آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سمیرا وسیم

پینگولن (اس کو ’’چیونٹی خورا‘‘ اور ٹرینگیلنگ بھی کہا جاتا ہے) فولی ڈوٹا سلسلے کا ایک ممالیہ جانور ہے ۔اس کا تعلق جانوروں کے خاندان ’’مانی ڈائی‘‘ سے ہے،اس کی آٹھ قسم کی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ کئی قسمیں ایسی بھی ہیں جو کرئہ ارض سے مکمل طورپر ختم ہوچکی ہیں۔ پینگولن ایک ایسا جانور ہے، جس کے جسم پر بڑے بڑے سخت چھلکے ہوتے ہیں اور یہ اس قسم کے چھلکے رکھنے والا واحد ممالیہ جانور ہے۔یہ عام طورپر افریقہ اور ایشیاء کے استوائی خطوں میں پایا جاتا ہے۔اس کا نام اسے مالے کے لفظ ’’پینگولنگ ‘‘ سے ملا ہے، جس کا مطلب ہے کوئی ایسی چیز جو اپنے آپ کو لپیٹ سکتی ہے۔

جسمانی طور پر پینگولن کی شکل ایسی ہوتی ہے جیسے کسی بہت بڑے نیولے کے جسم پر بڑے بڑے سخت چھلکے نکل آئے ہوں۔ یہ چھلکے ایک مادے ‘‘کیراٹن‘‘ سے بنے ہوتے ہیں۔ اس کے جسم پر موجود چھلکے بے وجہ نہیں ہوتے بلکہ یہ اس کی حفاظت کرتے ہیں۔خطرہ محسوس ہونے پر یہ جانور اپنے جسم کو لپیٹ کر ایک گولا سا بنالیتےہیںاور پتھریلے چھلکوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔یہ اتنے تیز دھار ہوتے ہیں کہ اضافی دفاع کا کام کرتے ہیں۔اگر پینگولن کا سامنا کسی گوشت خور شکاری جانور سے ہو اوروہ فرارکی پوزیشن میں نہ ہو تو وہ فوری طور پر خود کو ’’پتھر کے گولے‘‘ میں تبدیل کرلیتا ہے اور یوں اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے

پینگولن کے اگلے پائوں خاصے لمبے ہوتے ہیں۔یہ چلنے کے لیے یہ زیادہ استعمال نہیں ہوتے۔چلنے کے لیے یہ زیادہ تر پچھلے پائوں استعمال کرتا ہے۔ جن کے پنجوں میں تیزدھار ناخن ہوتے ہیں۔ ان ناخنوں کے ذریعے یہ زمین کو کھودتے ہیں اور ان میں سے کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں نکالتے ہیں۔اس کی زبان خاصی لمبی اور پتلی ہوتی ہے جو اس کے پیٹ میں معدے تک جاتی ہے۔ بڑے پینگولن تو سولہ انچ تک اپنی زبان کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس طریقے سے یہ دور سے ہی کیڑے مکوڑوں کو پکڑ لیتے ہیں،اس انوکھے جانور کی کچھ اقسام کھوکھلے درختوں میں بھی رہتےہیں جبکہ زمین پر رہنے والی اقسام خرگوشوں کی طرح زمین میں سرنگیں کھود کر رہنا پسند کرتے ہیں۔پینگولن اچھے تیراک بھی ہوتے ہیں۔ ان کے منہ میں دانت نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ چبانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے بجائے یہ زمین کو کھود کر یا حشرات کے بلوں میں اپنی لمبی زبان ڈال کر ان کیڑوں مکوڑوں کو وہیں سے اچک لیتے ہیں اور سیدھے اپنے پیٹ میں لے جاتے ہیں۔پینگولن کے سینے پر مخصوص غدود ہوتے ہیں، جن سے ایک لیس دار مادہ نکلتا ہے۔ یہ اس لیس دار مادے کو وقفے وقفے سے اپنی زبان پر لگاتے ہیں جس سے کیڑ ے اور چیونٹیاں وغیرہ ان کی زبان سے چپک جاتے ہیں۔

پینگولن کی کچھ اقسام ، جیسے درختوں پررہنے والے پینگولن ، کی دم بہت مضبوط اور لچک دار ہوتی ہے اور ان کے ذریعے یہ درختوں کی شاخوں سے لٹک جاتے ہیں اور ایک شاخ سے دوسری شاخ پر جانے کے لیے اپنے ہاتھ پیروں کے ساتھ ساتھ دم کو بھی برابر استعمال کرتے ہیں۔ یہاں پر یہ درختوں کے سوراخوں میں موجود کیڑے مکوڑوں کو اپنی خوراک بناتے ہیں۔