آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب عدالت ،سابق ڈائریکٹر عبدالصمد و دیگر 6ملازمین کیخلاف ریفرنس

پشاور(نیوزرپورٹر) احتساب عدالت کے جج نوید احمد خان نے محکمہ آرکیالوجی خیبرپختونخوا کے سابق ڈائریکٹر عبدالصمد اور دیگر 6ملازمین کیخلاف کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی بھرتیوں کےریفرنس پرابتدائی سماعت کے بعد ملزمان کو طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کردیئے ہیں ابتدا ئی سماعت دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان 1 کروڑ 72لاکھ 40ہزار670روپے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور85کلاس فور ملازمین کی غیر قانونی طریقے سے بھرتی کے الزاما ت ہیں ریفرنس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرپشاور میوزیم محید گل ،سپرٹنڈنٹ ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی سید علی انجم نقوی ،ایڈمن آفیسر گل بہادر،آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ سٹینو گرافرمحمد شفیق،ریسرچ آفیسربخت محمد،اسسٹنٹ کیوریٹرمحمدآصف رضا کو بھی ملزم نامز د کیا گیا ہے ۔ نیب کے مطابق ریسرچ آفیسربخت محمداوراسسٹنٹ کیوریٹرمحمدآصف رضا پر اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت قیمتی نوادارت بھی غائب کرنے کا الزام ہے یفرنس میں ذکر کیاگیاہے کہ سابق ڈائریکٹر محکمہ آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد کو 2016میں ڈائریکٹر آرکیالوجی کی اضافی ذمہ داری تفویض کی گئی اور2014سے وہ محکمہ آرکیالوجی خیبرپختونخوامیں بطور افسر کا م تعینات تھے۔ڈاکٹر عبدالصمد نے ریفرنس میں نامزد 2سے5تک کے ملزمان کے

ساتھ ملکر 85کے قریب کلاس فور ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے بھرتی کیاا۔ریفر نس میں ذکر کیاگیا ہے کہ ایچ ای سی اوربرٹس کونسل کے تعاون سے ہزارہ یونیورسٹی کے ذریعے 8.9ملین روپے کیلا ش ہیریٹیج پر ریسرچ کیلئے عبدالصمد کو بطور پرنسپل انویسٹیگیٹرتین اقساط میں دی گئیں جو کرپٹ پریکٹسز اورجعلی ڈاکومنٹیشن کی نذر ہوگئیں ،ڈاکٹر عبدالصمد کو ہزارہ یونیورسٹی کا ملازم ہونے کی حیثیت سے ریسرچ پراجیکٹ دیاگیا لیکن ڈیپوٹیشن پر ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی ٹرانسفر کو ایچ ای سی سے چھپایاگیا ۔پراجیکٹ کے تحت ملزم عبدالصمد کا ہزارہ یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ بینک اکائونٹ کھولنا لازمی تھا مگر ملزم نے ڈائریکٹر فنانس ہزارہ نیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ جھوٹا لیٹر دکھا کر اپنے نام سے حیات آباد میں اے بی ایل بنک میں اکائونٹ کھولا جس میں لاکھوں روپے باہر سے آئے ۔ریفرنس میں لکھا گیا ہے کہ ملزم عبدالصمد نے آثار قدیمہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹالین آرکیالوجسٹ ڈاکٹر لوکا ماریہ کو سوات میں کھدائی کرنے کیلئے 25ہزار روپے میں لائسنس جاری کیا جبکہ اس لائسنس کیلئے قانونی فیس 25لاکھ روپے مقر ر ہے ۔ریفرنس میں ذکرکیاگیاہے کہ لائسنس کی دوبارہ تجدید کیلئے بھی قانونی فیس 10لاکھ روپے مقرر ہے جبکہ اس بابت بھی صرف 10ہزار روپے وصول کئے گئے ۔ریفرنس میں لکھا گیا ہے کہ ملز م عبدالصمد نے ایک اور پراجیکٹ میں اپنے آپ کو پراجیکٹ ڈائریکٹر نامزد کرکے تنخواہ کی مد میں غیر قانونی طور پر 22ہزار ڈالر وصول کئے جو کہ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریبا 27لاکھ 58ہزار روپے بنتی ہے ۔ریفرنس میں گور گھٹڑی پشاور پراجیکٹ کا بھی ذکر شامل ہے اورلکھا گیا ہے کہ ملزم نے فنانس ،پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ،حکومت خیبرپختونخو ا ور وفاق کو بتائے بغیرگورگھٹڑی پراجیکٹ کے تحت 1لاکھ 68 ہزار یوروزجو کہ پاکستانی کرنسی میں کل 2کروڑ 39لاکھ 42ہزا ر سے زائد بنتے ہیںجرمن فائونڈیشن سے حاصل کئے اورغیر قانونی طور پر 11لاکھ 27ہزارروپے تنخواہ کی مد میں وصول کئے ۔ عدالت نے ریفرنس کی ابتدائی سماعت مکمل ہونے کے بعد سماعت 13جون تک ملتوی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت طلب کر لیا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں