آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بی ڈی اے ملازمین کی عدم مستقلی اور تنخواہوں کی بندش کیخلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام عارضی ملازمین کی عدم مستقلی اور تنخواہوں کی بندش کیخلاف ہفتہ کو چوتھے روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال جاری رہی ، بھوک ہڑتال پر بیٹھے دو ملازمین کو حالت تشویشناک ہونے پر سول ہسپتال منتقل کردیا گیا ،ہفتہ کو بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کرکے بھوک ہڑتالی ملازمین سے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ،ٹیکنیکل ایمپلائز ایسوسی ایشن نے بی ڈی اے ملازمین کی حمایت میں ہاکی چوک پر دھرنے دینےکا اعلان کردیا ۔گزشتہ روزبلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر عثمان خان کاکڑ ،رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے ،سابق رکن صوبائی اسمبلی سید لیاقت آغا، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی،نائب امیر زاہد اختر بلوچ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ،سابق میئر کوئٹہ رحیم کاکڑ ، مسلم لیگ (ن) کے چیف کوآرڈینیٹر گوہر خان مینگل ، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے مرکزی وائس چیئرمین قاضی رشید بلوچ ، آل بلوچستان کلرکس اینڈ ٹیکنکل ایمپلائز کے صوبائی صدر شکر خان ، صوبائی جنرل سیکرٹری شمس کاکڑ اور دیگر نے

بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کرکے اظہار یکجہتی کیا۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی بے حسی کی وجہ سے بی ڈی اے کے ملازمین رمضان المبارک کے مہینے میں بھی تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہیں اور کئی ملازمین کی حالت غیر ہوگئی ہے لیکن حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کی زحمت تک نہیں کی حالانکہ بی ڈی اے ملازمین کے مطالبات بالکل جائز ہیں جن کی ہم مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں حکومت ان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کرئے اگر اس دوران ملازمین کو کچھ ہوا تو صوبائی حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرائینگے ۔ دریں اثناء بی ڈی اے ایکشن کمیٹی کے چیئرمین یارمحمد ترین اور شمس خلجی نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کیمپ آکرہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کیا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھوک ہڑتالی کیمپ پر بیٹھے ہوئے ملازمین کی حالت انتہائی غیر ہو گئی ہے دو ملازمینکے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا لیکن اس کے باوجود حکومت اس سلسلے میں اقدامات نہیں کررہی ہے، انہو ں نے کہاکہ جب تک حکومت ہمارے مطالبات تسلیم اور اسکا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرتی ہے اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کرینگے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں