آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری ضمانت قبل از گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا جبکہ ہر کیس میں اس کی درخواستیں آ جاتی ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے ڈکیتی کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران 1949ء میں مشہور ہدایت اللہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس وقت کسی عزت دار کو مقدمے میں پھنسانے سے بچانے کے لئے یہ گنجائش نکالی گئی تھی لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ان ریمارکس کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شواہد کی رو سے وطن عزیز میں ضمانت قبل از گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ جرائم پیشہ افراد اٹھاتے ہیں۔ وہ باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جرم کرتے ہیں جس کے بعد کیس کو سرد خانے میں ڈال دینا، کرپشن، بدعنوانی خصوصاً پولیس کا منفی کردار جیسے عوامل انصاف کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ان برائیوں کے خاتمے کے لئے چیف جسٹس کی سوچ عدالتی اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شرفا کو جھوٹے مقدموں میں پھنسانے یا انہیں بلیک میل کرنے کے رجحانات معاشرے میں عام ہیں اور فی الحقیقت زیادہ تر غریب اور مجبور لوگ ہی ایسے مقدمات کا سامنا کرتے ہیں جو وسائل نہ ہونے کی بنا پر اپنی ضمانت بھی نہیں کروا سکتے جبکہ بااثر افراد کو جھوٹے مقدموں میں پھنسانا آسان نہیں ہوتا۔ ماضی میں منظر عام پر آنے والے کیسوں کے حوالے سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ضمانت قبل از گرفتاری کا زیادہ تر منفی فائدہ اٹھایا گیا لیکن قانون سب کیلئے یکساں ہے جبکہ عدالتی اصلاحات کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی متذکرہ چھوٹ اور حکم امتناعی کا ناجائز استعمال ہی ہے۔ پھر بھی اگر ہدایت اللہ کیس جیسی صورت حال کا سامنا ہو تو اس بارے میں قانونی ماہرین کی آراء کی روشنی میں مروجہ قوانین میں ترمیم پر غور کیا جانا مناسب ہوگا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں