آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بوڑھے جہازی کے گلے میں لٹکتا مردہ پرندہ

وبا کے موسم میں محبتوں کا ذکر کیسے کیا جائے۔ صاحب احتساب کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ واللہ! حکومت وقت کو وبا سے تشبیہ نہیں دی۔ طب کے ماہرین وبا اور روگ میں فرق کرتے ہیں۔ خبریں ہیں کہ لاڑکانہ اور اس کے نواح میں ایڈز کے سینکڑوں مریض دریافت ہوئے ہیں۔ اگرچہ بتایا گیا ہے کہ معصوم سندھی بچوں میں ایڈز کے جراثیم آلودہ سرنجوں کے ذریعے منتقل ہوئے ہیں تاہم لاڑکانہ کے ایک غیرت مند شخص نے ایڈز کی تشخیص ہونے پر اپنی بیوی کو قتل کر کے لاش درخت سے لٹکا دی ہے۔ ادھر کراچی کے متعدد حصوں میں پولیو کے وائرس ٹائپ ون کی خطرناک حد تک موجودگی سامنے آئی ہے۔ اگر کراچی میں یہ حال ہے تو شمال کے قبائلی اضلاع کا کیا حال ہو گا جہاں ریاست ابھی مرہم پٹی کے معاملات سے نمٹ رہی ہے۔ ایک صاحب ہوا کرتے تھے، مسلم خان۔ دس برس پہلے سوات میں ان کے نام کا سکہ چلتا تھا۔ ان دنوں ریاست بنفس نفیس سرڈھیری کے مقام پر نماز جمعہ ادا کرنے جایا کرتی تھی۔ مسلم خان نے ان قیامت خیز دنوں میں بیان دیا تھا کہ ان کی عمر 45 برس ہے اور انہیں کبھی پولیو نہیں ہوا۔ سبحان اللہ، کیسے کیسے صاحب کشف تھے، ہم عامیوں کی نگاہ سے اوجھل ہو گئے۔ جہاں رہیں، خوش رہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اہل کار پولیو اور ایڈز وغیرہ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں جہلم، فیصل آباد اور ساہیوال جیسے شہروں کا سروے کر لیتے تو انہیں پیاٹائٹس کی وبائی شرح کا بھی علم ہو جاتا۔ 22کروڑ لوگوں کے لئے بجٹ کا ڈیڑھ فیصد حصہ صحت کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔ حکومت اس سے زیادہ کیا کر سکتی ہے۔ اسے اور بھی بہت سے کام ہیں۔ اور پھر چرخ نیلی فام ایسا بے رحم واقع ہوا ہے کہ چہار جانب سے مسائل اور بحران ایسی لین ڈوری باندھ کر اترتے ہیں گویا زلزلے کے جھٹکوں کا مسلسل ارتعاش دلوں کو دہلا رہا ہے۔ آپ کی دل آسائی کے لئے توسن خیال کو ادب کی طرف موڑتے ہیں۔

اٹھارہویں صدی میں انگریزی کا ایک شاعر کولرج گزرا ہے۔ اس نے قدیم جہازراں کا گیت کے عنوان سے ایک نظم لکھی تھی۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ بوڑھا جہازی اپنے ساتھیوں سمیت گہرے سمندروں کے سفر پر نکلتا ہے۔ اس زمانے میں خطروں سے بچنے کے لئے شگون لیا جاتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آج بھی بڑے لوگ اہم فیصلے کرتے ہوئے استخارہ کر لیتے ہیں۔ تو ایسا ہوا کہ سفر کے آغاز میں لمبے پنکھ اور سفید براق پروں والا ایک پرندہ جہاز کے ساتھ ہو لیا۔ تاحد نظر نیلے پانیوں اور منہ زور لہروں سے لڑتے جہاز رانوں نے اسے نیک شگون جانا۔ اور ہوا بھی یہی کہ کئی دشوار گزار مقامات سے جہاز بسلامت گزر گیا۔ بوڑھے جہازی کے جی میں جانے کیا آئی، تیر کمان اٹھا کر پرندے کو نشانہ بنا لیا۔ پرندے کے مرتے ہی ہوائیں ناموافق ہو گئیں اور تعجب یہ کہ زخمی پرندہ ہوا میں لوٹنیاں کھاتا بوڑھے جہازی کے گلے میں آویزاں ہو گیا۔ حالات بگڑ گئے۔ بوڑھے جہازی کے ساتھی ایک ایک کر کے مرنے لگے۔ وہ جہاز کے عرشے پر تنہا کھڑا تھا اور اس کا جرم طوق کے مانند اس کے گلے میں لٹک رہا تھا۔ کولرج کی نظم کہتی ہے کہ بوڑھے جہازی نے اس عذاب کی کیفیت میں اردگرد تیرتی خوشنما مچھلیوں کے حسن کی تعریف کی۔ تیر کمان کے ظلم سے بسیط محبت اور بقائے باہمی کی خوبصورتی کی طرف لوٹنا مقہور جہازی کے لئے کفارہ ثابت ہوا اور اس کا ٹوٹا ہوا جہاز ایک جزیرے سے آن لگا۔

یہ جاننا مشکل ہے کہ ہمارے حالیہ قومی منظر میں بوڑھا جہازی کون ہے۔ اچھے شگون کی خبر لانے والے پرندے کی موت بھی ہمارے لئے نئی نہیں۔ فرق صرف یہ کہ ہم کسی راج ہنس کو گولی مار دیتے ہیں، کسی رنگلے کبوتر کو پھانسی چڑھا دیتے ہیں، کسی مرغ خوش رنگ کو عقوبت خانوں میں مار دیتے ہیں، کسی فاختہ کو بم سے اڑا دیتے ہیں، کسی طائر کو وطن بدر کر دیتے ہیں اور کسی خوش نوا پرندے کو قید میں ڈال دیتے ہیں۔ کولرج کے بوڑھے جہازی کے گلے میں ایک مردہ پرندہ تھا۔ ہمارے گریبان صد چاک میں صدہا مردہ پرندے معلق ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ ہم نے کمان کی تانت ڈھیلی نہیں کی اور الاؤ میں بھڑکتے شعلوں کی لو کم نہیں کی۔ سید عابد علی عابد کا شعر دیکھیے۔ ساٹھ برس پہلے ہمارے کار لاحاصل کی پیش بینی کر دی تھی۔

مقدرات کی تقسیم ہو رہی تھی جہاں

جو غم دیے نہ گئے تھے، وہ میں نے جا کے لئے

حقیقت احوال تو یک طرفہ خبروں میں دفن ہو گئی لیکن وزیرستان میں آنچ کم ہونے کی کوئی خبر نہیں۔ وزیرستان کا سانحہ ابھی حل طلب تھا کہ بیٹھے بٹھائے چیئرمین نیب کا پرندہ گلے میں آن پڑا۔ ایک محترمہ کی ہمشیرہ کا تقرر جگ ہنسائی لایا۔ پھر پرچہ لگا کہ قرب سلطانی کا اعزاز رکھنے والے معاون خصوصی کے قرابت دار ترقی کی سیڑھیاں پھلانگ گئے۔ ایک محترم چند ہفتے قبل تک نگاہ ناز میں تھے، مراجعت کی تو ہلال عید کی رویت کا قصہ چھیڑ لیا۔ مدعا تو خبروں میں رہنا قرار پایا۔ مدین الاولیا کے سجادہ نشین ملتان میں ڈیرے ڈال کر بے نیازی دکھا رہے ہیں۔ مرے پہ سو درے یہ کہ عدلیہ کی فصیل میں بھی فتیلہ سلگا دیا۔ عید تو بہرصورت گزر جائے گی۔ اس کے بعد بجٹ آئے گا اور اس کے ہم رکاب قیامت آئے گی۔ حشر کی اس گھڑی میں حزب اختلاف سر جوڑ کر بیٹھے گی۔ اصحاب حل و عقد نے دیار یثرب میں خوب ثواب کمایا مگر گھر لوٹیں گے تو بجلی، گیس اور پیٹرول کے جھنجھٹ ہوں گے۔ ہمسایہ ملک کے پردھان سے التفات کی امید بندھی تھی۔ یہ آرزو بھی خاک ہوئی۔ مملکت کی کشتی متلاطم پانیوں میں ہے۔ کولرج کے بوڑھے جہازی کو گلے میں لٹکتی مصیبت سے تب نجات ملی جب اس نے نیلے پانیوں میں تیرتی مچھلیوں کے حسن پر نظر کی اور آنکھ میں بھڑکتے انتقام کو تسلیم اور مفاہمت کے پانیوں سے ٹھنڈا کیا۔ ہمارے سمندر میں 22 کروڑ مچھلیاں تیر رہی ہیں مگر یہ کہ بوڑھا جہازی دستور کے پانیوں سے استصواب نہیں کرتا، تیر پر تیر چلائے جاتا ہے۔ ترکش میں تیر کم رہ گئے ہیں اور مردہ پرندوں کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید