آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ21؍محرم الحرام 1441ھ 21؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی پر 216 ارب کی سبسڈی دینے کا اعلان

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے غریبوں کی مدد کےلئے بجلی پر 216 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لئے روڈ میپ دے دیا۔


انہوں نےکہا کہ بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھاتے ہوئے غریب طبقے کی مدد اور سبسڈی دی جائے گی۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ بجلی کے 76فیصد صارفین پر قیمت میں اضافے کا اثر نہیں ہوگا، گیس مہنگی ہونے کا اثر بھی غریب طبقے پر پڑنے نہیں دیں گے۔

مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ نئی نوکریوں کےلئے پالیسی بنا رہے ہیں،اس وقت شرح نمو زیادہ نہیں،آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے پہلے معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں لا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر شراط وہی ہیں جو ہمیں خود سے کرنی چاہیے،حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے گی اور اس معاملے پر سول اورملٹری دونوں ایک پیج پر ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کھانے پینےکی اشیاء پر سبسڈی 30 ارب روپے بڑھائی جارہی ہے،پسماندہ علاقوں کیلئے 50 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے رکھے جا رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ 6 سے 12 مہینے اہم کام کریں گے، آنے والا سال معاشی استحکام کا سال ہے،بجٹ سے پہلے اور بعد میں بہت اہم فیصلے کیے جائیں گے،بجٹ میں گریجویٹس کو روزگار دینے والوں کو ٹیکس چھوٹ دی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ ریونیو میں بہتری لائیں گے،کوشش ہوگی جو پہلے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہ ڈالاجائے، نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائےگا،ہمارا چیلنج ہے کہ بات کم کریں اور کام زیادہ، ہمارے کام کو ہم سے زیادہ بولنا چاہیے۔

 عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حالات کو بالکل بگڑنے سے روکنے کے اقدامات کرلئے ہیں۔

مشیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ بجٹ کےبعد چند ماہ میں بہت اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف پروگرام چند ہفتوں میں آپریشنل ہوجائے گا۔

مشیر برائے خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے بھی 2 سے 3 ارب ڈالر کے پروگرام ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ایسے فیصلے لیں گے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکیں، آئی ایم ایف قرض کی شرح سود 3اعشاریہ2 فیصد ہوگی۔

عبدالحفیظ شیخ نے یہ بھی کہا کہ ایمنسٹی اسکیم سے ریئل اسٹیٹ کے ڈیڈ ایسٹ بھی معیشت کا حصہ بنیں گے، آنے والا سال استحکام کا سال ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجود حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالت بہت بری تھی،برآمدات گر رہی تھیں، مالی خسارہ 23کھرب ہوچکا تھا۔

مشیر برائے خزانہ نے مزید کہا کہ 9اعشاریہ2 ارب ڈالر چین سمیت دوست ملکوں سے حاصل کئے ہیں، بجٹ سے پہلے اور بعد میں بہت اہم فیصلےکئے جائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کےساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پاچکا ہے، جس کی منظوری ان کا بورڈ دے گا،آنے والے دنوں میں اے ڈی بی اور ورلڈ بینک سے 2سے3 ارب ڈالر مل جائیں گے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ یہ اچھی خبریں ہیں،جس سے عوام کو فائدہ ہوگا، آنے والا سال معاشی استحکام کا سال ہوگا،بجٹ میں حکومتی اخراجات کم سے کم ہوں گے،بجٹ میں آمدنی کا ہدف 5٫550 ارب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مہنگائی پریشان کررہی ہے، ہمیں مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے،جس کو قابو کرنے کے لئے مانیٹری پالیسی کو استعمال کیا جائے گا۔

تجارتی خبریں سے مزید