آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملکی معاشی بحران کے پیش نظر گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان اور مشیر تجارت رزاق دائود سے کراچی اور اسلام آباد میں فیڈریشن کے اعلیٰ سطحی وفد کی اہم ملاقاتیں ہوئیں جس میں حکومت کو بزنس کمیونٹی نے درپیش گمبھیر مسائل سے آگاہ کیا اور آئندہ بجٹ کیلئے اہم اقدامات تجویز کئے، جس کے نتیجے میں مشیر تجارت نے گورنر ہائوس کراچی میں وزیراعظم کیساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی۔ ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی وزیراعظم سے میٹنگ میں فیڈریشن کی جانب سے میرے اور صدر کے علاوہ ایس ایم منیر، زبیر طفیل اور مظہر ناصر نے نمائندگی کی۔ میٹنگ میں حکومت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان، گورنر سندھ عمران اسماعیل، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود اور وفاقی وزیر علی زیدی شریک ہوئے۔ میٹنگ کا مقصد معیشت کی بحالی کیلئے بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لینا تھا۔ اس میٹنگ سے پہلے اسلام آباد میں مشیر تجارت عبدالرزاق دائود سے دو گھنٹے سے زیادہ تفصیلی میٹنگ میں فیڈریشن نے انہیں آئندہ بجٹ کیلئے مختلف سیکٹرز کی اہم تجاویز اور ان کو درپیش مسائل پیش کئے، جن کو حل کرکے ایکسپورٹ بڑھائی جاسکتی ہے۔ میں نے مشیر تجارت کو بتایا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق آنے والے دو سالوں میں ملکی معیشت سست روی کا شکار رہے گی اور رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ گزشتہ سال کے مقابلے میں دو فیصد کم متوقع ہے جس کیلئے اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف کی شرط پر پالیسی ریٹ 12.25فیصد کردیا ہے۔ سالانہ اقتصادی پلان 2019-20میں بھی حکومت نے جی ڈی پی کا ہدف 4فیصد، زراعت 3.5فیصد، صنعت 2.2فیصد اور سروس سیکٹر کا 4.8فیصد رکھا ہے لہٰذا حکومت کو بجٹ میں ایسی مراعات اور ترغیبات دینا ہوں گی جس سے ملک میں صنعتکاری سے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں، جو موجودہ حالات میں جمود کا شکار ہیں جبکہ جی ڈی پی گروتھ میں 2فیصد کمی سے ملکی معیشت مزید سکڑے گی جو بیروزگاری اور غربت میں اضافے کا سبب بنے گا۔

معاشی بے یقینی اور بزنس کمیونٹی میں خوف و ہراس کی وجہ سے کراچی سے پشاور تک پراپرٹی کی خرید و فروخت میں شدید مندی آئی ہے اور یہ کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔ اس سیکٹر کی بحالی کیلئے میں نے وزیراعظم عمران خان کو اپنی کراچی میں حالیہ میٹنگ میں ایک اہم تجویز دی کہ نئی ایمنسٹی اسکیم سے غیر ظاہر شدہ جائیدادیں اور اکائونٹس تو باقاعدہ بنائے جاسکیں گے لیکن پلاٹوں کی خرید و فروخت اور منتقلی پر نہایت زیادہ 7.5فیصد (3.5فیصد وفاقی حکومت ٹیکس +2فیصد صوبائی حکومت+2 فیصد اسٹیمپ ڈیوٹی) ٹیکس ادا کرنے کی وجہ سے پلاٹ بیچنے اور خریدنے والا اپنی پراپرٹی کو صرف 20سے 25فیصد قیمت پر ڈکلیئر کرکے رجسٹریشن کراتا ہے۔ حکومت اگر 8.5فیصد ٹیکس کو کم کرکے مجموعی 2یا 3فیصد کردے تو پلاٹ بیچنے اور خریدنے والا اصل قیمت یعنی مارکیٹ ویلیو پر اپنی پراپرٹی رجسٹرڈ کرانے کو ترجیح دے گا جس سے اس شعبے میں بلیک منی کا پیدا ہونا ختم ہوجائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ملکی معیشت کیلئے مزید دو ماہ مشکل ہیں۔ وزیراعظم نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یکم جولائی سے آئی ایم ایف پروگرام نافذ العمل ہوجائے گا جس کے بعد ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک بھی’’پالیسی لون‘‘ کے تحت پاکستان کی 2سے 3ارب ڈالر کی مالی مدد کریں گے جس سے ملک پر قرضوں کی ادائیگی کا دبائو کم ہوگا لیکن میرے خیال میںآنے والے دو سال ملکی معیشت کیلئے نہایت مشکل ہیں۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی استحکام حاصل کرنے کیلئے مختصر اور درمیانے مدت کیلئے ایک روڈ میپ کا اعلان کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ہائوسنگ پروجیکٹ سے ملک میں نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی، بجلی اور گیس کے ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا، ایف بی آر کا آئندہ بجٹ ہدف 5550ارب روپے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ کی بحالی کیلئے 20ارب روپے کا ایک فنڈ مختص کردیا گیا ہے جس سے اسٹاک مارکیٹ کو استحکام ملے گا، بے نامی اثاثوں کے قانون کے تحت حکومت بلیک اکانومی کو آفیشنل اکانومی میں لائے گی، سعودی عرب نے یکم جولائی 2019سے 3سال کیلئے سالانہ 3.2ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اسکے علاوہ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کی 1.2ارب ڈالر سالانہ تیل خریدنے کی کریڈٹ سہولت بھی بحال ہو جائے گی جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم ہوگا۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ گردشی قرضوں کو 2020تک مرحلہ وار ختم کردیا جائے گا، جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو موجودہ 11فیصد سے بڑھاکر خطے کے دیگر ممالک کی طرح 16سے 20فیصد تک لایا جائے گا۔ حفیظ شیخ کے مطابق اس وقت ملک میں صرف 20لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں جس میں سے 6لاکھ تنخواہ دار طبقہ ہے جبکہ ملک کا 85فیصد ٹیکس صرف 360کمپنیاں ادا کررہی ہیں جو نہایت کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کے 3لاکھ 41ہزار صنعتی صارفین میں سے صرف 40ہزار صنعتی صارفین ٹیکس ادا کرتے ہیں، اِسی طرح ملک میں تقریباً 5کروڑ بینک اکائونٹس ہیں جن میں صرف 4فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان جو ٹریڈنگ اسٹیٹ بنتا جارہا ہے، کو صنعتی ملک بنانا ہوگا۔ میں مشیر خزانہ سے اتفاق کرتا ہوں کیونکہ پاکستان کا یہی خواب بابائے قوم نےبھی دیکھا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں