیں میرا آج کا موضوع ہیں۔ وہ باتیں جنہیں آج کل کی زبان میں عام طور پر ’باڈی لینگویج‘ کہا جاتا ہے۔یعنی یہ کہ انسان جب بولتا ہے، وہ تو بولتا ہی ہے، ساتھ ساتھ اس کا پورا وجود بھی بولتا ہے، کبھی یوں کہ زبان جو کچھ کہہ رہی ہوتی ہے، بدن کی حرکات وسکنات بھی وہی کہہ رہی ہوتی ہیں۔لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ زبان پر کچھ اور ہوتا ہے، بدن کے اشارے کنایے کچھ اور کہہ رہے ہوتے ہیں۔یہی باڈی لینگویج یا بدن کی بولی کا کمال ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ بولی سمجھنے کا ہنر آتا ہے، کچھ سیکھنے کے لئے کسی کو استاد کرتے ہیں۔مثال کے طور پر میںایک بار اپنے بڑے صاحب کے پاس ایک منصوبہ لے کر گیا۔ میں تفصیل سے بیان کر رہا تھا کہ اس سے کیسے کیسے فائدے حاصل ہوں گے۔ بڑے صاحب اپنی انگلیوں سے میز پر طبلہ بجاتے رہے یا بار بار کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے۔ جب میں پورا منصوبہ بیان کرچکا تو بولے:ہاں ہاں، اچھا ہے،اچھا ہے۔ دو دن بعد پتہ چلا کہ میرے منصوبے کو منظوری نہ مل سکی۔بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ بڑے صاحب ہر چند کے میرے سامنے بیٹھے تھے لیکن انگریزی محاور ے کے مطابق وہ میلوں دور تھے۔

یہی حرکات و سکنات، ہاتھوں کی حرکت، ابرو کی جنبش، چہرے کے اتار چڑھاؤ، دونوں ہاتھوں کا سینے پر باندھ لینا، ہاتھ اٹھا کر سر کے پیچھے تکیہ بنا لینا، بات آپ کی سننا لیکن دھیان کاکسی اور طرف ہونا،جماہی آنا، ٹانگیںپھیلانا، گھٹنوں کو تیز تیز حرکت دینا، اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں پر تھام لینا،بار بار سر کو کھجانا یا اپنے ناخن دیکھنا وہ بھی بلا سبب، خود کو کبھی ایک کہنی پر ٹیکنا کبھی دوسری پر،بلا وجہ ہنسنا۔ اور باڈی لینگویج کا سب سے بڑا اعجاز ہے ’بیزاری کا اظہار‘۔ صورت حال سے تنگ آئے ہوئے انسان کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں، اس کے بدن کا انگ انگ کچھ کہہ رہا ہوتا ہے، مثلاً یہ کہ کن بے وقوفوں کے بیچ پھنس گیا ہوں، یہ کیسی بے تکی باتیں ہو رہی ہیں، کب ختم ہوگی یہ بیٹھک۔ غرض یہ کہ اس طرح کا طویل منظر نامہ لکھا جاسکتا ہے۔

بدن کی بولی کی خوبی یہی ہے کہ یہ فطری ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ اس پر انسان کا بس چلے، پھر بھی یہ بولنے والے کی گفتگو کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ ہم کسی کی تقریر سننے جاتے ہیں تو نہیں چاہتے کہ ہم سے آگے بیٹھے ہوئے شخص کی ٹوپی کی وجہ سے تقریر کرنے والا ہماری نگاہوں سے اوجھل رہے۔ ہم جیسے بھی بنے،بولنے والے کو دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ترکی کے شہر استنبول میں اردو زبان کے تعلق سے ایک عالمی کانفرنس ہورہی تھی۔ اس میں کچھ ترک اسکالر بھی تقریر کرنے والے تھے۔ دوسر ے ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین سے بڑی ہی معذرت کے انداز میں کہا گیا کہ یہ تقریریں ترکی زبان میں ہوں گی، اس پر سارے ہی غیرملکی مندوبوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، ہمیں باڈی لیگویج سے اندازہ ہو جائے گا۔ ویسے بھی یار کی زبان ہے، ہمیں آتی ہو یا نہ آتی ہو، کچھ اشارے کنایے تو ساری بات کھول دیتے ہیں۔

میں نے جب بی بی سی میں شرکت اختیار کی اور میری تربیت شروع ہوئی تو جو بے شمار کام کی باتیں بتائی گئیں ان میں ایک یہ تھی کہ جب مائیکرفون پر بولو تو اپنے ہاتھو ں کو اسی طرح حرکت دیتے رہو جیسے عام بات چیت کے دوران دیتے ہو۔ ہم نے پوچھا کہ وہ کیوں بھلا؟ بتایا گیا کہ بولنے کا فطری انداز سب سے زیادہ دل کش ہوتا ہے۔ آپ ہاتھ باندھ کر بولیں گے تو لگے گا آپ سے کوئی جرم سرزد ہورہا ہے۔میں نے یہ بات گرہ سے باندھ لی۔ کچھ عرصے بعد ٹیلی وژن کے لئے میرا انٹرویو ریکارڈ ہوا۔ میں نے دیکھا۔ پتہ چلا کہ میں کم، میرے ہاتھ زیادہ بول رہے تھے۔کچھ بھی ہو، دیکھنے والوں نے یہ انداز پسند کیا۔سچ تو یہ ہے کہ یہ بدن کی خاموش بولی کتنی ہی چپ ہو، گفتگو کا حصہ ہوتی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب تھانہ کچہری میں جو بیانات ریکارڈ کئے جاتے تھے اس میں صرف آواز ہوا کرتی تھی جسے آڈیو ریکارڈنگ کہتے ہیں، لیکن اب سارے بیانات کی وڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے، یعنی متحرک تصویروں کے ساتھ۔ اصول یہ ہے کہ ثبوت ہوں تو ناقابل تردید ہوں ورنہ عدالت انہیں نہیں مانتی۔صرف سپاٹ آواز کوئی معنی نہیں رکھتی۔ آخری بات یہ کہ بدن کی بولی کا سمجھنا ایک پوری سائنس ہے، ایک علم ہے، بالکل اس طرح جیسے نفسیات ایک علم ہے جس کو حاصل کرنا آسان نہیں۔یہ بات اپنے سیاست دانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ وہ بولتے ہیں اور بعض ایک تو بہت بولتے ہیں۔ انہیں احساس نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ ان کی حرکات و سکنات بھی بول رہی ہوتی ہیں، وہ کتنا ہی جھوٹ بولیں، باڈی لینگویج چغلی کھائے جاتی ہے اور سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اس کے چہرے پر کیا لکھا ہے۔

عدالت سے انہیں کتنی ہی رہائی ملے، بدن کی گواہی چھپائے نہیں چھپتی۔ جو مجرم ہے، اسے خود خبر نہیں ہوتی لیکن اس کے ماتھے کی شکن اصل شہادت دیئے جاتی ہے جو شعور کی عدالت میں خوب خوب قابلِ سماعت ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید