آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرشتہ قتل ، لائف اسکلڈ بیسڈ ایجوکشن کونصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) معروف گلوکار اور سماجی رہنما شہزاد رائے نے اسلام آباد میں 10سالہ بچی فرشتہ کو بے رحمی سے قتل کیے جانے جیسے واقعات سے بچاؤ کے لئے لائف اسکلڈ بیسڈ ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنے ، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو فعال کرنے اور پولیس کا کردار بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ان کےہمراہ اداکارہ ماہرہ خان،اداکارہ زیبا بختیار، سابق کرکٹر یونس خان ، ناظم ایف حاجی ، پائلر کے کرامت علی، زندگی ٹرسٹ اور آہنگ کےنمائندے بھی موجود تھے ۔ شہزاد رائے نے کہا کہ ایک سال قبل پنجاب کے شہر قصور میں ننھی زینب کے واقعے نے بھی قوم کو جھنجھوڑ دیا تھا اور اس واقعے کے بعد بھی انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے حکومت سے بچوں کے تحفظ سے متعلق اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا تھا اور اب ایک بار پھر وہ یہی مطالبہ کرنے آئے ہیں۔آج وہ ان لاکھوں بچوں کی آواز پہنچانے آئے ہیں جن کی آواز متعلقہ حکام تک نہیں پہنچتی ۔ ان کا کہنا تھا کہ 2011میں نے انہوں نے زندگی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے فاطمہ جناح اسکول میں آہنگ کا کریکیولم پڑھایا تھا کیونکہ بچوں کو سیکچوئل اور فزیکل ابیوز سے بچاؤ کی تعلیم دینا ضروری ہے اور اس نصاب کی منظوری

علماء کرام سے لی تھی لیکن سندھ میں صرف ایک مضمون کے ایک چیپٹر میں اسے شامل کیا گیا ہے مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا جبکہ دیگر صوبوں میں تاحال یہ نصاب میں شامل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح حساب ، انگریزی ، اردو اور دیگر مضامین پڑھائے جاتے ہیں اسی طرح لائف اسکلڈ بیسڈ ایجوکیشن کو بھی مکمل طور پرسرکاری و نجی اسکولوں میں پڑھایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسٹڈی کے مطابق ہر پانچواں شخص کسی نہ کسی درجے میں ابیوز کا شکار ہوا ہے لیکن بولتا کوئی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا کام بولنا ہے جس کےلئے بچوں کو اس کی آگہی دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ ، پولیس اور دیگر اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے ۔ سابق کرکٹر یونس خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایسے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے اس لئے میں بچوں کے والدین سے گزارش کرتا ہوں کہ کیسز ضرور رپورٹ کرائیں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔ ہمیں آواز اٹھانی چاہیے۔ ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا وقت آگیا ہے۔ جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ پورا کر کے رہیں گے۔انہوں نے والدین کے لئے پشتو میں بھی پیغام دیا۔ اداکارہ زیبا بختیار نےکہا کہ میں بلوچستان سے ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں