آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے حوالے سے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے پر قائم تجاوزات کے خلاف آج لیاقت آباد سے ناظم آباد اسٹیشن تک آپریشن کیا جارہا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق آج شروع ہونے والے آپریشن کے دوران سرکلر ریلوے کے ٹریک اور اراضی پر بنے 2 سو گھروں کو توڑا جائے گا۔

تجاوزات ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ پولیس بھی تعینات کی گئی ہے۔

اس سے قبل گلشن اقبال اور غریب آباد میں سرکلر ریلوے کی اراضی اور ٹریک پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا۔

آپریشن کے خلاف علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا کیا،  جبکہ آپریشن کے دوران غریب آباد فرنیچر مارکیٹ کو ہٹا کر ریلوے ٹریک کلیئر کیا گیا۔

واضح رہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کے 43 کلومیٹر طویل راستے کے اطراف لگ بھگ 5 ہزار سے زائد مکانات اور بلند و بالا عمارتیں قائم ہیں۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس حوالے سے کمشنر کراچی افتخار شلوانی کا کہنا تھا کہ ریلوے کی کل 580 ایکڑ اراضی پر لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے جسے چھڑانا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے ٹریک 9 جون سے قبل صاف کرالیا جا ئے گا، و زارتِ ریلوےسے 20 کلو میٹر ٹریک پر ٹرائل ٹرین کو چلانے کے لیے رابطہ کیا جائے گا۔

کمشنر کراچی نے کہا کہ آپریشن جاری رہنا چا ہیے تمام تجاوزات کے خاتمے کے بعد دوبارہ انہیں قائم نہیں ہو نے دیں گے۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل کا کہنا ہے کہ سرکلر ریلوے کے متاثرین کو ہٹانے سے پہلے متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

کنور نوید جمیل نے یہ بات غریب آباد کے رہائشیوں کے وفد سے بات کرتے ہوئے کہی، وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر ان سے ملاقات کی۔

ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق وفد کا کہنا تھا کہ انہیں ایک دن میں گھر خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔

کنور نوید جمیل نے کہا کہ طاقت کے ذریعے گھر خالی کرانے کی مخالفت کی جائے گی، سرکلر ریلوے کامیاب کرنا ہے تو پہلے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں