آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن (جنگ نیوز )برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے زارو قطار روتے اعلان کیا ہےکہ وہ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران کو تین بار بریگزٹ ڈیل پر قائل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد وزارت عظمی کے عہدے سے استعفی دے رہی ہیں۔انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ ‘‘میرے لیے اب یہ واضح ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں یہ ہے کہ ایک نیا وزیر اعظم اب ان کوششوں کی سربراہی کرے۔ اس لیے میں یہ اعلان کر رہی ہوں کہ 7 جون کو میں کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو رہی ہوں۔ برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ ا سٹریٹ کے باہر کھڑے ہو کر اپنے بیان میں تھریسا مے نے کہا کہ ان کے لیے یہ امر ہمیشہ گہرے دکھ کا باعث رہے گا کہ وہ بریگزٹ پر ڈلیور نہ کر پائیں۔نئے وزیراعظم کے لیے تھریسا مے نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ان کوششوں میں کامیاب ہو جائے جن میں تھریسا مے ناکام ہو گئی ہیں۔برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے انتہائی جذباتی انداز میں اعلان کیا ہے کہ وہ 7 جون کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی رہنما کے

عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی۔برطانوی میڈیا کے مطابق تھریسامے نے ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ʼ میں 7 جون برزو جمعہ کو کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہوجاؤں گی تاکہ نئی قیادت کو منتخب کیا جاسکے۔دوسری جانب برطانیہ کے اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربین نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ʼ تھریسا مے نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرکے صحیح کیا، جو ملک کئی ماہ سے چاہتا ہے انہوں نے اب اس کا اعتراف کرلیا ہے، نہ تو وہ اور نہ ہی ان کی تقسیم شدہ جماعت حکومت کرسکتی ہے۔علاوہ ازیں نیا پارٹی لیڈر چننے کا عمل تھریسا مے کے استعفی کے اگلے ہفتے شروع ہو گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں