آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار20؍ صفرالمظفر 1441ھ 20؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
ایران جو کہ کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں میں خود کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اب امریکہ ایران سے پنگا کرنے کے لئے اس کی سرحدوں پر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ آن پہنچا ہے۔ بڑے بڑے جنگی بحری بیڑوں نےایران کی سمندری حدود کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر B52بمبار بھی آن پہنچے ہیں۔ ادھر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ کے ذریعے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ سے ٹکرلی تو ایران کو صفحہ ٔہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ امریکہ، ایران اور اس خطے میں کیا چاہتا ہے کہ ایسی تباہ کن بیان بازی کررہا ہےیوں تو ٹرمپ کی ایسی ہی بڑھک بازی شمالی کوریا کے ساتھ امریکی کشیدگی کے دنوں میں بھی دیکھ چکے ہیں اسے بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس کرہ ارض سے اس کا نام و نشاں مٹادیا جائے گا۔ ایران کی صورتحال شمالی کوریا سے کافی مختلف ہے۔ ایران جغرافیائی طور پر چاروں طرف سے کئی امریکی پٹھو حکومتوں میں گھرا ہوا ہے ۔ اس طرف عراق میں امریکہ براہ راست بیٹھا ہوا ہے۔ ایران کے آس پڑوس میں افغانستان ،پاکستان، ترکمانستان، آذربائیجان، ترکی، عراق، کویت جیسے پڑوسی موجود ہیں۔ جس کا مطلب ہے حقیقی معانی میں کوئی بھی برے وقت کا دوست نہیں۔ اس تنہائی میں ایران کہاں تک امریکہ کا پریشر لے سکےگا۔ تاہم ایران ،عراق جنگ

میں ایران نے جس ثابت قدمی سے جنگ لڑی ۔ اس سے ایران کی خالص تہذیبی جڑوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔البتہ ایران کی سعودی دشمنی اس سبب جلتی پر تیل کاکام کرے گی۔ سعودیہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں امریکی کو نہ صرف اڈے دے گابلکہ ہر طرح کی رسد بھی مہیا کرے گا۔ ادھر ایران یورپ میں اپنے دوستوں پر انتہائی برہم ہے کہ وہ اس امریکی غنڈہ گردی پر خاموش کیوں ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے مسئلے پر یورپیوں کو بھی ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ امریکی اثر لیتے ہوئے اس 2016 کے ایٹمی کنٹرول کے معاہدے کو بھی نظرانداز کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جس کے تحت وہ امریکہ کو ایران پر مزید پابندیاں لگانے سے روکیں گے۔ ایران نے یورپ کو بھی معاہدے کا پابند کرنے کیلئے جولائی تک وقت دیا ہے کہ اگر یورپ امریکی پابندیاں نہ روک سکاتو ایران ایٹم بم بنانے کے بہت قریب پہنچنے سے نہیں رکے گا۔ ایران سوا آٹھ کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ جہاں 16لاکھ کے قریب عرب آباد ہیں جبکہ اظہری اور کرُد آبادی بھی کافی زیادہ ہیں۔ ایران تاریخی طور پر علم و ادب کے مرکز کے طور پر اپنا مقام رکھتا ہے ۔ شایدہی کوئی ایرانی ہوگا جو کہے کہ اس سے کوئی شعر نہیں آتا۔ خاص طور پر فردوس کے شاہ نامے کا کچھ کلام جوکہ دسویں عیسوی میں لکھا گیاتھا۔ ایران کی نصف آبادی 25سال سے کم عمر کے نوجوان پر مشتمل ہے۔ ایران میں یہودیوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے، مسیحی اور بھائی کمیونٹی وہاں کی بڑی اقلیتیں ہیں۔ اس قسم کے بڑے تہذیب کے گہوارے کو امریکہ شام بنانے پر تلا ہوا ہے۔ فی الحال اصولی طور پر تو یورپی ممالک اس خطے کو ایک نیا عراق بنتا نہیں دیکھنا چاہتے لیکن عملی طور پر بے بس نظر آرہے ہیں۔ ادھر انڈیا پر بھی امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمدبند کرے۔ اس وقت امریکہ کو ایران سے خطرے کی رپورٹیں وہی خفیہ ایجنسیاں دے رہی ہیں جس نے امریکہ کو عراق کے WMDکی اطلاعات دی تھیں۔ انہی جھوٹی اطلاعات کی بنیاد پر امریکہ نے عراق کو روٹی کی طرح دھن دیا ہے۔ ایران دنیا کے آگے امریکہ کی طرف سے بگڑتی صورتحال پر واویلا تو کررہا ہے تاہم اب تک کی بدلتی صورتحال نے ایران کو کافی حد تک تنہائی کاشکار کردیا ہے جو کہ ایران کیلئے اچھی نشانیاں نہیں ہیں۔ ایران اس صورتحال میں ان تمام ممالک اور اقوام کے ساتھ کوئی ایسا اتحاد بھی قائم کرنا چاہتا ہےجو کہ اس وقت اسی طرح کی امریکی غنڈہ گردی کا شکار ہیں۔ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت شدید مندی کا شکار ہے۔ کرنسی روز بروز قدرکھو رہی ہے۔ ایران حالیہ امریکی اقدام کو انسانیت سوز جرم کہہ رہا ہے لیکن امریکہ ایران کے نہ صرف ایٹمی اثاثے مکمل تباہ کرنے چاہتا ہے بلکہ شام، لیبیا اور عراق کی طرح پوری سوسائٹی کو تباہ کرنے کے درپے ہے جس پر نام نہاد اُمہ اور نام نہاد مسلم برداری نے اپنے منہ پر تالہ بندی کئے ہوئے ہیں بلکہ مسلم ممالک کا خاصہ حصہ امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایران کے عوام اس تمام تر متوقع امریکی جارحیت کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ ایران کو اپنے پڑوسی ممالک سے کسی قسم کے تعاون اور مدد کی توقع نہیں ہے۔ پاکستان پر ایران کے خلاف سعودی عرب کی جانب سے بہت دباؤ ہے اور جنگ کی صورت میں ایران کےخلاف طالبان کو استعمال کرنے کا منصوبہ بھی کسی سطح پر زیر عمل ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ پاکستان اپنا سرحدی کنٹرول سخت کرے گا اور جان بچا کر آنے والے مہاجرین کیلئے دروازے بند رہیں گے۔ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق عراق اور اسرائیل کو امریکہ بنیادی طور پر اپنی فوجی مسکن بنائے گا۔ ایسی صورت میں ایران کو عراق اور شام بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ البتہ روس اس معاملے میں امریکہ کو فری ہینڈ تو نہیں لینے دے گا لیکن ایران کا اسلحے کی مدد کی حد تک اتحادی رہے گا۔ پاکستان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اس آگ کی تپش سے محفوظ رہ سکے گا۔ البتہ کسی بھی قسم کی امریکی مدد کی صورت میں پاکستان کیلئے کم از کم داخلی دہشت گردی جیسی صورتحال پیدا ہونےکا امکان موجود ہے۔لگتا ہے اب امریکی اس خطے میں آگ کی ہولی کھیلنے جارہا ہے اور یہ نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔

یورپ سے سے مزید