آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
سیشل کمار شندے کے بیان کو بھارت کے آرمی چیف اور فضائیہ کے سربراہ کے بیانات کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہو گا۔ جنہیں وہاں کی اپوزیشن نے بھارتی حکومت سے بھی زیادہ پسند کیا تھا۔ ان دو عسکری لیڈروں نے جنگی جنون کے غبارے میں بلا اشتعال گرم ہوا بھری تھی حالانکہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر چار جوان قربان کئے مگر اس کی عسکری قیادت نے اعتدال کا دامن نہ چھوڑا ۔بھارت کی قومی اور فوجی قیادت کے ان بیانات کی وجہ پاکستان کی دہشت گردی قرار پائی۔ مغربی سیاحوں کے لئے پنک سٹی اور مقامی کاشت کاروں اور کاریگروں کے شہر جے پور میں بھارتی وزیرداخلہ نے 65سال میں سب سے خونی مگر سب سے مہان سچ کو اُگل کر تاریخ کا بوجھ ہلکا کر دیا۔
سیشل کمار شندے دکھے دل کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہشت گردی کے فروغ کے لئے ٹریننگ کیمپ بنا رکھے ہیں جہاں پر وہ غنڈے پلتے ہیں جو سیکولر بھارت کی اقلیتوں کو اچھوت سمجھ کر انہیں دلّت بنانے پر تلے ہوتے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ کے اس بیان سے پہلے بھارت میں دہشت گردی کے ہر موقع پر "مسلم دہشت گردی" کا ریڈی میڈ لیبل لگایا جاتا رہا، خواہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کو لگنے والی وحشت انگیز آگ ہو یا مالے گاوٴں میں کھیلی جانے والی خون کی ہو لی۔اس ٹنل ٹائپ تنگ ذہنیت نے داڑھی کو

دہشت اور اقلیت کو تکلیف کے ہم معنی بنا رکھا تھا ۔ بھارتی وزیر داخلہ نے آر ایس ایس اور بی جے پی دونوں انتہا پسند گروپوں کو بھارت کی سرزمین پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بلکہ کھل کر اعتراف کرتے ہوئے جدید تاریخ کا رُخ بدل دیا کہ یہ دونوں گروپ ہندو انتہا پسندوں کو دہشت گردی کی تربیت دینے کے لئے بھارت کے اندر انسانیت دشمنی کے کیمپ کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شری سیشل کمار شندے نے بغیر لفظوں کا قیمہ کئے واضح طور پر اس بات کی تصدیق بھی کر دی جو عمومی طور پر بھارتی اعتدال پسند سیاسی لوگ اور خاص طور پر مسلم اقلیت کے لیڈر طویل عرصے سے کہہ رہے تھے کہ بھارت کی سر زمین پر دہشت گردی کی کارروائیاں ہندو انتہا پسند کرتے ہیں مگر ایسی دہشت کا الزام ہمیشہ بھارت کے اندر بسنے والی مسلمان اقلیت کے سر تھوپ دیا جاتاہے۔
یہاں یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ بھارت کی داخلی سلامتی کے انچارج وزیر ایک ایسے ریاستی رہنما ہیں جن کے سامنے بھارت کے اندر موجود دہشت گردی کے تربیتی مراکزکے ناقابل تردید دستاویزی ثبوت موجود ہیں پھر یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ انہوں نے یہ بیان کسی ایک رپورٹر کو علیحدگی میں نہیں دیا جس کی بابت دو رائیں قائم کی جا سکتی ہوں یا جس پر کوئی تردید نما وضاحت جاری ہو سکتی ہو بلکہ انہوں نے پچھلے دس سال سے بھارت میں حکمران اور بھارت کی بانی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کے کھلے اجلاس میں یہ اعتراف نامہ جاری کیا ہے اس لئے بھارتی وزیرداخلہ کے اس بیان کا مطلب وہی ہے جس کا انہوں نے کھل کر اور بلاخوف تردید یہ کہتے ہوئے اظہار کیا کہ بھارتی حکومت کے پاس موجود ایک انٹیلی جنس رپورٹ سے یہ راز فاش ہوا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے تربیتی مراکز میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے تربیت کا کام ہو رہا ہے۔ شری سیشل کمار شندے یہیں نہیں رُکے انہوں نے ایک اور بم شیل چلاتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ ایک گہری تفتیش و تحقیق کے نتیجے میں تیار کی گئی ہے جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حیدرآباد میں واقع مکہ مسجد کو زمیں بوس کرنے کے لئے ہونے والا بم دھماکہ ہو یا پھر مالے گاوٴں پر ہونے والی بمباری ہندو شر پسندوں نے ایک سازش کے تحت ان مقامات پر پہلے بم رکھے پھر یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کیا کہ دہشت گردی کے ان واقعات کے ذمہ دار مسلمان انتہاپسند ہیں۔ بھارتی وزیرداخلہ جو گھر کے سب سے بڑے بھیدی ہیں کے اس بیان نے نہ صرف بھارت کے سماج کے تضادات کو نمایاں کر دیا ہے بلکہ اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے کہ دہشت گردی کو مذہب سے منسلک کرنا ایک ایسی غلط سوچ ہے جس کے نتیجے میں اکثریتی ممالک میں بسنے والی مختلف اقلیتوں کو غیر محفوظ کر کے بھارت کے شدت پسند سادھو ای پی گھئیاٹھاکر ، اسیم آنند جیسے لوگ مسلم اقلیت کے قتل عام کے باوجود نہ اپنے خلاف مقدمات چلنے دیتے ہیں اور نہ ہی انہیں کھلے قتل عام کی سزا ملتی ہے ۔
بھارتی وزیرداخلہ مسٹر شندے کے اس بیان کو تجزیہ کار سال کا سب سے بڑا سیاسی دھماکہ قرار دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں بھارت میں عشروں سے ایک دوسرے کے مدمقابل سیاسی اتحادوں کی سربراہی کرنے والی دونوں بڑی پارٹیاں بی جے پی اور آل انڈیا کانگریس چارج ہو گئی ہیں۔ جس کا ثبوت دونوں پارٹیوں کے مرکزی لیڈروں کے متضاد بیانات ہیں۔ ایک طرف کانگریس کے ایک سینئر لیڈر مانی شنکر نے اس بیان پر شری شندے کو دلی مبارکباد دی ہے جس سے بھارت کے اندر سچ کا بول بالا کرنے والے وزیرداخلہ کی عوامی پذیرائی کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ دوسری طرف بی جے پی کے ترجمان شاہ نواز نے یہ سوال اٹھا کر سونے پر سہاگہ ڈالا ہے کہ سیشل کمار شندے دہشت گردی کو مذہب کا نام کیوں دے رہے ہیں؟
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ کانگریسی لیڈروں کا پنک سٹی کا یہ اجتماع کوئی معمولی اکٹھ نہیں تھا بلکہ اس اجتماع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں وسیع و عریض بھارت کے کانگریس پارٹی کے آئے ہوئے رہنماوٴں، پارٹی کی صدر مسز سونیا گاندھی، بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید ایڈووکیٹ اور بھارت کے چیف ایگزیکٹو من مو ہن سنگھ جی بھی شریک تھے۔
جو لوگ بھارت اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کو مصنوعی لکیر اور کشمیر کے اندر کنٹرول لائن کو دیوارِ برلن گرانے کے نعرے مارتے ہیں ان کی بات الگ لیکن بھارت کو صحیح معنوں میں اقلیتوں کے لئے محفوظ سیکولر ملک بنانے کے خواہشمند اور امن کی آشا رکھنے والے دانشور و عوام، وکلاء اور سیاسی پنڈتوں کے لئے بھارتی وزیرداخلہ سیشل کمار شندے کی جانب سے سرکاری بلکہ دفتری موٴقف سے ہٹ کر اور سیلف ڈی نائل۔ جس کا ترجمہ میں "خود فریبی" کرتا ہوں، سے نکل کر جو جرأت ِ رندانہ دکھائی ہے اس پر انہیں نہ صرف شاباش ملنی چاہئے بلکہ "پلے بُک"جیسی دستاویز کی تیاری میں مصروف صدر اوباما کی انتظامیہ کو جنوب مشرقی ایشیاء میں جاری دہشت گردی کی بابت اپنی پالیسی پر نظرثانی اور درست حقائق پر مبنی علاقائی اہداف تشکیل دینے کا پھر سے مو قع ملا ہے۔
میں نے بات کا آغاز بھارت کی زمینی اور فضائی افواج کے دو سربراہوں کے بیانات سے کیا تھا۔ ان بیانات کا نہ کوئی جواز تھا اور نہ ہی بظاہر کوئی موقع محل نظر آتا تھا لیکن اب بھارتی وزیر داخلہ کے بیان کے بعد ظاہر ہونے والے حیرت انگیز انکشافات سے ہمیں انگریزی کا Blame The Victim والا محاورہ یاد آ گیا ہے۔ جس کے آسان معنی یہ ہیں کہ پہلے مظلوم پر دھاوا بولو اور پھر اس پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاوٴ۔
ایشیاء کے نئے بدلتے ہوئے حالات میں سیشل کمار شندے نے ایک نیا تہلکہ مچا دیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ دونوں ممالک کے وہ لوگ اور ادارے جو کشمیر سمیت تمام کور مسائل کو حل کرنے کے حامی ہیں ان کے لئے مواقع کا نیا در کھل گیا ہے لہٰذا باہمی گفتگو کے وہ دروازے جن کے بند ہونے کی آوازیں آ رہی ہیں ان سے تانک جھانک کرنے کی بجائے کالے کو کالا کہنے والی آواز پر سب کو توجہ دینی ہو گی، یہ آواز پنک سٹی کا خونی سچ ہے!