آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی کی تقریب حلف برداری، عمران کو دعوت دینے کا فیصلہ ہوگیا؟بھارتی میڈیا کی متضاد اطلاعات

کراچی(جنگ نیوز) مودی کی تقریب حلف برداری، عمران کو دعوت دینے کا فیصلہ ہوگیا؟بھارتی میڈیا کی متضاد اطلاعات سامنے آنے لگیں، تقریب حلف برداری میں ٹرمپ، پیوٹن،ژی سمیت برطانیہ، جاپان، جرمنی، فرانس ، اسرائیل اور عرب رہنمامدعو ہونگے، اکثریتی رپورٹوں کے مطابق مودی کی تقریب برداری میں عمران خان کو شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی تاہم کچھ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مودی کی تقریب حلف برداری میں عمران خان کو مدعو کرلیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پیش رفت عمران خان کے فون کے بعد سامنے آئی جب انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔2014میں وزیر اعظم منتخب ہونے پر مودی نے اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تھا اور نواز شریف نے شرکت کی تھی تاہم اس بار عمران خان کو پلوامہ اور بالاکوٹ واقعات کی وجہ سے مدعو کیے جانے کا امکا ن نہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کو تقریب میں مدعو کیے جانے کے سوال پربھارت کے سرکاری ذرائع کا

کہنا ہے کہ اس طرح کی گفتگو قبل ازوقت ہے تاہم حکومت جلد اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔مودی نے2014 میں تقریب میں تمام سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا تھا، اگر حکومت نے تمام سارک سربراہان کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ مشکل ہوجائے گا کہ کس کو بلایا جائے کس کو نہیں،پاکستانی وزیر اعظم مہمانوں کی فہرست میں شامل ہیں،سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ امکان نہیں کہ عمران خان کو مدعو کیا جائے گا۔بھارتی میڈیا کے مطابق تقریب حلف برداری میں عمران خان کو دعوت دینے سے عالمی سطح پرمودی کے امیج بڑھ سکتا ہے۔ مودی کی تقریب حلف برداری 30 مئی کو ہو گی جس کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان کو شرکت کے دعوت نامے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تقریب میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،روسی صدر پیوٹن، چینی صدر ژی جن پنگ کو مدعو کیے جانے کا امکان ہے اس کے علاوہ برطانیہ، جاپان، جرمنی، سری لنکا، فرانس ، اسرائیل ، اورسعودی عرب کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گا، ولی عہدابوظبی محمد بن زاید النہیان اور بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مدعو نہیں کیا جائے گا تاہم ابھی تک غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کیے جانے کے حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مودی کو پہلے سوشل میڈیا پر اور پھر فون کر کے الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ جولائی 2018کے بعد مودی اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں