• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی طالبان، 17 سال بعد رہا،وزیر خارجہ پومپیو برہم

واشنگٹن(جنگ نیوز )افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو جمعرات کے روز ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ رہائی کا فیصلہ ناقابل فہم اور ضمیر کی آواز کے خلاف ہے۔اپنے ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا تھا کہ لنڈھ بدستور امریکہ کیلئے ایک خطرہ ہے اور وہ اب بھی اس لڑائی میں یقین رکھتا ہے جس میں اس نے ایک عظیم امریکی اور سی آئی اے کے عظیم افسر کو ہلاک کر دیا تھا۔ مائیک پومیو نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی پریشان کن اور غلط ہے۔جان واکر لنڈھ کو افغانستان میں غیر قانونی طور پر طالبان کو مدد فراہم کرنے پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے 17 سال کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔نومبر 2001 میں افغانستان میں گرفتاری کے وقت لنڈھ کی عمر 20 سال تھی۔ لنڈھ نے نوعمری میں اسلام قبول کر لیا تھا اور اُس نے 2000 میں یمن جا کر عربی زبان سیکھی تھی جس کے بعد وہ افغانستان جا کر طالبان میں بھرتی ہو گیا۔لنڈھ کو افغانستان میں گرفتار کرنے کے بعد ایک قید خانے میں رکھا گیا جہاں سی آئی اے کے تفتیشی افسر مائیک سپین اس سے باز پرس کرتے رہے جنہیں قید خانے میں ہونے والی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد لنڈھ کو واپس امریکہ لایا گیا جہاں اُس نے استغاثہ کے ساتھ اعتراف جرم کا سمجھوتہ کر لیا اور تفتیش میں مدد دینے لگا۔اس وقت منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں اسے افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دکھایا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔لنڈھ کو رہا کرتے وقت امریکہ کے فیڈرل جج نے اس پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کے کمپیوٹر اور دیگر انٹرنیٹ ذرائع میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی نگرانی کی جائے گی، اسے دماغی صحت کے حوالے سے کونسلنگ کے عمل سے گزرنا ہو گا اور انتہاپسندی پر مبنی مواد رکھنے یا دیکھنے پر پابندی ہو گی۔

تازہ ترین