آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ21؍محرم الحرام 1441ھ 21؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وطن میں ہر طرف مہنگائی کا شور مچا ہوا ہے۔ ذرائع سرکاری ہوں یا عوامی سب اپنی بولی بول رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے قیامت کے آثار ہیں کچھ دن جاتے ہیں کہ انسان کے مرنے پر بھی ٹیکس لگ سکتا ہے۔ حکمراں جماعت کا ہر فرد یہ کہتے ہوئے نہیں تھک رہا ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف نے اپنے پنجے گاڑ دئیے ہیں۔ کرنسی کی روز بروز بے توقیری کی جا رہی ہے۔ ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ افغانستان جو آفت زدہ ملک ہے، اس کی کرنسی ہم سے کہیں بہتر گردانی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش جو کل تک ہمارا بازو رہا ہے۔ اس کی معیشت اڑتالیس سال پہلے نیست و نابود کردی گئی تھی تقریباً کچھ اپنوں کے اور بہت کچھ دشمن بھارت کے ہاتھوں لیکن آج اس کی معیشت ہم سے بہتر ہے، کاسہ گدائی توڑنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ہر روز ہمارے گلے میں قرضوں کا طوق بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اب نوبت یہ آچکی ہے کہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لئے جا رہے ہیں۔ اب تک خطیر رقوم سود کی مد میں ادا کی جا چکی ہیں۔ اصل اب بھی موجود ہے۔ حکمراں اور عوام دونوں پریشان ہیں۔ حکومت نے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک نیا شوشا چھوڑ دیا ہے، یہ شوشا نیا تو نہیں ہاں اسے پیش کرنے کا یہ وقت نہیں تھا۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے تو پہلے ہی عمران خان کہہ چکے ہیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو بہت جلدی ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کے مخالفین کی زبان بند کرنے کے لئے جنوبی پنجاب کا قضیہ اٹھایا گیا ہے تاکہ عوام مہنگائی کو بھول کر نئے صوبے کی نوید سن کر ہمیشہ کی طرح خوش ہو جائیں لیکن شاید وزیر خارجہ کو اندازہ نہیں ہے کہ اگر یہ پنڈورا باکس کھل گیا تو حکومت کے مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ حیرت اس بات کی بھی ہے شاہ محمود قریشی تو خارجہ امور کے وزیر ہیں پھر انہیں خالص داخلہ امور کی فکر کیوں ہے۔ شاید انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ عوام کی توجہ آئی ایم ایف کی طرف سے ہٹا کر کسی اور طرف لے جائیں تاکہ آئی ایم ایف اپنا ایجنڈا بغیر کسی دشواری کے نافذ کر سکے۔ جنوبی پنجاب صوبے کا (ن)لیگ نے بھی وعدہ کیا تھا جو وفا نہیں ہو سکا۔ اس کے لئے قومی اسمبلی میں رانا ثناءاللہ نے ایک بل جمع کروا رکھا ہے اب ایک اور بل کی تیاری پی ٹی آئی کر رہی ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو سب سے ضروری اور اہم معاملہ ہے، معاشی بحران اُس پر توجہ دی جائے۔ شاہ محمود قریشی ہوں یا ترین صاحب خوب اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کسی بل کو منظور کرانے کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی جو کسی کے پاس بھی نہیں ہے، ترین صاحب کا تعلق بھی چونکہ اس نئے بننے والے صوبے سے ہے، وہ اپنی پوری صلاحیت اس صوبے کے لئےاکثریت حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ نیا صوبہ تو کیا بنے گا ہاں موجودہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہماری موجودہ چاروں صوبائی حکومتیں جن سے اپنے اپنے معمول کے صوبائی معاملات نہیں سنبھالے جا رہے ایسے نازک موقع پر نئےصوبے کا پنڈوراباکس کھولنا خطرناک ہوگا۔ اس وقت جو صورت حال درپیش ہے اور آئی ایم ایف کے پیدا کردہ مسائل جن سے قوم کی چیخیں نکل رہی ہیں، ایسا نہ ہو کہ پھر یہی عوام اپنے حقوق کے لئے گھروں سے نکل پڑیں پھر نہ حکمراں اور نہ ہی حکمرانوں کے حمایتی کچھ کرسکیں گے۔ ہاں آئی ایم ایف کا پھندا آنے والی حکومت چاہے وہ کسی کی بھی ہو وہ اپنے گلے سے نہیں اتار سکے گی۔ آنکھیں بند کر لینے یا شتر مرغ کی مانند ریت میں سر چھپانے سے مصیبت ٹل نہیں سکتی۔ اب تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جو کام سابق حکومتوں نے پانچ پانچ سال میں نہیں کیا وہ نئی حکومت چند ماہ میں کر رہی ہے۔ سابقہ حکومتوں کے جاری عوامی منصوبوں کو دی جانے والی مراعات یعنی سبسڈی کو ختم کر دیا گیا ہے، اِس مد میں اربوں کی حکومت نے بچت کی ہے وہ رقم جو بچائی جا رہی ہے وہ کہاں جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ چین، سعودی عرب، عرب امارات سے بھی اربوں ڈالر قرضہ لیا گیا ہے، آئی ایم ایف کے قرضے نے ان تمام قرضوں کو پس پشت ڈال دیا ہے حکمرانوں کی نا تجربہ کاری نہیں اس میں بیرونی دنیا خصوصاً امریکہ کی سازش نظر آرہی ہے جو نہیں چاہتا کہ پاکستان چین سے قربت اختیار کرے، اس لئے اس کی کوشش ہے کہ چین جو منصوبے پاکستان میں لگانے جا رہا ہے۔ وہ نہ لگ سکیں نہ پاک چین راہ داری مکمل ہوسکے، امریکہ اور اس کے اتحادی بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے اپنی چال چل رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اسے مجبور و بے بس کردیا جائے تاکہ وہ مجبور ہوجائے چین سے اپنا رابطہ توڑنے کے لئے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے سابقہ حکومت نے امریکہ کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اب موجودہ حکومت نےبھی امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا ہے جس کے باعث موجودہ حالات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)